”بھارت سے بہتر تعلقات کے حوالے سے سب ہی ایک پیج پر ہیں“

  • دو ایٹمی قوت کی حامل ریاستوں کے پاس دوستانہ تعلقات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا
  • وزیر اعظم پاکستان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ تنازعہ کشمیر حل کرنے کیلئے بھارت فیصلہ کرے
  • جنرل قمر جاویدباجوہ نے تقریب میں بھرپور شرکت کرکے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا
  • آنے والے دنوں میں سکھ برداری پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتی ہے

zaheer-babar-logo
کرتار پورراہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے عمران خان کے خطاب کو بلاشبہ ان کے دل کی آواز کہنا غلط نہ ہوگا۔ وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت تو تعلقات بہتر بنانا چاہتی ہے مگر فوج دوستی نہیں ہونے دے گی، لیکن آج میں یہ کہتا ہوںکہ بطور وزیر اعظم ، میری جماعت،پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور مسلح افواج ایک پیج پر کھڑے ہیں ، ہم بھارت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہمارا مسلہ ایک ہے اور وہ ہے تنازعہ کشمیر ،انسان چاند پر پہنچ چکا ہے اور ہم ایک مسلہ حل نہیں کرسکتے “۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے نئی دہلی کو سوچ بدلنا ہوگی۔ وزیراعظم کا کہنا درست ہے کہ پاکستان میںعسکری قیادت سمیت سب ہی سیاسی پارٹیاں بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش رکھتی ہیں، یقینا دوست تو بدلے جاسکتے ہیں پڑوسی نہیں۔ بھارتی پالیسی سازوں کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ ان کے بڑے خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتے جب تک وہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بناتے ہوئے آگے نہیں بڑھتے ۔ وزیر اعظم پاکستان کا کہنا قابل غور ہے کہ اگر فرانس اور جرمنی کئی طویل مخاصمت کے بعد ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہٰیں تو پاکستان اور بھارت کیوں نہیں۔ افسوس کہ بھارت میںانتہاپسند ہندووں نے عملا پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ستم ظریفی کہ بھارتی سیاست ہی نہیں صحافت میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان سے جنگ وجدل کی خواہش دل میں پالے ہوئے ہیں۔ یہ سخت گیر عناصر دل وجان سے تسلیم کرنے کو تیار نہیںکہ دوایٹمی قوت کی حامل ریاستوں میں جنگ وجدل پورے خطے کو تباہی سے دوچار کرسکتا ہے۔ عمران خان نے درست کہا کہ دونوں ملکوں کے پاس اب جنگ کا آپشن نہیںرہا، تنازعات کو بات چیت سے حل کرکے ہی سرخرو ہوا جاسکتا ہے۔
کرتاپور راہداری کی تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی شرکت انتہائی اہمیت کی حامل رہی۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بھارت علاقائی اور عالمی سطح پر کئی دہائیوں سے یہ دہائی دیتا چلا آرہا کہ پاکستانی سیاسی قیادت مذاکرت کے زریعہ مسائل کے حل کی خواہشمند مگر پاک فوج بھارت سے دشمنی برقرار رکھنے کی خواہشمند ہے، آج سچائی یہ ہے کہ اگر ملک کی عسکری قیادت کرتاپور راہداری بنانے کے فیصلہ میں شریک نہ ہوتی تو بہت ممکن تھا یہ معاملہ یوں احسن انداز میںانجام کو نہ پہنچتا۔ بلاشبہ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ، عالمی برداری بھارت آنے والے دنوںمیں بھارت سے مطالبہ کرسکتی ہے کہ وہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے لیے بات چیت کا آغاز کرے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے پاکستان سے مذاکرت کرنا آسان نہیں، آئندہ سال بھارت میںعام انتخابات ہونے جارہے ، مودی سرکار کے وزیر اعظم بنے کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ وہ پاکستان ، اسلام اور مسلمان دشمنی میں پیش پیش رہے، گجرات میںہزاروں نہتے اور بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے والا کوئی اور نہیں نریندر مودی ہی تھا۔ قصائی کے نام سے شہرت پانے والے بھارتی وزیر اعظم سے پاکستان بارے خیر کی توقع رکھنا مشکل ہے۔
دراصل تازہ پیش رفت کے بعد بھارت میں امن پسند قوتوں کو تقویت مل سکتی ہے، بھارت کے وہ سوچنے سمجھنے والے حلقہ جو سالوں سے پاکستان کے ساتھ مذاکرت کی بات کرتے رہے دراصل ان کے موقف کی جیت ہوئی ۔ شائد آنے والے ماہ وسال میں بھارت کے سخت گیر نظریات رکھنے والوں کی فیصلہ کن حثیثت متاثر ہو، ایک خطرہ بہرکیف موجود ہے کہ جب جب پاکستان اور بھارت قریب آئے کوئی نہ کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ ضرور رونما ہوا جس کو بنیاد بناکر فاصلہ پھر بڑھ گے۔دونوں ملکوں کی تاریخ پر نظر رکھنے والے ایک بار پھر فکر مند ہیں کہ موجودہ فضا پھر کشیدگی میں نہ بدل جائے ۔ آئندہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر یا بھارت کے کسی بھی شہر میں کوئی بھی پرتشدد کاروائی بی جے پی کے لیے نعمت سے کم نہ ہوگی۔ بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج کے اس بیان کو ناپسندیگی سے دیکھا جارہا جس میں ان کے بعقول کرتار پور راہداری کے معاملہ میںپیش رفت ہونے کا مطلب یہ نہیںکہ دونوں ملک بات چیت شروع کرنے جارہے،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت سارک کانفرنس میںشریک نہیںہوگا۔ “
وزیر اعظم پاکستان کا اخلاص اپنی جگہ مگر دونوں ملکوں کو قریب لانے کے لیے بھارتی سیاست اور صحافت میں کئی تبدیلیاںلانے کی ضرورت ہے ۔ بھارت کے برعکس پاکستان میں شائد ہی کوئی ایسی سیاسی ومذہبی جماعت ہو جو بھارت کے خلاف نفرت پھیلا کر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی مگر بھارت میں بے جے پی نہ کامیاب ہوئی بلکہ آج برسر اقتدار ہے۔
بلاشبہ آنے والے دنوں میں سکھ برداری دونوں ملکوں کوقریب لانے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے، کروڈوں سکھوں کے لیے کرتارپوری راہداری کا قیام عمل میںآنا کسی عید سے کم نہیں، حد تو یہ ہے (باقی صفحہ نمبر 7بقیہ 46)
کہ بھارت کی وزیر خوراک ہر سمرات کور بادل اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیںاور خطاب کے دوران آبدیدہ ہوگئیں۔ بظاہر بھارت کے لیے آسان نہیں ہوگا کہ وہ اپنی ہاں نمایاں اقلیت سکھ برداری کے جذبات واحساسات کو نظر انداز کرے، اس ضمن میںآنے والے دن اہمیت کے حامل ہیں جو بھارت میں پاکستان سے بہتر تعلقات کے حامیوں کی تعداد کے علاوہ حوصلہ بھی بڑھا سکتے ہیں۔

Scroll To Top