کسی کو وزراءکی تضحیک کا حق نہیں:سینٹ رولنگ پر پوری کابینہ کو افسوس ہے ، فواد چوہدری

  • چیئرمین سینیٹ ایوان میں توازن برقرار نہیں رکھ سکتے تو حکومت کو بھی حکمت عملی ازسرنوطے کرنا ہو گی ، وزیر دفاع کو معاملہ دیکھنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، کسی بھی وفاقی سیکرٹری کی عبوری تقرری چھ ماہ کی ہو گی کارکردگی کی بنیاد پر اڑھائی سال کی مستقل تقرری ہو گی
  • وفاق کے ذمے میڈیا کے 23کروڑ روپے کی فوری ادائیگی کا فیصلہ ، میڈیا ہاﺅسز کو بزنس ماڈل تبدیل کرنا ہوگا، صرف حکومتی وسائل پر میڈیا اداروں کو چلانا ممکن نہیں، وفاقی وزیر اطلاعات کی کابینہ اجلاس بارے بریفنگ

اسلام آباد(الاخبار نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 29 نومبر کو 100 روزہ پلان کے بارے میں قوم کو آگاہ کریں گے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جو ہم نے 100 دن میں کیا ہے، کوئی اور حکومت اس کے قریب بھی نہیں پہنچ پائی۔ڈنمارک سے پاکستان لائی گئی بچیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ دو بچیوں حرا طاہر اور اقصیٰ طاہر کو پاکستان لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک ہماری عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کریں تو باہر کی عدالتوں کے فیصلوں کا احترام بھی ہم پر لازم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک سے پاکستان لائے گئے بچوں کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں واپس بھیجنا ہے یا نہیں۔بیرون ملک قید پاکستان کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرون ملک جیلوں میں قید افراد کے حوالے سے وزیراعظم کو شدید تحفظات ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کو قانونی معاونت دینا اور ان کے مفادات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے تاکہ انہیں یہ محسوس ہو کہ حکومت ہمارے پیچھے کھڑی ہے۔امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم سب کی خواہش ہے کہ عافیہ صدیقی پاکستان آئیں اور انہیں پاکستان لانے کی پوری کوشش کریں گے۔میڈیا کے واجبات کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے وفاق کے ذمہ میڈیا کے تقریباً 23 کروڑ روپے کے فنڈز ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے میڈیا اداروں کو فوری ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ میڈیا مالکان عام ورکرز کا خیال کریں، یہ نہیں ہو سکتا کہ میڈیا مالکان اس بات پر انحصار کریں کہ حکومت انہیں پیسے دے تو وہ اپنے ادارے چلائیں، میڈیا مالکان کو اپنے اداروں کو چلانے کے لیے کوئی بزنس ماڈل بنانا ہو گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ مشاہد اللہ خان نے جس طرح سے وزیراعظم اور میرے حوالے سے بری زبان استعمال کی اس پر تو معافی نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر ہم غریب عوام کے پیسے کے بارے میں بات کریں تو ہمیں معافی کا کہا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رولنگ پر کابینہ مطمئن نہیں ہے، پوری کابینہ نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں اس بات پر معافی مانگ لینی چاہیے کہ عوام کا پیسا کہاں گیا، یہ پوچھنا واقعی معافی مانگنے کے لائق ہے کہ عوام کا پیسا کیسے خرچ ہوا؟وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو وزرائ کی تضحیک کا حق نہیں، ہم عوام کے حق کی بات کریں تو معافی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، یہ لوگ بابا فرید شکر گنج کی زمین بھی بیچ کر کھا گئے، پارلیمنٹ میں کچھ لوگ ہیں جب یہ باتیں کی جائیں تو ان کا مزاج خراب ہو جاتا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ میں منتخب ہو کر آیا ہوں اور مجھے لاکھوں لوگوں نے ووٹ دیے ہیں جب کہ چیئرمین سینیٹ اس طرح منتخب ہو کر نہیں آئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر چیئرمین سینیٹ ایوان میں توازن نہیں لا سکتے تو پھر حکومت کو بھی سوچنا پڑے گا کہ ہماری اس سلسلے میں کیا حکمت عملی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس معاملے کو دیکھے گی، ورنہ اس طرح سے معاملات نہیں چل سکتے۔بیورو کریشی میں تقرر و تبادلوں کے حوالے سے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بیورو کریسی کو سیاسی اثرو رسوخ سے بچانا ضروری ہے، بیوروکریٹس کی تعیناتی ا±ن کی کارکردگی سے جڑی ہونی چاہیئیں اور بیورو کریسی کی تعیناتی سے متعلق کابینہ کمیٹی بنائی گئی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بیورو کریسی کے افسران اور سیکریٹریز کی مدت تعیناتی پر جامع پالیسی بنانے کافیصلہ کیا ہے، تجویز دی گئی ہے کہ فیڈرل سیکریٹریز کو 6 ماہ کے لیے وزارتوں میں تعینات کیا جائے گا، اس مدت میں سیکریٹریز بہتر کام کرتے ہیں تو انہیں دو سے تین سال کے لیے مستقل کر دیا جائے گا۔

Scroll To Top