سانحہ ماڈل ٹاﺅن: نئی جے آئی ٹی کیلئے سپریم کورٹ کا لارجر بنچ تشکیل

  • ڈاکٹر طاہر القادری کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے استدعا ، نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور رانا ثناء اللہ کے وکلاء نے عدالت سے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا
  • سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی متاثرہ بچی بسمہ امجد کی درخواست پر چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی،لارجربنچ میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت 5 ججز شامل ہونگے دیگر صوبوں کی نمائندگی بھی ہو گی، سماعت 5 دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگی

لاہور(الاخبار نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی متاثرہ بچی بسمہ امجد کی درخواست پر سماعت کے دوران نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری میں سانحہ ماڈل ٹاو¿ن سے متعلق بسمہ امجد کی درخواست پر سماعت کی۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے 6 اکتوبر کو متاثرہ بچی بسمہ امجد کی درخواست پر نوٹس لیا تھا۔17 نومبر کو یہ درخواست سماعت کے لیے مقرر کی گئی اور سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت 139 افراد کو نوٹس جاری کیے۔ سماعت کے دوران پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ سابق آئی جی مشتاق سکھیرا پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد ہمارا کیس زیرو پر آ گیا ہے۔طاہر القادری نے استدعا کی کہ کیس کی دوبارہ تفتیش کے لیے نئی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے وکلاء نے عدالت سے تیاری کے لیے وقت مانگ لیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ شہباز شریف کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش کیا جائے گا، جو اِن دنوں آشیانہ ہاو¿سنگ اسکینڈل کے سلسلے میں نیب لاہور کی تحویل میں ہیں، تاہم نیب ذرائع نے ان کی پیشی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے وکیل اعظم تارڑ ان کی نمائندگی کریں گے۔سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی نئی جے آئی ٹی کے قیام کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔لارجر بینچ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت 5 جج صاحبان شامل ہوں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لارجر بینچ میں دیگر صوبوں کی نمائندگی بھی ہوگی، جو 5 دسمبر سے کیس کی سماعت کرے گا۔

Scroll To Top