جس قوم کے لیڈر محمد ﷺ ہوںکیا زوال اس کا دائمی مقدر بن سکتا ہے ؟

aaj-ki-baat-new

گیارہ سال قبل مجھے عمرے کی چوتھی مرتبہ سعادت نصیب ہوئی۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ میری ملاقات ایک مصری پروفیسر سے ہوئی جو انگریزی بول اور سمجھ لیتاتھا۔
میں نے اس سے پوچھا۔ ” حسنی مبارک کے بعد مصر کی قیادت کون کرے گا؟ “
میر ے اس سوال کا اس کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا مگر اس نے جواب میں اپنا سوال داغ دیا۔
”مشرف کے بعد پاکستان کی قیادت کون کرے گا؟“
” جس طرح آپ نہیں جانتے کہ آپ کا لیڈر کل کون ہوگا؟ اسی طرح میںبھی نہیں جانتا کہ پاکستان کی قیادت کل کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ مستقبل کسی نے نہیں دیکھا۔ آنے والے لمحے کے دامن میں کیا ہے کوئی نہیں جان سکتا۔ مگر ایک بات میںپورے تیّقن کے ساتھ جانتا ہوں ۔ اور اگر آپ بھی میرے ہی جیسے مسلمان ہیںتو یہ بات آپ بھی یقینا جانتے ہوں گے۔“ میں نے کہا۔
” میں نہیں جانتا کہ آپ کیسے مسلمان ہیں لیکن الحمد اللہ میں مسلمان نہ ہوتا تو یہاں کیسے ہوتا؟“ اس مصری پروفیسر نے جواب دیا۔
” کیا آپ مجھ سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ میں مسلمان کیوںاور کیسے ہوں ؟“ میں نے کہا۔
” آپ مسلمان کیوں اور کیسے ہیں؟“ اس نے برجستہ پوچھ لیا۔
” اس لئے کہ میرے لیڈر کا نام ہے محمد ﷺ “ میں نے بھی برجستہ جواب دیا۔“ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے لیڈر کا نام کیا ہے ۔؟“
پہلے اس نے سوالیہ اور بدحواس سی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ پھر اس کے منہ سے بھی یہی نام نکلا۔ ” محمد ﷺ “
” اگر ہمارا لیڈر ایک ہے۔ اور ہم یہاں اسی لیڈر کی وجہ سے اکٹھے موجود ہیں تو ہماری شناخت ایک کیوں نہیں ہے۔؟“ میں نے موصوف سے پوچھا۔ وہ جواب دینے کی بجائے مجھ سے لپٹ گیا۔ پھر بڑے جذباتی لہجے میں بولا۔
“You have a strong point”
آج مجھے یہ گفتگو دہرانے کی ضرورت اس لئے پیش آرہی ہے کہ اپنی شناخت کے حوالے سے جب بھی میرے ذہن میں کوئی سوال یا خیال ابھرتا ہے تو مجھے اپنے وجود میں ایک ہی نام کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اس ہادی اعظم ﷺ کا نام جسے خالق کا ئنات نے اپنا آخری پیغام بنا کر بنی نو ع انسان کی ہدایت اورقیادت کے لئے بھیجا۔
اگر کرہءارض پر کوئی بھی ایسا خطہ ہے جس پر کوئی بھی ایسا بشر ہے جو ” دعویٰ مسلمانی“ رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہو کہ وہ ”امتِ محمدی ﷺ “ میں سے نہیں ` اور حضرت محمد ﷺ کو اپنا لیڈر نہیں مانتا تو اس کی ” مسلمانی“ کو کیسے مانا جاسکتا ہے ؟
یہاں یہ بات ضرور مدنظر رکھی جانی چاہئے کہ محمد ﷺ کا خدا صرف ان مسلمانوں کا خدا نہیں تھا جو آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے دوران ایمان لائے`محمد ﷺ کا خدا پوری نسلِ انسانی کا خدا ہے ` اور اس خدا نے محمد ﷺ کو صرف حجاز میں خدا کی حاکمیت قائم کرنے اور اسے دارالاسلام بنانے کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا تھا ` خدا کو مقصود پوری دنیا کو دارالاسلام بنانا تھا۔اور اس مقصد کے لئے خدا نے اپنے کلام (قرآن)کی صورت میں پوری نسلِ انسانی کو ایک آئین ایک نظام اور ایک سرچشمہ ہدایت دیا۔
