آج کے دور میں ریاستِ مدینہ کا ماڈل حیرت انگیز کا میابی کے ساتھ چین نے اپنایا ہے۔۔۔

aaj-ki-baat-new

یہ ایک حقیقت ہے کہ میں تحریک انصاف کارکن اور ووٹرہوں۔ میں ملک کی اس سب سے بڑی سیاسی جماعت کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ ساتھ اس کے کور گروپ کا کارکن بھی رہ چکا ہوں۔ مجھے پارٹی کے چیئرمین عمرا ن خان کا بھرپور اعتماد بھی حاصل ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے بھی پہلے انہوں نے 04اگست 2018ءکو اپنے دستخطوں کے ساتھ مجھے پی ٹی آئی کا سینئر میڈیا کنسلٹنٹ مقرر کیا۔ ا گرچہ یہ ایک رسمی نوعیت کا عہدہ ہے اور اس کے ساتھ نہ تو کوئی ذمہ داری اور نہ ہی کوئی اختیار منسلک ہے۔ مگر اس کی بڑی علامتی حیثیت ہے۔ اپنے دستخطوں سے عمران خان نے اپنے کے مشن کے ساتھ میری پرُخلوص وابستگی پر ایک طرح سے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ میں اس مشن کو دو لفظوں میں بیان کروں گا جو میرے اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ایک مضبوط فکری رشتے کا باعث بنے۔ اور وہ دو لفظ ہیں ریاستِ مدینہ ۔۔۔یہ دو لفظ ملتے ہیں تو ایک سوچ جنم لیتی ہے۔ اور جب یہ سوچ ذہن میں ابھرتی ہے تو فوراً سب سے پہلے سرور کائنات رحمت الالعالمین سید الانبیاءحضرت محمد ﷺ کا اسم مبارک ذہن میں آتا ہے اور اس کے ساتھ ہی خلفائے راشدین کا پورا دور چشم ِ تصور کے سامنے گھوم جاتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان ” ریاستِ مدینہ “ کو اپنے نئے پاکستان کا ماڈل قرار د ے چکے ہیں۔ اور ہمارے درمیان فکری و سیاسی رشتہ قائم ہی اس بناءپر ہوا تھا کہ ہم دونوں اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ پاکستان دورِ حاضر کی ریاست ِ مدینہ بن کر رہے گا۔اگرچہ عمران خان جس نظام میں جس حکومت کے وزیراعظم ہیں اس کے اور ریاست ِ مدینہ کے درمیان نہ صرف یہ کہ بہت بڑا فاصلہ ہے بلکہ یہ بھی کہ دونوں میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ پھر بھی میں پورے تیقّن کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جس شخص کا نام عمران خان نیازی ہے وہ اپنی تمام ترکمزوریوں کے باوجود خلوصِ نیت اور بے پناہ جذباتی شدتوں کے ساتھ پاکستان کو ریاستِ مدینہ کے آئینے میں دیکھنے کا خواہشمند ہے۔
میرا ان کے ساتھ واحد اختلاف یہ ہے کہ جس نظام میں وہ وزیراعظم بنے ہیں اسے مسمار کئے بغیر ریاست ِ مدینہ قائم نہیں ہوسکتی۔۔۔
