آزادی ءاظہار کا شوشہ ! 26-04-2014

kal-ki-baat

اگرچہ یہ بات کافی عرصے سے بار بار کہی جارہی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اور فوجی قیادت ایک ہی پیج پر ہے ’ لیکن ہنوز اُن لوگوں کو بھی اس سٹیٹمنٹ کی صداقت کا یقین نہیں آیا جن کے منہ پر یہ بات بار بار آرہی ہے۔
اس ضمن میں تازہ ترین بیان وزیراعظم میاں نوازشریف نے دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ مسائل حل کرنے میں سِول اور فوجی قیادتیں ایک ہیں۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور اس معاملے میں جیسی افواہوں کا بازار گرم ہوتا رہتا ہے وہ تمام کی تمام غلط ثابت ہوں۔ لوگوں کو سِول اور فوجی قیادتوں کے ایک ہی پیج پر ہونے کا یقین بہرحال اسی وقت آئے گا جب ” اختلافی “ معاملات پر رائے دینے کے لئے آرمی چیف کو سامنے آنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ مثال کے طور پر آئی ایس آئی کو قاتلوں کا ادارہ قرار دینے والے عناصر یا اصحاب کو پیغام دینے کے لئے آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ آرمی چیف کی بجائے وزیراعظم کرتے تو ساری دنیا جان جاتی کہ دونوں میں مکمل یکجہتی ہے۔
جیو کی سکرین پر جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر اگر پندرہ بیس منٹ کے اندر ہٹوادی جاتی توسمجھا جاتا کہ سِول حکومت کے کنٹرول میں کام کرنے والا ادارہ پیمرا وزیراعظم کے دفتر سے صحیح ہدایات وصول کرچکا ہے۔
وزیراعظم صاحب نے اپنے تازہ ترین بیان میں اظہار رائے کی آزادی کو ہر آدمی کا بنیادی حق قرار دیا ہے۔
کیا ریاست مدینہ میں یہ حق کسی کو حاصل تھا کہ وہ آنحضرت کے خلاف کھلم کھلا اظہار رائے کرتا پھرے؟ دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر مِرر گروپ نے اظہار رائے کے حق کو بے دریغ استعمال کرنے کی کوشش کی تھی تو وزیراعظم چرچل نے فوراً سنسر نافذ کردیا تھا ۔ یہ بات ہرگز نہ بھلائی جائے کہ پاکستان جب سے قائم ہوا ہے کسی نہ کسی محاذ پر حالت ِ جنگ میں ہے۔ جب کسی قوم یا ملک کو اتنے بڑے پیمانے پر حالتِ جنگ کا سامنا رہتا ہو تو وہ اظہار رائے کی آزادی کی عیاشی کو کیسے اپنے سیاسی کلچر کا حصہ بنا سکتی ہے۔
ہمارے حب الوطنوں کو ایک بات ہمیشہ یادرکھنی ہوگی کہ غداری کا ارتکاب ہمیشہ اعلیٰ وارفع نظریات کا پرچم اٹھا کر کیا جاتا ہے۔
پاکستان اپنے کسی بھی ادارے کو ریاست سے زیادہ مضبوط دکھائی دینے کی عیاشی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے وہ تو ریاست کی اپنی مضبوطی کی ضامن امین اور علامت ہے۔

Scroll To Top