حکومت، اپوزیشن کشیدگی: سینیٹ کاروائی معطل ہوکر رہ گئی

  • جب تک وزیراطلاعات معافی نہیں مانگیںگے ایوان میں نہیں آئیں گے، اپوزیشن، بیشترایجنڈا دھرے کا دھرا رہ گیا
  • متحدہ اپوزیشن کا واک آٹ ،چیئرمین نے وفاقی وزیر اطلاعات کو ماحول خراب کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انکے خلاف رولنگ دیدی

اسلام آباد(صباح نیوز)حکومت اپوزیشن میں کشیدگی پر سینیٹ کی کاروائی معطل ہوکر گئی بیشترایجنڈا دھرے کا دھرا رہ گیا وقفہ سوالات اورنئے میڈیا قانون کے تحت تجویزکردہ انضباطی ادارے سے متعلق میڈیا تنظیموں کی جانب سے ظاہر کے گئے تحفظات سے متعلق اپوزیشن کا توجہ مبذول کروانے کا نوٹس موخرہوگیا اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ جب تک وزیراطلاعات معافی نہیں مانگیںگے ایوان میں نہیں آئیں گے جس پر وزیراطلاعات کے خلاف ایوان بالا میں فیصلہ آگیا ۔جمعرات کی صبح ساڑھے دس بجے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ جس میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراطلاعات کے گزشتہ روز کے بیان پر احتجاج کیا۔ وزیراطلاعات کے خلاف رولنگ آنے سے قبل نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو نے نکتہ اعتراض پرخبردار کیا کہ جب تک مذکورہ وزیر معافی نہیں مانگتا، ہم ایوان میں نہیں آئیں گے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیرمین و اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ (چیرمین)آپ کی کوئی بات سنتا ہے اور نہ ہی مائیک بند کرنے پر بات ختم کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ بات وزیر کرتے ہیں اور معافی قائد ایوان کو مانگنی پڑتی ہے، ہم نے آمر کے دور میں بھی اس طرح کے تماشے نہیں دیکھے۔ ایوان کے ساتھ جو برتا روا ہے یہ قابل قبول نہیں۔قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کوحق نہیں کہ کسی وزیرکی ذات سے متعلق بات کرے، ہمارے وزیر اور مشاہد اللہ کی تقریر منگوائی جائے، بتایا جائے کہ کس نے غیرپارلیمانی الفاظ استعمال کئے، آپ کمیٹی بنا دیں بطور پارلیمانی لیڈر معافی مانگ سکتا ہوں۔شبلی فرازکے موقف پر پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ وزیر بغیر ایجنڈے کے بولنا شروع کرتے ہیں اورماحول خراب کرتے ہیں، جس کا جو دل کرے وہ بات کر کے چلا جاتا ہے، آپ اپنے وزیرکو تحفظ دے رہے ہیں۔ جس کے بعد متحدہ اپوزیشن نے ایوان سے واک آٹ کردیا اور کورم ٹوٹ گیا، کشیدہ ماحول میں چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا تاہم کاروائی آدھے گھنٹے تک معطل رہی۔ ایوان کی کاروائی کا بیشترایجنڈا دھرے کا دھرا رہ گیا.دونوںتوجہ مبذول کروانے کے نوٹسز اور وقفہ سوالات موخرکردیئے گئے۔ساڑھے گیارہ بجے اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر چیئرمین سینیٹ نے وزیر اطلاعات کے روئیے پر رولنگ دے دی، انہوں نے کہا کہ ایوان کا ماحول خراب کرنے کی ذمہ داری وزیر اطلاعات فواد چوہدری پر عائد ہوتی ہے، جب تک وزیر اطلاعات معافی نہیں مانگتے تو جاری اجلاس میں ان کے داخلے پر پابندی لگاتا ہوں۔

Scroll To Top