یہ طلبِ زر کا نظام ہے۔ یہ طلب ِ اقتدار کا نظام ہے۔ یہ جھوٹ اور فریب کا نظام ہے۔ یہ وفاداریوں کی خرید و فروخت کا نظام ہے۔ یہ بدلتے مفادات کے ساتھ ساتھ سوچوں کی تبدیلی کا نظام ہے۔ یہ مفاد پرستی اور اقربا پروری کا نظام ہے۔ یہ ان مجبوریوں کا نظام ہے جو نا اہل لوگوں کو اعلیٰ ذمہ داریوں پر فائز کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ یہ نظام صرف ایک صورت میں کامیاب ہوسکتا ہے کہ اسے چلانے والی ٹیم کا ہر فرد عمران خان ہو۔۔۔ کیمیائی اصول یہ ہے کہ پانی اور تیل کا مرکب نہیں بن سکتا ۔ یہ آپس میں ملتے ہی نہیں ہیں ۔ جیسے آگ سمندر میں نہیں بھڑک سکتی۔ جیسے چینی اور مرچوں کی ڈش تیار نہیں کی جاسکتی ۔۔۔
ریاستِ مدینہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی تعلیمات کے اردگرد گھومتی تھی۔۔۔ آنحضرت ﷺ کی کابینہ کا ہررکن نور محمد ﷺ سے مالا مال تھا۔ یہ درست ہے کہ اس میں مختلف مزاجوں کے لوگ تھے لیکن کسی کا بھی مزاج فرمانِ رسول ﷺ سے نہیں ٹکراتا تھا۔۔۔
یہ ساری باتیں قلمبند کرنے کے بعد میں اصل بات کی طرف آنا چاہتا ہوں۔۔۔
ریاست ِ مدینہ میں کوئی اپوزیشن نہیں تھی۔حُکمِ امیر کو چیلنج کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں تھا۔۔۔حکومت میں صرف ایک ہی پارٹی تھی ` ایک ہی جماعت تھی اور وہ حضرت محمد ﷺ کی جماعت تھی۔ اختلاف رائے ہوتا تھا تو اس جماعت کے اندر ہوتا تھا۔ اور اس اختلاف رائے کے نتیجے میںایک متفقہ فیصلہ طے ضرور ہوتا تھا۔ یہ امر واقعہ ہے کہ آنحضر ت ﷺ رسول ِ خدا ہونے کے باوجود صحابہ کرام سے مشاورت ضرورکرتے تھے۔۔۔ اگر حضرت ابوبکر ؓ کی رائے میں وزن ہوتا تھا تو اسے اختیار کرلیا جاتا تھا اور اگر وزن حضرت عمر فاروق ؓ کی رائے میں زیادہ ہوتا تھا تو وہ اختیار کرلی جاتی تھی۔
جو بات ذہن نشین کی جانے والی ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی مجلس شوریٰ کا ہر شخص کارہائے نمایاں انجام دینے کی صلاحیت سے مالا مال تھا۔
متضاد سوچوں متضاد نظریات متضاد فکری وفاداریوں اور متضاد مفادات کے حامل لوگ ریاست ِ مدینہ کیسے قائم کرسکتے ہیں ؟ لیاقت اور اہلیت کی بات تو بعد میں آتی ہے۔۔۔
ریاستِ مدینہ کے قیام کی شرط اول یہ ہے کہ ریاست” یک“ جماعتی نظام پر قائم ہو۔ یعنی حکمرانی کا پورا ڈھانچہ محمد ﷺ کی جماعت کے اردگرد قائم ہو۔۔۔
ریاستِ مدینہ کا یہ ماڈل آج کے دو ر میں چین نے اختیار کیاہے اور جمہوریت کی ثناءخوانی میں پیش پیش امریکہ کے اندر بھی یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ چین کی تحیّرخیز کا میابی کا راز اس کے نظام میں ہے۔۔۔
میرا ایمان کا مل ہے کہ پاکستان میں ریاست ِ مدینہ جیسی مملکت ضرور وجود میں آئے گی۔
اس کے لئے Pluralismکا خاتمہ لازمی ہوگا۔
اپنی اسی سوچ کی وجہ سے میں نے گزشتہ برس ” ون نیشن موومنٹ “ کے نام سے ایک تنظیم رجسٹر کرائی تھی۔ فی الحال یہ تنظیم میری سوچ اور میری فائلوں میں ہے لیکن نیا پاکستان اس تنظیم کے مقاصد کو بنیاد بنائے بغیر قائم نہیں ہوگا۔۔۔

Scroll To Top