شنگھاہی درامدی ایکسپو: چین کے کشادگی نقطہ نظر سے بیرونی دنیا بھر پور استعفادہ کر رہی ہے

Image result for ‫شنگھاہی درامدی ایکسپو‬‎

رواں ہفتے سے چین میں جاری پہلی بین الاقوامی درامدی ایکسپو جہاں چین کے لیے تجارتی عوامل کے پھیلاﺅ کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے وہیں یہ درامدی ایکسپو دنیا کے دیگر ممالک کے لیے چینی کے ڈیویلپمنٹ تجربات سے اسےعفادہ کے لیے اہم ترین سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کی جانب سے منعقدہ شنگھاہی درامدی کانفرنس مغربی قوتوں کے جان سے رواں یکطرفہ تحفظ پسندانہ پالیسز کے توڑ کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے وہیں عالمی سیاسی قوتوں کے برتری کے زعم پر سوال اٹھانے کے حوالے سے کلیدی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ عالمی چیلنجز اور عالمی سطع پر اقتصادی صورتحال ایک ایسے دوراہے پر پہنچ چکی ہے جہاں بیشتر عالمی قوتیں اپنی زمہ داریوں سے فرار ہوتے ہوئے آزادانہ تجارتی پالیسز کی مخالفت میں تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسز کو ساختیار کر رہی ہیں ، اس ضمن میں چین نے ایک ایسے عمل کو یقینی بنانے کے حوالے سے پہل کی ہے جہاں طرفین کے مفادات کو یقینی بناتے ہوئے باہمی اور دو طرفہ فوائد کو مدنظر رکھ کر معاشی میکنزیم تشکیل کرنے کی اہمیت کواجاگر کیا ہے۔ مارک ٹوئن نے کہا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے لیکن بسا اوقات یہ شاعری کی صورت سامنے آ جاتی ہے، تاریخ سے بہت سے اسباق سیکھے جا سکتے ہیں تاہم حقیقت کے پیشِ نظر ہم ہمیشہ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے برعکس پہلو تہی کرتے گزر جاتے ہیں ، پہلی جانگِ عظیم کے بعد امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور معیشت کے طور پر سامنے آیا، اور امریکہ نے اس وقت کے امریکی صدر جاہنکولج جونئیر کی سربراہی میں امریکہ نے1923سے لیکر1929کے مابین آسانی سے ملکی اقتصادی شرح نمو کو چار فیصد سے آگے یقینی بنائے رکھا۔ اور اس عرصے کے دوران امریکہ نے صنعتی ممالک کی فہرست میں سب سے زیادہ صنعتی پیداوار کی شرح 48.9فیصد تک برقرار رکھی، تاہم کچھ پراڈکٹس کی برامدات کے سبب امریکی درامدات کو قربانی کا سبب بنا دیا گیا۔ اور امریکہ نے 1930کی دہائی میں 20,000سے زائد درامدی اشیاءپر اضافی ٹیرف کو کئی گنا اضافہ کر دیا گیا۔ جس کے بظاہر امریکی معیشت پر کوئی خاطر خواہ اثرات مرتب نہ ہوئے تاہم امریکی برامدات کا مجموعی حجم 5.2بلین ڈالر سے 1.65بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ جس سے مجموعی عالمی تجارت کم ہوکر36بلین ڈالر سے کم ہوکر12 بلین ڈالر تک سمٹ گئی۔ دوسری جانب امریکہ کے اس تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسی سے امریکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ باہمی روابط پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ جس سے عالمی سطع پر نہ صرف اقتصادی چیلنجز سامنے آئے بلکہ سیاسی بحران بھی پیدا ہوگئے اور دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنے معاشی دروازے ایک ودسرے پر بند کر دئیے اور ان تحفظ پسندانہ پالیسز کے خلاف ردعمل پیش کیا۔