بیل آؤٹ پیکج : وزیراعظم کا آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے سے صاف انکار

  • وزارت خزانہ کو ٹیکس بڑھانے سمیت دیگر کڑی شرائط نہ ماننے کی ہدایت،وزیراعظم نے ٹیکس، معاشی اصلاحات اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی شرائط ماننے پر اتفاق کیا جبکہ جنرل سیلزٹیکس18فیصد اور150ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے سے واضح طور پر انکار کردیا
  • سی پیک منصوبوں کی تفصیلات اور شرائط ،بجلی اور گیس کی قیمت میں بیس فی صد اضافے ، ڈالرکی قدر کے تعین میں حکومت کی عدم مداخلت ،محصولات کا ہدف چار ہزار سات سو ارب مقرر کرنے کے مطالبات ،آئی ایم ایف وفد بائیس نومبر کو اپنی حتمی سفارشات و شرائط پاکستان کے حوالے کرے گا

اسلام آباد(الاخبار نیوز): وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف بیل آو¿ٹ پیکج پر اس کی تمام شرائط ماننے سے انکار کردیا ہے، وزیرخزانہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ٹیکس بڑھانے سمیت دیگر کڑی شرائط نہ مانی جائیں۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف وفد سے مذاکرات کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے وزیر اعظم سے عمران خان سے ملاقات کی، اس موقع پر وزارت خزانہ کے حکام نے وزیر اعظم کو آئی ایم ایف ٹیم سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اس حوالے سے ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے آئی ایم ایف بیل آو¿ٹ پیکج کی تمام شرائط ماننے سے انکار کرتے ہوئے وزارت خزانہ کو ٹیکس بڑھانے سمیت دیگر کڑی شرائط نہ ماننے کی ہدایت دی۔وزیراعظم نے ٹیکس، معاشی اصلاحات اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی شرائط ماننے پر اتفاق کیا جبکہ جنرل سیلزٹیکس18فیصد اور150ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے سے واضح طور پر انکار کردیا۔یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے بعض مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کے بعد اسلام آباد میں جاری مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، دو ہفتے سے جاری مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کے بدلے سی پیک منصوبوں کی تفصیلات اور شرائط مانگی تھیں۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس کی قیمت میں بیس فی صد اضافے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا، آئی ایم ایف وفد کا یہ مطالبہ تھا کہ ڈالرکی قدر کے تعین میں حکومت کا عمل دخل نہ ہو، ساتھ ہی محصولات کا ہدف چار ہزار سات سو ارب ہونا چاہیے۔ذرائع وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف سے مذاکرات بے نتیجہ رہنے کی تصدیق کی ہے، اب آئی ایم ایف کا وفد پندرہ جنوری کے بعد دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔

Scroll To Top