نیپولین ، ہٹلر حکمت عملی تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے ناکام ہوئے:حالات کے مطابق حکمت عملی تبدیل نہ کرنیوالا رہنماکامیاب نہیں ہوتا، عمران خان

  • کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نہیں بنائیں گے،ہمارا مقابلہ جمہوریت پسند سیاستدانوں سے نہیں بلکہ کرمنلز سے ہے،یہ لوگ جمہوریت کی آڑ میں اقتدار حاصل کرکے لوٹ مار کرتے ہیں، ایک سال میں ملک ترقی کے شاہراہ پر گامزن ہوجائے گا
  • نوازشریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا بلکہ جھوٹ بولا ہے،لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا کام جاری ہے،دبئی میں پاکستانیوں کے15ارب ڈالرز کا سراغ لگا لیا ہے ،برطانیہ،امریکہ اور سوئٹزرلینڈ سے اس بارے معاہدے ہوچکے ہیں،وزیر اعظم کی کالم نگاروں کے وفد سے خصوصی گفتگو
اسلام آباد:۔ وزیر اعظم عمران خان سے کالم نگاروں کا ایک وفد ملاقات کر رہے ہیں

اسلام آباد:۔ وزیر اعظم عمران خان سے کالم نگاروں کا ایک وفد ملاقات کر رہے ہیں

اسلام آباد (آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ جمہوریت پسند سیاستدانوں سے نہیں بلکہ کرمنلز سے ہے۔یہ لوگ جمہوریت کی آڑ میں صرف اس لئے اقتدار حاصل کرتے ہیں کہ حکمران بن کر لوٹ مار کرسکیں،میری حکومت نے سو روز میں حکومت کی سمت کا تعین کرکے ابتدائی کام مکمل کرلیا ہے۔اگلے تین ماہ مشکل کے ہیں۔چھ ماہ میں بہت بہتری آئے گی جبکہ ایک سال میں ملک ترقی کے شاہراہ پر گامزن ہوجائے گا۔جو سیاستدان یوٹرن نہیں لیتا وہ سیاستدان ہی نہیں،احمق آدمی ہے جو اپنی بات پر ڈٹ جاتا ہے،عقلمند انسان یوٹرن لیتا ہے، یوٹرن اچھے کیلئے ہونا چاہئے ،نیپولین اور ہٹلر یوٹرن نہ لینے کی وجہ سے ناکام ہوئے، نوازشریف کی طرح جھوٹ کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا کام جاری ہے،دوبئی میں پاکستانیوں کے15ارب ڈالرز کا سراغ لگا لیا ہے۔برطانیہ،امریکہ اور سوئٹزرلینڈ سے معاہدے ہوچکے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سینئر صحافیوں اور ایڈیٹرز کے وفد سے خصوصی ملاقات میںکیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آج تک حقیقی جمہوریت نہیں آئی ۔ اپوزیشن والے جسے جمہوریت کہتے ہیں وہ دراصل لوٹ مار کے لئے حکمرانی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔ اس وقت ساری اسمبلی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین پر پھنسی ہوئی ہے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ پی اے سی کا چیئرمین ایک ایسے شخص کو بنا دیا جائے جو کرپٹ ہو اور جیل سے احتساب کا کام کرے ، ہم ایسا نہیں ہونے دینگے ۔ وزیراعظم نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مغرب سے اس قدر قرضے اور ایڈ لینے کے باوجود ہم غریب کے غریب ہیں ، سالانہ ایک ہزار ارب روپے غریب ملکوں سے امیر ملکوں میں منتقل ہورہے ہیں ۔ سوئٹزرلینڈ کے پاس پہاڑوں اور گائیں کے علاوہ کیا ہے لیکن وہ امیر ترین ملک ہے ۔ ان کی امیری منی لانڈرنگ کے پیسوں کی بدولت ہے ،جو یہاں سے منتقل ہوئے ۔ اسی منی لانڈرنگ کے لئے جمہوریت کی آڑ میں حکومت حاصل کی جاتی ہے ۔ وزیراعظم نے مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس بے تحاشہ وسائل ہیں اور ہمارے کرپٹ اور نااہل حکمرانوں نے ان وسائل کا پانچ فیصد بھی تلاش نہیں کیا ۔ صرف چھ فیصد زمین پر تیل و گیس کے کنویں کھودے گئے ۔ اس دھرتی پر تانبے ، سونا اور جست کے بے پناہ ذخائر ہیں جنہیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے،جو ہم کررہے ہیں ۔ ہمارے پاس کم و پیش 500 ارب ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں ، لیکن یہ سب قومی خزانہ تب قوم کے کام آئے گا جب ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی اور ادارے طاقتور ہونگے ، ادارے کمزور ہوں تو ملک امیر نہیں ہوسکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ جب حکمران کرپٹ ہوگا تو وہ اداروں کو کمزور کریگا تاکہ اسے کوئی نہ پکڑے سکے ۔ نواز شریف اور زرداری نے اسی لئے باریاں لگائی ہوئی تھیں ۔ اب کی جان پر بنی ہوئی ہے ، حالانکہ ہم نے تو ابھی کوئی نیا کیس نہیں بنایا ۔ وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ ایف آئی اے اور نیب سمیت تمام تحقیقاتی اداروں میں خرابیاں ہیں ۔ ایف آئی اے کو ہم سنبھال رہے ہیں ، لیکن نیب کا مسئلہ مشکل ہے ۔ نیب ہمارے کنٹرول میں نہیں ۔ نیب میں صلاحیت کا فقدان ہے ۔ یہ لوگ اپنی سمت کا تعین نہیں کرسکے ۔ کبھی بیورو کریٹ کو پکڑتے ہیں اور کبھی سیاستدان کو اور کبھی کسی اور سمت نکل جاتے ہیں ۔ ہم نے نیب والوں کو پیغام بھیجا ہے کہ آپ اپنی سمت درست کریں ۔ اگر بڑے بڑے بیس تیس کیسز پر توجہ مرکوز کریں تو لوٹی ہوئی دولت بھی مل جائے گی اور کرپشن جڑ سے اکھڑ جائے گی ۔ وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کی کہ یہ جو ہمارے سو دنوں کی کارکردگی کا شور مچارہے ہیں دراصل انہیں پتہ ہے کہ حکومت سو دن میں اپنی سمت کا تعین کرتی ہے ۔ کارکردگی تو اس کے بعد شروع ہوگی اپوزیشن کو پتہ ہے کہ ہم نے سمت کا تعین کرلیا ہے جس کے نتیجے میں یہ کرپٹ لوگ نہیں بچیں گے ، اس لئے شور کررہے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ 2018ءکے انتخابات ملکی سیاسی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حالیہ انتخابات میں دھاندلی کی گنجائش ہوتی تو ہم قومی اسمبلی کی 14 اور صوبائی اسمبلیوں کی 40 نشستوں پر اتنے کم فرق سے نہ ہارتے ۔ کسی حلقے میں تین ہزار سے بھی کم کا فرق تھا اور کسی میں 4000 ووٹوں کا فرق تھا ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آر ٹی ایس کی خرابی ہمیشہ رہی ۔ یہ دھاندلی کا سبب ہرگز نہیں ۔ ہم نے الیکشن تحقیقات کے لئے کمیٹی بنادی ہے اب سب کچھ سامنے آجائے گا ۔ جو دھاندلی کا شور مچارہے ہیں وہ ثبوت دیں ۔ ان لوگوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ اب یہ نہیں بچیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلدیاتی نظام نافذ کیا جائیگا ۔ ہم نے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے اب صرف قانون سازی کرنا باقی ہے جس کے بعد تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوجائیں گے ۔ لاہور کا میئر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوگا اور پھر اپنی کیبنٹ بنائے گا ۔ وہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوگا ۔ اس طرح تحصیل سطح پر بھی اختیارات بلدیاتی اداروں کے سپرد کردیئے جائیں گے ۔ وزیراعظم نے مزید بتایا کہ پرائمری ہیلتھ اور ایجوکیشن کا نظام مرکزی کنٹرول میں رکھنے سے بہت نقصانات ہوتے ہیں ۔ اب جب میئر اورڈپٹی میئر براہ راست منتخب ہوگا تو پھر وہ وسائل عوام کی مرضی اور ضرورت کے مطابق خرچ کرے گا ۔ ہم نے خیبر پختونخوا میں گاﺅں کی سطح پر لوگوں کو بااختیار بنایا تو بہترین نتائج آئے اور اسی وجہ سے کے پی کے غیرجانبدار عوام نے تاریخ میں دوسری مرتبہ کسی حکومت کو موقع دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں جمہوریت لانی ہے تو پھر لوکل باڈیز نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین نے سعودی عرب سے بھی بہتر پیکج دیا ہے،اپوزیشن والے صرف خود کو بچانے کے لئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،یہ کہتے ہیں کہ ہم چائنا سے بات چیت کی تفصیلات کیوں نہیں بتا رہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی پارٹنر شپ ہے،جو کچھ چین نے پاکستان کو دیا ہے اس کی تفصیلات آ¶ٹ کردی جائیں تو چائنا سے دوسرے ممالک ناراض ہوجائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے چائنا سے ٹھوس پیکج لیا ہے جو سعودی پیکج سے کہیں زیادہ ہے۔ہم نے دورے کے دوران بہت کامیاب معاملات طے کئے،ہم نے چار باتیں طے کی ہیں،ایک تو ہم اپنی ایکسپورٹ بڑھائیں گے،جو اس وقت گر کر21ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔دوسرا ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے،گزشتہ10سالوں میں اگر چین کی انویسٹمنٹ نکال دیں تو سرمایہ کاری صفر ہے۔تیسرے نمبر پر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے لیگل طریقے سے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرنے پر توجہ دیں گے۔کئی ممالک ہم سے چھوٹے ہیں لیکن انہوں نے اپنے لوگوں کو اعتماد دیا تو وہ بنکوں کے ذریعے رقوم اپنے ملک بھیجتے ہیں اور اس بدولت ان ممالک میں خوشحالی ہے۔چوتھے نمبر پر ہم کسی سے مدد لینے کے بجائے ٹیکنالوجی کی منتقلی چاہتے ہیں،یہی وہ اہم شعبہ ہے جس میں ہم نے چائنا سے کھل کر بات کی ہے۔چین نہ صرف سرمایہ کاری کرے گا بلکہ ہمارے سپیشل زونز میں کارخانے لگیں گے۔چین سے سابق حکومت نے جو معاہدہ کیا وہ تو صرف ایک روڈ اورچند بجلی گھروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔اب ہم نے ٹھیک سے بات کرلی ہے۔چین اپنی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کرے گا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے اپوزیشن کے یوٹرن کے الزام پر کہا کہ جو یوٹرن نہیں لیتا وہ سیاستدان ہی نہیں۔اسکا تعلق عقل سے ہے۔میں کرکٹ میں کپتان تھا تو ایک حکمت عملی کے تحت میدان میں اترتا تھا لیکن مخالف ٹیم اگر کوئی ایسا فیصلہ لے تو ہم فوراً یوٹرن لے کر نئی حکمت عملی بنا لیتے تھے اور ہمیشہ کامیاب رہے۔جویوٹرن نہیں لیتا وہ نقصان کرتا ہے۔نیپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہیں لیا اور نتیجے میں لاکھوں فوجیں روس کی بمباری میں مروا دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سب سے اہم کام منی لانڈرنگ کو روکنا ہے،یہ کام ہم نے شروع کیا ہے تو لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ابھی بیرون ملک پاکستانیوں کو چھپائی گئی دولت کا صرف4سے5فیصد پتہ چلاہے، ہم یہ ساری دولت واپس لائیں گے

Scroll To Top