اگر یہ دنیا کلی طور پر کبھی ” دارالاسلام “ نہ بن سکی اور ایسے ادوار آتے رہے جن میں آئینِ خداوندی کو سرد خانے میں ڈال دیاگیا اور ایسی قومیں اور نسلیں جنم لیتی رہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی ہدایت اور رہبری سے موڑ کر خدا اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمانوں اور باغیوں کو منصبِ قیادت پر بٹھایا ` تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہ لیا جائے کہ جو ذمہ داری قادرِ مطلق نے اپنے محبوب کو سونپی تھی اور جسے آپ ﷺ نے اپنی امت کو سونپ دیا وہ متروک ہوچکی ہے۔
آج بھی محمد ﷺ کے خدا کا کلام ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے۔ آج بھی محمدی ﷺ قیادت ہمارے راستوں اور ہماری منزلوں کا تعین کرنے کے لئے موجود ہے۔ اور آج بھی ہمارے قبضہ قدرت میں زمین کا ایک ٹکڑا موجود ہے جس پر ہم آج کا مدینہ بسا سکتے ہیں ۔ ضرورت صرف اس عزم ِصمیم کی چنگاریاں اپنی روح میں داخل کرنے کی ہے جس کی قوت آفرینیوں کی بدولت پیغمبر اسلام ﷺ کا وہ تاریخی سفر شروع ہوا تھا جس نے دنیا کی تاریخ تبدیل کرکے رکھ دی۔ اور جس کے نتیجے میں ان گنت تاج اچھالے گئے اور ان گنت تخت گرائے گئے۔
کیا بے بسی کی اس اداس رات کو جب آنحضرت ﷺ اپنے یارِغار کے ساتھ مکہ کے جابروں اور ظالموں سے جان بچا کر ایک نئے گھر کی تلاش میں نکلے تھے ¾ روئے زمین پر کوئی بھی شخص یہ پیشگوئی کرسکتا تھا کہ اس بے سروساماں شخص کو اپنا سالارِاعظم بنانے والوں میں سے ایک شخص صر ف بیس برس بعد اس مسجد سے اذان بلند کرے گا جو کعبہ شریف کے قبلہ بننے سے پہلے مسلمانوں کا قبلہ تھی۔؟
کیا تاریخ کا اتنا بڑا انقلاب کسی سیاست کسی قیادت اور کسی نظام اور آئین کے بغیر بپا ہوا تھا؟
اگر ریاستِ مدینہ کا قیام سیاست نہیں تھا ` اگر اس ریاست کو چلانا قیادت نہیںتھا ` اور اگر جس نظام اور جس آئین کے تحت مدینہ سے ایک ناقابل تسخیر انقلاب آفرین قوت اٹھی ` اسے ہمارے دانشور نظام اورآئین ماننے کے لئے تیار نہیں ` تو پھر اسے ” تقلیدِ ابوجہل“ نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔؟
اس ضمن میں زمین کے جس ٹکڑے کاذکر میں نے اوپر کیا ہے ` اس کا نام لینے میں مجھے نہ صرف یہ کہ کوئی عار نہیں ` اس کانام لینا میرے لئے باعث صد افتخار ہے۔
یہ خطہءزمین پاکستان کے نام سے 1947ءمیں ایک مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیںجو کسی نہ کسی حیثیت سے سو سال پہلے موجودنہیں تھا۔ یا دو سو سال ` تین سو سال ‘پانچ سو سال یا آٹھ سو سال پہلے موجود نہیںتھا ۔ آپ کے ذہن میں فوراً اسرائیل کا نام آئے گا۔ لیکن اسرائیل کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ اسرائیل نام اور تصور کے طور پر ہزار ہا سال سے موجود رہا ہے۔ آپ کے ذہن میں سوویت یونین کا نام بھی آئے گا۔ سو برس قبل اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اس کا قیام 1917ءکے بعد بالشویک یا کمیونسٹ انقلاب کے نتیجے میں ایک ” ایمپائر“ کے طور پر عمل میںآیا۔ ایک نظریے نے بہت سارے ممالک کو جبر کے ذریعے یا رضاکارانہ طور پر ایک مملکت میں ڈھال دیا۔ ان ممالک کے لوگ مختلف نسلوں زبانوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن 75برس تک ایک ” نظریے“ نے انہیں ایک ”شناخت“ کی زنجیر میںجکڑے رکھا۔ جیسے ہی وہ زنجیر ٹوٹی ` یہ مملکت بھی پارہ پارہ ہوگئی۔ آج سوویت یونین نام کی کوئی مملکت نہیں۔
