اعدادوشمار کے حوالے سے چین کی کشادگی پالیسز کی کامیابیاں اور اہداف

چین گزشتہ چالیس سال سے ملک میں اصلاحات اور کشادگی پر مبنی پالیسز اور اسٹریٹیجز کو ملکی سطع پر جاری رکھے ہوئے ہے اور ان چار عشروں کے سفر کے دوران چین نے جہاں ملکی سطع ڈیویلپمینٹ کے حوالے سے اہم اہداف اور قومی سطع پر خوشحالی کے عوامل کو یقینی بنایا ہے وہیں چین نے عالمی سطع پر عالمی معیشت کے حوالے سے کلیدی اہداف حاصل کیئے ہیں۔ اس طرح سے مستبقل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چین نے اپنی مارکیٹ کو بیرونی دنیا کے لیے مزید وسعت دینے کے حوالے سے عزم کا اظہار کیا ہے، اور اس ضمن میں چین نے ملکی درامدات اور برامدات کی شرح میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے رواں ماہ نومبر5-10کے مابین چین کی پہلی بین الاقوامی درامدی ایکسپو کا انعقاد کیا جو دنیا میں کسی بھی ملک کی جانب سے قومی سطع پر منعقدہ پہلی درامدی ایکسپو تھی، چین کی درامدات اور برامدات کے حوالے سے چین کی وزارتِ کامرس کی جانب سے حالیہ جانب اعدادوشمار کے نتائج درج زیل ہیں ۔ چین کا حالیہ چند سالوں میں درامدات کے شعبے میں مجموعی حجم 18.1فیصد کے تناسب سے بڑھا ہے اور گزشتہ چار عشروں میں بہتر اصلاحات اور کشادگی پر مبنی پالیسز کی بدولت چین کا مجموعی درامدی حجم 18.7بلین یوآن سے بڑھ کر آج 12.5ٹریلین یوآن تک جا پہنچا ہے۔ رواں ماہ منعقدہ شنگھاہی درامدی ایکسپو میں دنیا بھر کے172ممالک کی 3600انٹر پرائسز سے شرکت کی، جن میں 200Fortuneاور پانچ سو بین الاقوامی کمپنیز اور کارپوریشنز نے شرکت کی، اور دنیا کی بیشتر بڑی کمپنیز نے شنگھاہی درامدی ایکسپو کے موقع پر اپنی 100سے زائد نئی جدید پراڈکٹس کی لانچنگ بھی تاکہ دنیا کے اس سب سے بڑئے تجارتی پلیٹ فارم سے سب انٹر پرائسز اور کسٹمرز مستفید ہو سکیں ۔ چین ہمیشہ سے ملکی درامدات کو بڑھانے کی پالیسی کو بڑھانے کے حوالے سے کاربند رہا ہے بالخصوص کیمونسٹ پارٹی آف چائینہ کے18ویں نیشنل کانگریس کے اجلاس کے بعد سے چین نے درامدی پالیسی کو بڑھانے کے حوالے سے اہم میکنزیم تشکیل دیا جس کے حالیہ چند سالوں میں خاطر خواہ اور مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ۔ 1978کے بعد سے2017تک چین کی مجموعی درامدی حجم میں سالانہ کی بنیاد پر 18.1فیصد اضافے کے تسلسل کو بر قرار رکھا گیا ہے، اور چین کا مجموعی درامدی حجم 18.7بلین یوآن سے بڑھ کر آج12.5ٹریلین یوآن تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری جانب 1982سے 2017کے مابین چین کی سروسز کے شعبے میں درامدی حجم میں 230گنا اضافہ ہوا ہے جو سالانہ کی شرح میں سولہ فیصد سے زائد ہے۔ چین نے گزشتہ سال2017میں مجومعی طور پر1.84ٹریلین مالیت کی مجموعی مصنوعات بیرونی دنیا سے درامد کی ہیں جس میں 2002کے مقابلے میں سولہ گنا اضافہ ہوا ہے جب چین نے عالمی تجارتی تنظیم(WTO)میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس عرصے میں چین کے سروسز امپورٹ کی شرح اور خسارے کی شرح بالترتیب467بلین ڈالر اور239.5بلین ڈالر رہی ہے جو 2002 کے مقابلے میں 10.1فیصد798فیصد رہی ہے۔ آج چین دنیا میں عالمی سطع پر غیر ملکی مصنوعات کی درامد کرنے والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہے اور درامدی سروسز حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست میں بھی چین کا دوسرا بڑا نمبر ہے اور یوں عالمی درامدی مجموعی حجم کا چین کے درامد کردہ غیر ملکی مصنوعات میں چین کی مجموعی شرح عالمی شرح کے 10فیصد کے برابر ہے۔ چین کی وزارتِ کامرس کے زیر ِ اہتمام ادارہ برائے بین الاقوامی ریسرچ کے ڈپٹی ڈائریکٹربائی منگ کیمطابق چین کے درامدی ڈھانچے کے موثر اور فعال میکنزیم کے چین کے مقامی پیداواری عوامل پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے، جس سے درامدات اور برامدات کے شعبوں میں ایک متوازن عمل پیدا ہوگا۔ اسی طرح ایکیڈیمی آف چائینہ کونسل برائے فروغِ بین الاقوامی تجارت کے ڈائریکٹر ژاﺅ پنگ کیمطابق چین اپنے درامدات سے متعلق ڈھانچے میں بڑھاﺅ ایک عملی پالیسی کے طور پر کر رہا ہے تاکہ چین میں تیزی سے بڑھتے ہوئے معیارِ زندگی کے عمل کو برقرار رکھا جا سکے۔ اور اس ضمن میں لوگوں کی ڈیمانڈز اور طلب کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک عشرے میں چینی عوام کی غیر ملکی مصنوعات کی کھپت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اسکی شرح دوہرے عدد میں داخل ہو چکی ہے۔ اس طرح سے اعلی معیار کی مصنوعات کی کھپت میں اضافے سے اور درامدات سے متعلق سروسز میں اضافے سے چینی عوام کی مصنوعات کی کھپت سے متعلق چوائس میں اضافہ ہوگا، غیر ملکی کھپت سے متعلق مصنوعات میں اضافہ ہوگا، مصنوعات سے متعلق کھپت کے بنیادی ڈھانچے میں اضافہ ہوگا، اور ان غیر ملکی مصنوعات کی اپ گریڈیشن میں اضافہ ہوگا، اس طرح سے مجموعی طور پر لوگوں کی غیر ملکی مصنوعات کے حوالے سے دلچسپی، طلب اور انتخاب میں بھی اضافہ ہوگا، دوسری جانب عالمی سطع پر چین کی درامدات میں گروتھ کی شرح میں موجود عالمی شرح کے مقابلے میں 5.3فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے جن کی وجہ سے چین کی مارکیٹ میں عالمی سطع پر خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور بین الاقوامی انٹر پرائسز کو چین کی مارکیٹ سے ڈیویلپمنٹ کے بیشتر اور فوری مواقع پیسر آئیں گے۔ اس حوالے سے ایک آسٹریلوی ہیلتھ سپلیمنٹ کمپنی بلیک مورز کے ملازم نے اس لکھاری سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شنگھاہی درامدی ایکسپو کا انعقاد انکی کمپنی کے لیے بہت اہمیت کا ھامل ہے اور اس ایونٹ کے انعقاد سے چین عالمی سطع پر آزادانہ تجارت اور کشادگی پر مبنی پالیسز اور اسٹریٹجی کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شنگھاہی درامدی ایکسپو کے انعقاد سے بلیک مورس کو اپنی پراڈکٹس اور مصنوعات کو عالمی سطع پر اجاگر کرنے کے حوالے سے ایک بہترین پلیٹ فارم میسر آئے گا، اور چینی مارکیٹ میں انکی کمپنی کو آگے بڑھنے کا بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران انکی کمپنی کے،مجموعی فروخت حجم میں 143ملین آسٹریلوی ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ ایک سال کے مقابلے میں بائیس فیصد زیادہ ہے۔ چین گزشتہ2017میں دنیا کے بڑے ممالک کی فہرست میں درامدات کرنے والی مارکیٹ میں تیزی سے اپنی اہمیت میں اضافہ کر رہ اہے اور ایک سال میں چین کی مارکیٹ درامدات کرنے والی ممالک کی فہرست میں سب سے نمایاں رہی ہے چین کی درامدات میں امریکہ جرمنی اور جاپان کے مقابلے میں بالترتیب8.9, 5.9, 5.4فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے اور مجموعی عالمی شرح برائے درامدات کے مقابلے میں چین کی شرح5.3فیصد سے آگے بڑھی ہے۔ چین کی مارکیٹ عالمی سطع پر انٹر پرائسز کو آگے بڑھنے کے حوالے سے مختلف مواقعے پیش کر رہی ہے جس سے یہ انٹر پرائسز فنانس اور تجارتی عوامل کی مد میں خاطر خواہ فاہدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ چین کی وزارتِ کامرس کے نائب وزیر وانگ بیگنان نے واضح کیا کہ شنگھاہی درامدی ایکسپو ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوگا جہاں سے تجارت، معییشت اور دیگر چیلنجز کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا ہے اور مشترکہ ڈیویلپمنٹ کو یقینی بنا یا جا سکتا ہے جس سے عالمی معیشت، گلوبلائزیشن سے تمام ممالک مشترکہ طور پر فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔ چین نے رواں ماہ نومبر سے مختلف پراڈکٹس1585ٹیکس سے متعلق اشیاءپر ٹیرف کی شرح میں کمی کی ہے ان اشیاءمیں اسٹونز، سیرامکس اور مشینری شامل ہے اور اس ایڈجسٹمنٹ کے بعد چین کے مجموعی ٹیرف کی شرح7 فیصد سے کم ہو چکی ہے۔ اس طرح دیگر عملی اقدامات سے چین بیرونی دنیا کو امپورٹس میں اضافے کیساتھ ڈیویلپمنٹ تجربات سے مستفید کرنے کے حوالے سے کوشاں ہے۔چین میں کاروباری ماحول کے حوالے سے بہتری عوامل اور بین الاقوامی سطع پر تجارت کے حوالے سے بندرگاہوں پر موجود سہولیات کیساتھ کارگو کلیئرنس اور کسٹمز کے حوالے سے جو سہولیات چینی حکومت فراہم کر رہی ہے اسے کارگو کلیرنس کے حوالے سے گزشتہ سال لے مقابلے میں وقت97گھنٹوں سے کم ہوکر65گھنٹوں تک محدود ہو چکا ہے اور 2021تک یہ مدت صرف 48گھنٹوں تک محدود ہو جائیگی کلیرنس کیلئے، اس حوالے سے چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن کسٹم کلیرنس کے لیے عوامل کو سہل سے سہل بنا رہی ہے۔ چین شنگھاہی درامدی ایکسپو کی مدد سے اپنے تجارتی عوامل کو مزید سہل بنا رہی ہے اور مستقبل میں چینی مارکیٹ مزید کشادگی کے عوامل کو یقینی بنائے گی، جس سے عالمی ڈیویلپمنٹ یقینی ہوگی اور بیرونی دنیا بھی ان ڈیویلپمنٹ کے مواقعوں سے فاہدہ اٹھائے گی۔

Scroll To Top