اس پسِ منظر میں کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال تھا کہ عالمی اقتصادی قساد بازاری اور عالمی معاشی بحران کا بنیادی سبب نازی جرمنی کے سربراہ ایڈولف ہٹلر کے پاس اس کا اینکو بیٹر تھا جو اس بحران کو کنٹرول کر رہا تھا اور اس ضمن میں اسے جاپانی عسکری عوامل کی سپورٹ حاصل تھی۔ اور دنیا اسوقت ایک نئے معاہدے کے زریعے سے آزادانہ تجارت کی جانب گامزن ہوئی جو امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے کیا۔ 85سال کے بعد یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جن سے آج چین کو سبق سیکھنا ہوگا اس طرح سے ہمیں ایک دوسرے کے متحارب ہو کر یا ایک دوسرے کو باہمی اور دو طرفہ مفادات کے حصول سے نکالنے کی غلطی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ دنیا آج بہت سے مسائل، چیلنجز اورپریشانیوں سے دوچار ہے اور اس ضمن میں چین کو ایک مستحکم اور پائیدار کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس طرح سے قومی سطع پر کشادگی پر مبنی پالیسز اور حکمتِ عملی پر کاربند رہتے ہوئے چین کو بحثیت دوسری بڑی معاشی قوت، اور دنیا کے سب سے بڑے صنعتی ملک ہونے کے ناطے، دنیا کے سب سے بڑے تاجر کی حیثیت سے، زرِ مبادلہ کے سب سے بڑے زخائر ہونے کے حوالے سے اپنی قومی پالیسی برائے کشادگی اور وسعت پر زمہ داری کیساتھ کارفرما رہنا ہو گا، تاکہ عالمی معیشت کو ایک مستحکم محرک ملتا رہے، اور مسائل سے دوچار عالمی معیشت اور عالمی افق ایک مثبت سکون حاصل کرتا رہے۔ آج چین عالمی سطع پر پہلی بین الاقوامی درامدی ایکسپو کا انعقاد کر رہا ہے جس کا بنیادی مقصد بیرونی دنیا کے ممالک کو چین کے ڈیویلپمنٹ تجربات سے مستفید کرنا ہے اور عالمی معیشت کی تقویت کو ایک مضبوط سہارا یقینی بنانا ہے اور اپنی قومی ضروریات اور عوامل کو مستحکم انداز میں استوار رکھنا ہے، گزشتہ چار عشروں میں چین نے اپنے کروڑوں لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنایا ہے اور چین کی 1.3بلین آبادی کو بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنے کے حوالے سے چینی معیشت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے اور اس کثیر آبادی کی بڑھتی ضروریات کے پیشِ نظر قوی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ چین مستحکم معیاری ڈیویلپمنٹ کو یقینی بناتا رہیگا۔ اقتصادی ماہرین کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق آئیندہ 15برسوں کے دوران چین امریکہ سے24ٹریلین ڈالر مالیت کی مصنوعات درامد کریگا۔اور یہ وہ عوامل ہیں جو چینی لوگ اپنی مسلسل جدوجہد سے یقینی بنا رہے ہیں اور ان مستقبل کے مواقعوں کے حوالے سے چین کے دوست اور تجارتی شراکت دار ممالک بھر پور تجارتی مواقع حاصل کریں گے۔چین میں جاری شنگھاہی درامدی ایکسپو کے حوالے سے دنیا کے130ممالک کی 3000انٹر پرائسز اور ڈیڑھ لاکھ خریدار، تجارتی و کاروباری مندوبین اس وقت شمگھاہی ایکسپو میں موجود ہیں ، چین نے پہلی درامدی ایکسپو کے انعقاد سے دنیا پر یہ امر باور کر دیا ہے کہ چین کھلے بازﺅوں اور کشادہ مارکیٹ سے دنیا بھر کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہنے کے لیے پر عزم ہے اور بیرونی دنیا کو باہمی اور دو طرفہ تجارت تعلقات کے زریعے سے اپنے ڈیویلپمنٹ تجربات سے مستفید کرنے کے لیے کوشاں ہے۔۔

Scroll To Top