یہی بات یوگو سلاویہ کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔یہ مملکت بھی پہلے موجود نہیںتھی ` پھر بنی اور پھر ان ہی وجوہ کی بناءپر ٹوٹ گئی جن وجوہ نے سوویت یونین کو توڑا تھا۔ آج یوگوسلاویہ کی کوئی شناخت نہیں۔ اگر شناخت ہے تو سربیا کی ہے ` کروشیا کی ہے ` بوسنیا کی ہے اور مونٹینگروکی ہے۔
میں نے یہ تمام مثالیں اس بات پر زور دینے کے لئے دی ہیں کہ جس ” شناخت“ کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا اس سے کبھی بھی ` اور کسی بھی انداز میں انحراف کیاگیا تو خدانخواستہ پاکستان کا بھی وہی حشر ہوگا جو سوویت یونین اور یوگوسلاویہ کا ہوچکا ہے۔
جو بات اس ضمن میں ہمیں تقویت دیتی ہے وہ یہ ہے کہ جس شناخت نے سوویت یونین اور یوگوسلاویہ کو مملکتوں کا روپ دیا اس شناخت کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔
جس شناخت نے پاکستان کو جنم دیا ہے اس کی تاریخ14سو برس پرانی ہے اور اس کی جڑیں ہمارے ایمان کے مطابق منشائے الٰہی میں ہیں۔
میںجانتا ہوں کہ اس ضمن میں ہمارے بہت سارے دانشور قائداعظم ؒ کے 11اگست 1947ءکے خطاب کا حوالہ بڑے اشتیاق کے ساتھ دیا کرتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں جو پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی (یعنی ریاستِ مدینہ)اس میں اکثریت کفار یہودیوں اور نصاریٰ کی تھی۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کے قالب میں ریاستِ مدینہ کی روح پھونکنے کا عہد زندہ رکھنا چاہئے تو ہماری سوچ میں یقینی طور پر مسلموں اور غیر مسلموں کے درمیان طے پانے والا وہ عمرانی اور قانونی معاہدہ موجود ہوتا ہے جسے مورّخ میثاق ِمدینہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
یہ بحث آگے چل کر بہت آگے بڑھے گی مگر آج کے کالم کا اختتام اس بات کو سامنے لاکر اور اس پر زور دے کر کروں گا کہ آنحضرت ﷺ کے دور میں ہی مسلمانوں نے ایک غیر مسلم مملکت (حبشہ)میں ذمہ دار شہریوں کی زندگی بسر کرنے کی مثال قائم کردی تھی اور اس کے بعد ایک ایسی مسلم ریاست(ریاستِ مدینہ( کی بنیادیں بھی ڈال دی تھیں جس میں مسلمان ابتدائی طور پر اقلیت میں رہے اور جس کے اندر قانون ` حقوق اور انصاف کے معاملے میں کوئی امتیاز نہیں برتا گیا۔
میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کے سامنے پاکستان کے لئے ریاست ِمدینہ کا ہی ماڈل تھا۔
قائداعظم ؒ نے اپنی کئی تقاریر میں ” اسلامی فلاحی مملکت“ کا تصور پیش کیا۔ اور جہاں تک علامہ اقبالؒ کا تعلق ہے انہوں نے تو ” جواب شکوہ“ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے مرض کا علاج بھی تجویز کردیا:۔
” کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں“
مائیکل اے پامر نے 2007ءمیںایک کتاب لکھی تھی جس کاعنوان تھا۔
The Last Crusade
اس میںموصوف نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسلام طبعی طور پر جدیدیت کے تقاضوں میں ڈھلنے کے ناقابل ہے اس لئے شکست و ریخت اس کا مقدر ہے۔
ہمارے بہت سارے روشن خیال دانشور مائیکل پامرکی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن دور جدید میں اسلامی شناخت کے دونوں بڑے پرچم بردار یعنی علامہ اقبال ؒ اور محمد علی جناح ؒ یقینِ کامل رکھتے تھے کہ اسلام کی روح میں اتنی متحرک قوت ہے کہ جدیدیت کا کوئی چیلنج اس کے لئے ناقابل ِتسخیر نہیں۔
اگر اسلام جدیدیت کا پرچم بردار نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ پر سلسلہ نبوت ختم کیوں کرتا؟

Scroll To Top