افغان حکام کا رویہ افسوسناک قرار،مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا تھا ، شہریار آفریدی

  • ڈھائی گھنٹے انتظار کے بعد کہا گیا کہ میت پاکستانی حکام کو نہیں دے سکتے، میت قبائلی نمائندوں یا محسن داوڑ کے حوالے کرنے پر اصرار
  • معاملہ افغان حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھائیں گے،وزیرمملکت برائے داخلہ کی شہید طاہر دواڑ کے بھائی کے ہمراہ پریس کانفرنس

لنڈی کوتل(الاخبار نیوز) اسلام آباد سے اغوا کے بعد افغانستان میں قتل ہونے والے ایس پی رورل پشاور طاہر خان داوڑ کی میت افغان حکام نے مذاکرات کے بعد پاکستانی وفد کے حوالے کردی جس کے بعد اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور پہنچا دیا گیا۔ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی وصول کرنے کے لیے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی، ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر محمود اسلم سمیت دیگر حکام طورخم بارڈر پہنچے تاہم افغان حکام نے میت حوالے کرنے سے انکار کیا۔ افغان حکام کا اصرار تھا کہ وہ طاہر داوڑ کی میت قبائلی نمائندوں یا محسن داوڑ کے حوالے کریں گے، جس کے بعد حکومت کی اجازت سے محسن داوڑ بھی طورخم بارڈر پہنچے اور مذاکرات میں حصہ لیا۔کامیاب مذاکرات کے بعد افغان حکام کی جانب سے ایس پی طاہر داوڑ کی میت رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور قبائلی عمائدین کے حوالے کی گئی۔ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق ایس پی طاہر داوڑ کی میت کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور پہنچا دیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ ایس پی طاہر خان داوڑ کی میت کی حوالگی کے حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے اپنایا جانے والا رویہ تکلیف دہ تھا۔پشاور میں خیبرپختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کے بھائی اور دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ وہ میت لینے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر طورخم سرحد گئے لیکن جو رویہ طور خم باڈر پر دیکھا وہ تکلیف دے تھا۔شہریارآفریدی نے کہا کہ ایسا رویہ کیوں اپنایا گیا افغان حکومت کو سوچنا ہوگا، ڈھائی گھنٹے ہمیں کھڑا کیا گیا پھر کہا کہ ہم پاکستان کو لاش نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کی لاش نہ دینے کا مقصد اس معاملے پر پاکستان میں انتشار پھیلانا تھا، افغان حکومت کے ساتھ معاملہ سفارتی سطح پر اٹھایئں گے۔شہریار آفریدی نے کہا کہ افغان حکومت کا شہید کی لاش پر سیاست کرنے کا مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا تھا۔یاد رہے کہ ایس پی طاہر داوڑ اسلام آباد کے علاقے جی ٹین سے 26 اکتوبر کو لاپتہ ہوئے جن کی لاش دو روز قبل افغانستان کے صوبہ ننگرہا ر سے ملی اور دفتر خارجہ نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کی۔وزیراعظم عمران خان نے شہید ایس پی طاہر خان داوڑ کے بیہمانہ قتل پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ وہ اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ قتل کی فوری تحقیقات کیلئے اسلام آباد پولیس سے تعاون کیا جائے۔۔۔۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی تصدیق کی گئی ہے کہ شہید ایس پی طاہرخان داوڑ کی میت وطن پہنچادی گئی ہے اور ایس پی طاہر خان کی میت سرکاری وفد وطن واپس لایا۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق طاہر داوڑ کو 2 روز قبل افغانستان میں بہیمانہ اندازمیں قتل کیا گیا، طاہر داوڑ کے خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور ایس پی طاہرخان کے درجات کی بلندی کیلئے دعاگو ہیں۔دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے سرکاری وفد کو افغانستان بھیجا گیا، وفد ہی طاہر داوڑ کی میت وطن لایا، طاہر خان داوڑ کے 13 نومبر کو قتل کی خبر پر افغان حکومت سے فوری رابطہ کیا اور افغان حکومت کو خبر کی تصدیق اور میت کی حوالگی کیلئے کہا۔ترجمان کے مطابق پاکستانی سفیر افغان حکام کو مسلسل لاش کی واپسی کیلئے زور دیتے رہے اور میت کی حوالگی میں تاخیر پر افغان ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج بھی کیا گیا۔دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ امید ہے افغان حکام طاہر داوڑ کے قتل کے محرکات جاننے کیلئے تعاون یقینی بنائیں گے۔

Scroll To Top