ملکی دولت لوٹنے والوں کی منزل ایک ہی قرار پانی چاہئے۔۔۔ پھانسی کا تختہ!

aaj-ki-baat-new

جب اگست 1947ءمیں پاکستان بن رہا تھا یا بن چکا تھا تو آل انڈیا نیشنل کانگریس سمیت قیامِ پاکستان کے مخالف تمام حلقوں سے کچھ اس قسم کی آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ اس مفلس اور کنگال ملک کا قائم رہنا ممکنات میں نہیں ہوگا۔
لیکن پاکستان نہ صرف یہ کہ قائم رہا بلکہ دنیا کی ایک ایٹمی طاقت بھی بن چکا ہے۔
اگست2018ءسے عمران مخالف حلقوں سے کچھ ایسی ہی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ چونکہ پی ٹی آئی حکومت سازی کے لئے دیگر جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے پر مجبور ہے اور چونکہ گزشتہ حکومت یا حکومتوں نے ملک کو بڑے سنگین بحرانوں میں چھوڑا ہے اس لئے عمران خان کا وزیراعظم کے طور پر کام کرنا چنددنوںکی بات ہے۔ میاں نوازشریف کے تنخواہ دار ہر کارے مشاہد اللہ نے تو یہ حتمی فیصلہ سنا دیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آغاز میں ہی ناکام ہوچکی ہے۔
جو لوگ عمران خان کو جمہوری پاکستان کی آخری امید سمجھتے ہیں انہیں امید ہی نہیں یقین ہے کہ تاریخ پھر دہرائے گی اور نئے پاکستان کی تعمیر کے مخالفوں کو زبردست مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عمران خان نے ابتداءمیں ہی غیر ملکی ادائیگیوں کا مسئلہ حل کرکے اپنے مخالفوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ عمران مخالف حلقے شور یہ مچا رہے ہیں کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں آکر بتائیں کہ سعودی عرب اور چین کے ساتھ کیا کیا معاملات طے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ڈھنڈھورا بھی پیٹا جارہا ہے کہ خان کو کہیں سے کچھ نہیں ملا۔ ایک بیانیہ یہ بھی زور و شور سے چل رہا ہے کہ عمران خان کشکول لے کر گلی گلی پھرنے والے بھکاریوں کی طرح ملک ملک جاکر بھیک مانگ رہے ہیں۔ یہ بے شرم لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ان کی حکومتوں نے پاکستان کو نوے بلین ڈالروں تک کا مقروض بنا ڈالا ۔۔۔ کیا پاکستان کو قرضے دینے کے لئے امریکہ کے صدور یا آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام خود جہازوں میں ڈالر لاد کر اسلام آباد آیا کرتے تھے ؟
یہ بات البتہ درست ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے قرضے اس لئے لئے کہ ان کے لئے بڑے بڑے ڈاکے ڈالنا آسان ہوجائے۔
وزیراعظم کے معاون شہزاد اکبر نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ کھربوں کی منی لانڈرنگ کے ثبوت حاصل کئے جاچکے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ جس شخص نے بھی ` بالخصوص حکمران نے حکومت پاکستان کی باقاعدہ اجازت کے بغیر بیرون ملک کوئی جائیدادبنائی ہے یا کاروبار کیا ہے یا بینک اکاﺅنٹ کھولا ہے اسے چوراہے پر پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آنے والی حکومتوں کو عبرت حاصل ہو کہ کسی ملک کے عوام کی دولت پر ڈاکہ ڈال کر اپنے خزانوں کے پیٹ بھرنا کتنا سنگین جرم ہے۔۔۔

Scroll To Top