ایک گھناﺅنے کھیل کا ڈراپ سین ! 25-04-2014

kal-ki-baat
جس شام کو جناب حامد میر پر کراچی میں حملہ ہوا اسی شام کو جنرل )ر(پرویز مشرف اسلام آباد میں واقع اپنے فارم ہاﺅس کو چھوڑ کر کراچی چلے گئے۔ جیو نیوز پر قبضہ حامد میر پر قاتلانہ حملے سے متعلق خبروں کا تھا اور باقی تمام چینلز پر جنرل )ر(پرویز مشرف کے ” عازمِ کراچی “ ہونے کے واقعے پررننگ کمنٹری ہو رہی تھی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے باقی ساری دنیا اچانک خوابِ خرگوش میں چلی گئی ہو اور روئے زمین پر کہیں بھی کوئی خطہ ایسا نہ ہو جو ٹی وی چینلز کو کوئی اور خبر فراہم کرنے کی اہلیت سے محروم نہ کردیا گیا ہو۔
اس قسم کے واقعات پر عموماً حکومت کی مشینری حرکت میں آیا کرتی ہے لیکن اس روز معاملات کا کنٹرول حکومت کے ہاتھوں میں آہی نہ سکا۔ حکومت کے حرکت میں آنے سے پہلے ہی سارے معاملات جیو کی انتظامیہ نے اپنے ہاتھوں میں لے لئے۔ بلکہ زیادہ مناسب یہ کہناہوگا کہ ” جیو“ سے منسلک گینگ آف فور نے برق رفتاری کے ساتھ متذکرہ سانحے کی تحقیقات کرنے ` اس کے پیچھے موجود مقاصد کا تعین کرنے اور اس میں ملوث ملزم اور اس کے ساتھیوں کی نشان دہی کرنے کی ذمہ داری خود سنبھال لی۔
9بجے کے خبرنامے سے پہلے ہی دنیا بھر کو یہ یقین دلانے کی مہم پورے زور و شور کے ساتھ جیو نیوز پرشروع ہوچکی تھی کہ مطلوبہ ملزم کوئی اور نہیں پاک فوج کے بازوئے صف شکن آئی ایس آئی کا سربراہ ہے۔ رات بھر جیو ٹی وی کی سکرین پر جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر اس انداز میں ڈسپلے کی جاتی رہی کہ جیسے وہ کوئی مفرور مجرم ہوں۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ بات ممکن ہے کہ ملک کا اپنا کوئی نیوز نیٹ ورک ` اور وہ بھی سب سے بڑا نیٹ ورک اپنی ہی فوج کی اعلیٰ ترین شخصیات کو سنگین الزامات کے کٹہرے میں لاکھڑا کرے۔ پاکستان مخالف غیر ملکی میڈیا میںتو پاکستان کی فوج کو ایک ناقابل اعتبار اور غیر ذمہ دار بے لگام فورس (Rogue Army)کے طور پر تو ایک عرصے سے پیش کیا جارہا ہے لیکن ہمارے اپنے وطن کا ایک میڈیا ہاﺅس ہر قسم کی احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ہی فوج کے خلاف اعلانِ جنگ کردے ` یہ بات ناقابل یقین لگ رہی تھی۔
لیکن جو کچھ ہوا وہ بہرحال اس رات ہوا۔ حامد میر کی جان کتنی ہی قیمتی سہی مگر اتنی قیمتی بہرحال نہیں تھی کہ اس کی خاطر پاک فوج کو قاتلوں کے ایک ٹولے کے طور پر پیش کرنے کا انتہائی اقدام کیا جائے ۔ میں یہ نہیں مانتا کہ متذکرہ میڈیا ہاﺅس کے مالکان جیوزنیوز کی نشریات سے بے خبر تھے ` یا اُن کے پاس گینگ آف فور (یا فائیو )کو روکنے کا اختیار نہیں تھا۔ آئی ایس آئی پر فردجرم عائد کرتے ہوئے ”ایرے “ نے کہا کہ دھمکیاں مجھے بھی ملتی رہی ہیں ` ” غیرے “ نے فرمایا کہ جان میری بھی خطرے میں رہتی ہے ` ” نتھو“ بولا کہ میں تو بال بال آئی ایس آئی کی گولیوں سے بچتا رہا ہوں اور خیرے نے ارشاد فرمایا کہ ” کل میری باری ہوگی۔ میں بھی کھٹکتا ہوں اِن لوگوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح۔ میری یادداشت میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ چند گھنٹوں کے اندر کسی عدالت میں بھی کسی کے خلاف اتنی خوفناک چارج شیٹ پیش کی گئی ہو۔
اس گھناﺅنے کھیل کے پیچھے کون کون تھا میں نہیں جانتا۔ مگر یہ جانتا ہوں کہ پورے ڈیڑھ دن تک پاک فوج اور آئی ایس آئی کو اپنے راستے کا کانٹا سمجھنے والوں کو یہ یقین رہا کہ بس اب جی ایچ کیو کی آخری رسومات ادا کرنا باقی رہ گئی ہیں۔
آج ہماری تاریخ کہاں کھڑی ہے ہم سب جانتے ہیں ۔ کچھ لوگ اپنا تھوک خود چاٹ رہے ہیں ۔ اور کچھ خود ہی اپنے آپ کو اس جال میں پھنسا دیکھ رہے ہیں جس میں وہ ” جنرلز “ کو پھنسا دیکھنا چاہتے تھے۔
آگے کیا ہوگا اس کا جواب اگلے چند روز میں مل جائے گا۔ میری دعاہے کہ گناہوں کی سزا صرف گنہگاروں کو ملے۔ بے گناہ نہ مارے جائیں۔

Scroll To Top