مستقبل کی کوکھ میں کیا پل رہا ہے ؟ 16-05-2014

kal-ki-baat
فضاﺅں میں بہت سارے ایسے سوالات گردش کررہے ہیں جن کا حتمی جواب کسی کے پاس بھی موجود نہیں۔ میرا تعلق چونکہ میڈیا ورلڈ سے رہا ہے اور آج بھی ہے ۔ اس لئے یہ سوالات مجھ سے بھی پوچھے جاتے ہیں ۔ کاش کہ آنے والے کل کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب ہم میں سے کوئی بھی دے سکتا۔ مستقبل ایک ایسی اقلیم ہے جس کا صحیح نقشہ صرف باری تعالیٰ کے سامنے ہوتا ہے۔ اگر اس نقشے کا ذرا سا بھی علم ہمیں ہوسکتا تو میاں نوازشریف کے آس پاس ایسے دانشوروں کی کمی نہ تو1993ءمیں تھی اور نہ ہی 1999ءمیں جو انہیں ” مبنی برقیاس “ کی بجائے ” مبنی برحقیقت“ مشورے دیتے ۔ میاںصاحب کے آس پاس دانشوروں کی کمی آج بھی نہیں ہے۔ اب تو انہیں جناب عطاءالحق قاسمی اور جناب عرفان صدیقی جیسے ” صاحبانِ راست دانش“ کے ساتھ جناب نجم سیٹھی ` جناب امتیاز عالم اور اس قبیل کے دوسرے صاحبانِ فہم و فراست کا قرب بھی حاصل رہتا ہے ۔ یہ راز اُن پر شاید دورِ جلا وطنی میں آشکار ہوا کہ دربار میں ملا دو پیازہ کے ساتھ بیربل بھی ہونا چاہئے۔ نورتن یکجا ہوں تو بحرِ دانش میں موجوں کو اٹھنے اور بپھر کر ساحلوں کی طرف بڑھنے کا روح پرور سماں باندھنے کا موقع ملتا ہے۔
لیکن کل کیا ہوگا اس کا صحیح جواب نہ تو کسی بیربل نہ ہی کسی ملا دو پیازہ اور نہ ہی کسی ابوالفضل یا مان سنگھ کے پاس ہے۔
ہر سینے میں ہر سوال کا الگ الگ جواب انگڑائیاں لے رہا ہوگا۔ لیکن میاں نوازشریف کے سینے میں کیا ہے ¾ جنرل راحیل شریف کے سینے میں کیا ہے` یا پھر ایسے ہی کسی قدآور ” مرد فیصلہ ساز “ یا ” مردِ آہن شکن“ کے سینے میں کیا ہے اس کا علم دوسرے کسی کو نہیں۔ اور یہ علم تو ان میں سے بھی کسی کو نہیں کہ جو گھڑیاں دبے پاﺅں یا سرپٹ دوڑتی قریب آرہی ہیں ان کے جلو قلب یا عقب میں کیا کچھ ہے جو آج کسی کو نظر نہیں آرہا۔
پیشگوئی کا علم برحق ہے۔ مگر پیشگوئی موسموں کے بارے میں تو کی جاسکتی ہے ` مستقبل کی کوکھ میں تو کی جاسکتی ہے ` مستقبل کی کوکھ میں پلنے والے کسی واقعہ یا وقوعہ کے بارے میں نہیںکی جاسکتی۔
اگر مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ جس شخص کو تھپڑ مارنے کا خیال میرے دل و دماغ میں ابھر رہا ہے وہ جواب میں پستول نکال کر مجھے گولی مار دے گا تو میں اس شخص کو تھپڑ نہیں ماروں گا ` آگے بڑھ کر اس کے پورے خاندان کی خیریت دریافت کروں گا۔

Scroll To Top