سینٹ اجلاس:نواز ، زرداری ، اچکزئی ،فضل الرحمن ملک لوٹنے میں برابر کے حصے دار ہیں، فواد چوہدری

  • معاشی دہشتگردی کی تحقیقات کیلئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دی جائے،کرپشن کے خاتمے کی بات کریں تو اپوزیشن شور کیوں مچاتی ہے؟ ، وزیر اطلاعات کے بیان پر اپوزیشن کا احتجاج، واک آﺅٹ
  • بلوچستان حکومت کوئٹہ ائیرپورٹ کے تعمیراتی کام میں تاخیر اور اخراجات میں اضافے کی تحقیقات کررہی ہے، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا سینیٹ میں توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے بلوچستان سمیت مختلف صوبوں میں گزشتہ ادوار کے دوران اربوں روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے مطالبے پر اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بلوچستان میں قومی دولت کے ضیاع سمیت کرپشن کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ۔ بدھ کے روز سینیٹ اجلاس میں توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان ائیرپورٹ پر تعمیراتی کام میں تاخیر اور دیئے جانے والے فنڈز کی تحقیقات کررہی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکو مت میں کوئٹہ ائیرپورٹ کی توسیع کا منصوبہ شروع کیا گیا تاہم منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا اور یہ منصوبہ کی لاگت میں بے حد اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اس منصوبے میں تاخیر کی وجوہات اور زائد اخراجات کی انکوائری شروع کی ہے اور 16 نومبر تک اس کی رپورٹ آجائے گی انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں نجی ائیر لائنز کو غیر منافع بخش پروازوں کے سلسلے میں عائد پابندی میں نرمی کی گئی تھی اور تمام بوجھ پی آئی اے پر ڈالا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ائیرپورٹ میں تعمیراتی کام پر جاری ہے اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران 42 کھرب روپے بلوچستان کی ترقی کیلئے فراہم کئے گئے مگر ابھی بھی بلوچستان کی صورتحال ابتر ہے انہوں نے کہا کہ ملک کو لوٹنے میں میاں نواز شریف‘ آصف علی زرداری ‘ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی برابر کے حصہ دار ہیں انہوں نے کہا کہ دنیا کے دس ممالک میں سات ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوئی ہے اور دبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادیں تیسرے نمبر پر ہیں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کرپشن کی باتیں کرتی ہے تو اپوزیشن شور مچاتی ہے اور ایوان کا ماحول خراب کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والی معاسی دہشت گردوں کے بارے میں سینیٹ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس ہوالے سے ایوان میں بحث کی جائے انہوں نے کہا کہ ایوان اس حوالے سے بھی تحقیقات کرے کہ گزشتہ ادوار میں صوبے کے عوام کی حالت زار میں کتنی تبدیلی ہوئی ہے جبکہ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہ اکہ ایوان کو چلانے کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں ہوتی ہے بلکہ اپوزیشن پر بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے وفاقی وزیر اطلاعات کے ریمارکس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔

Scroll To Top