جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو فواد چوہدری کو ضرورت ہی نہیں پڑے گی کہ کسی کو چور یا ڈاکو کہیں ۔۔۔

aaj-ki-baat-newaaj

چاروں طرف سے الزامات کی آندھیوں میں گھِرے ہوئے جناب آصف علی زرداری نے ایک بار پھر بالواسطہ طور پر فوج کو للکارا ہے۔ ایک بار پھر انہوں نے سندھ کا رڈ کو نہایت نفاست کے ساتھ کھیلتے ہوئے فوج کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ اگر پاکستان قائم ہے تو ان کے یعنی زرداری صاحب کے فراخدلانہ رویے اور صبرو تحمل کی وجہ سے قائم ہے۔ وہ براہ راست تو فوج سے مخاطب نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے کسی کا نام لیا ہے لیکن وہ مخاطب اسلام آباد سے تھے اور ان کے پیغام کا لب لباب یہ تھا کہ ” تم “ یعنی ” فوج“ ایسے” نالائق“ لوگوں کی سرپرستی کرتے رہے ہو جن کی جمہوریت میں کوئی جڑیاں نہیں جس کی وجہ سے ملک کو اتنا سارا نقصان پہنچا ہے۔اگر ” تم“ یعنی ’ ’فوج“ جمہوری قوتوں یعنی ” مجھے “ اپنی سرپرستی عطا کرتے تو ملک کی کایا پلٹ کر رکھ دیتا۔۔۔
میں نہیں جانتا کہ یہ خطاب زرداری صاحب نے حالت ِ ہوش میں فرمایا ہے یا پھر ان پر Demensia (یادداشت کا غائب ہونا )حملہ ہوا ہے۔ مگر کسی نہ کسی کو چاہئے تھا کہ انہیں بتاتا کہ گزشتہ 10برس سے سندھ میں ان کی بلاشرکت غیر حکومت رہی ہے اور2008ءسے 2013ءتک وہ ملک میں سیاہ و سفید کے مالک تھے۔۔۔
میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ” بدمعاشیہ “ کے اردگرد شکنجہ جس قدر تنگ ہوتا جارہا ہے اسی قدر ان کی آہ وبکااور چیخوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔۔۔
یہ ” بدمعاشیہ “ کی اصطلاح ڈاکٹر صاحب باقاعدگی سے استعمال کررہے ہیں اور اب پاکستان کا بچہ بچہ بھی جان چکا ہے کہ اس شناخت کے نیچے کون کون سے طبقے اور کون کون سے اشخاص آتے ہیں۔
عام طور پر ” اشرافیہ “ کی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے جو انگریزی کے لفظ gentryکا ترجمہ ہے۔ آپ ان لوگوں کو سفید پوش کہہ سکتے ہیں۔ کچھ سفید پوش محض اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے سفید پوشی کرتے ہیں اور کچھ سفید پوش واقعی سفید پوش ہوتے ہیں او ر اپنی سفید پوشاک پر ہلکا سا داغ بھی برداشت نہیں کرتے اور فوراً اپنی پوشاک بدل لیتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ اس سفید پوشاک کے نیچے سیاہ کاریوں کی ایک داستان پوشیدہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹر شاہد مسعود اس طبقے کے لئے ” بدمعاشیہ “ کی اصطلاح استعمال کرنے کے شوقین ہیں۔۔۔
ہمارے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کو پارلیمنٹ میں اسی بدمعاشیہ کا سامنا ہے۔ پارلیمنٹ کے تمام سفید پوشوں کا اصرار ہے کہ چور کو چور اور ڈاکو کو ڈاکو نہ کہا جائے کیوں کہ اس طرح عوامی نمائندوں کا استحقاق مجروح ہوتا ہے۔عوامی نمائندوں کا استحقاق مجروح کرتے رہنے کے جرم میں فواد چوہدری کو سینٹ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔۔۔
میرے خیال اب بات کرنے کا انداز تبدیل کردیا جائے تاکہ کسی کا استحقاق مجروح نہ ہو۔۔۔
اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ پاکستان کو لوُٹا گیا ہے۔۔۔ اور لوٹتے وہی ہیں جو طاقتور ہوتے ہیں۔ جن کے ہاتھ میں اقتدار ہوتا ہے۔ یہ اقتدار بندوق کی نالی کا کام دیتا ہے جس کا رخ دشمن کی فوجوں کی طرف ہونے کی بجائے عوام کی دولت کی طرف ہوتا ہے۔۔۔
یہ جاننے کے لئے کہ لوٹنے والے کون تھے ` اُن لوگوں کی ایک فہرست تیار کرلی جائے جو اقتدار میں رہے ہیں۔۔۔ اس کے بعد اُن لوگوں کے اثاثوں کی فہرست تیار کی جائے۔ اگر تمام اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے تو خفیہ اثاثوں کا کھوج لگانے کے لئے ایک طاقتور ادارہ بنایا جائے ۔ جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو فواد چوہدری کو ضرورت ہی نہیں پڑے گی کہ کسی کو چور یا ڈاکو کہیں۔۔۔
جہاں تک زرداری صاحب کے جمہوری تشخص کا تعلق ہے اس کے بارے میں حقائق کا تعین کرنے کے لئے ایک طریقہ کار موجود ہے۔ پاکستان کی تینوں بڑی پارٹیوں کے لیڈروں کے بارے میں ایک ریفرنڈم کرایا جائے ۔ اس ریفرنڈم کی نگرانی اقوام متحدہ سے کرائی جاسکتی ہے۔۔۔
زرداری صاحب کو معلوم ہوجائے گا کہ جمہور یعنی عوام کس کے ساتھ ہیں زرداری صاحب کے ساتھ ` نوازشریف کے ساتھ یا عمران خان کے ساتھ۔۔۔

Scroll To Top