عمران خان کی دھرتی ماں 30-04-2014

kal-ki-baat
آج میری نظروں سے حکومت خیبرپختونخوا کا ایک اشتہار نظر سے گزرا ہے جس میں عمران خان قوم سے مخاطب ہیں۔ عمران خان نے اس اشتہار میں ” دھرتی ماں کی عظیم تر خدمت “ کی بات کی ہے۔ اس بات پر میں چونکے بغیر نہیں رہ سکا۔ یہ ”دھرتی ماں “ کی ترکیب اور سوچ خالصتاًہندو دھرم کی سوچ ہے۔ اس سوچ سے ہمارے سیکولر دانشور بھی گہرا اتفاق رکھتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اے این پی نے اس سوچ کو اپنے ” دھرم “ کے طور پر اختیار کیا۔ کئی دہائیوں تک وہ اپنی ” دھرتی ماں “ کا نام تلاش کرتے رہے۔ بالآخر جناب زرداری کے دور میں انہیں یہ نام مل گیا۔شناخت کے لئے نام بہرحال ایک ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہماری حقیقی شناخت کیا ہے ؟ دھرتی ماں یا و ہ خواب جو علامہ اقبال ؒ نے ہمیں دکھایا تھا۔؟
علامہ اقبال ؒ کا خواب کیا تھا۔؟ اس ضمن میں اُن کا صرف ایک شعر یہاں درج کردینا کافی ہے۔
” ہو قید مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
رہ بحر میں آزادِ وطن صورتِ ماہی “
عمران خان علامہ اقبال ؒ کا تذکرہ بڑے احترام` بڑی فکری انسیت اور بے پناہ جذباتی وابستگی کے ساتھ کرتے ہیں۔ مگر علامہ اقبال ؒ ” دھرتی ماں “ کے شاعر نہیں تھے۔ انہوں نے کبھی ” دھرتی ماں “ کی پوجا کا سبق نہیں دیا۔ ایک سچے مسلمان کے لئے پوری کائنات اس کا بسیرا ہے۔ وہ کسی ” دھرتی ماں “ کا بیٹا نہیں بنتا۔مجھے یقین ہے کہ عمران خان کی نظروں سے اس اشتہار کی عبارت نہیں گزری ہوگی۔ یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس قسم کی باریکیوں میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں۔ اگر ایسا ہے تو انہیں علامہ اقبال ؒ کا نام احتیاط سے لینا چاہئے۔ یہ بات میں بڑے دکھ کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ ریل کو پٹڑی سے اترتے دیکھ کر شدید دکھ ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

Scroll To Top