سیاسی منظر نامہ، پت جھڑ شروع ہونے کو ہے نون غنے شکست و ریخت کے دہانے پر

gulzar-afaqi

چوہدری ویڈیو لیک ایک تیر سے دو نشانے، عمران پر دباﺅ اور اپنے لئے نیا بھاﺅ
بساط سیاست، مہروں کی متوقع الٹ پلٹ، فصلی بٹیرے مائل بہ پرواز
ق لیگ 2، مستقبل قریب کے بطن سے بہت کچھ متوقع
کپتان عمران خان مرد بحران، ہر آن نیا امتحان

نون غنوں پر موسم خزاں اترا چاہتا ہے۔
پت جھڑ شروع ہونے کو ہے۔
گویا ق لیگ 2کی تیاریاں شروع
میرے کپتان تیرے سامنے ایک نیا بحران آنے کو ہے۔ یہی نیا بحران عمران خان کا امتحان ہوگا۔ یہاں پھر کہوں گا، جناب خان حکومت حکم سے کہیں زیادہ حکمت کا نام ہے۔
ان دنوں وفاقی دارالحکومت کی ٹھٹھرتی راتوں کو مقتدر طبقوں کے وابستگان فائیو سٹار ہوٹلوں اور آسودگی بخش ڈرائنگ روموں میں خشک و تر سامان خورد و نوش کے جلو میں آنے والے چند دنوں کے تناظر میں ممکنہ نشت و برخاست اور الٹ پلٹ کے حوالے سے بساط سیاست پر اپنے اپنے مقام اور نئے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں یہاں تک کہ صبح دم خمار شب سے بوجھل جسم و جاں کے ساتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
پچھلے روز لاہورمیں لب نہر چوہدری برادران کے محلات پر مشتمل کامپلیکس کے ایک گوشے میں جہانگیر ترین سے چوہدری پرویز الٰہی اور ق لیگ ہی کے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ اور صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر نجی گفتگو میں گورنر سرور کے زعما کا روئے سخن وزیر اعلیٰ پنجاب کی حمایت میں تھا۔ یہاں ایک باریک نکتے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انتہائی نجی اور سخت سکیورٹی کے حصار میں ہونے والی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی (یا کردی گئی) اس موقع پر ہی چوہدری پرویز الٰہی نے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ طارق چیمہ کے گلے کا تدارک ضروری ہے وگرنہ دوست سیکرٹ ووٹنگ کے موقع پر غصہ نکال لیتے ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی کے ایک گھاگ مگر پرانی وضعداری رکھنے والے سیاستدان ہیں۔ انہوں نے اس جملے کے ذریعے دراصل متعلقہ ”اہم حلقوں“ کو یہ سندیسہ دے دیا ہے کہ آنے والے ایام میں سینٹ انتخابات سے پہلے ان کے ساتھی طارق چیمہ کی چوہدری سرور بابت شکایت کا فوری ازالہ کیا جائے۔ وگرنہ (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر54
سینٹ سیٹ سے ہاتھ دھونے جیسے خطرے کے تیار رہو۔
یہاں تک معاملہ سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اصل سوال تو یہ ہے کہ مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیسے ہوگئی۔ جیسا کہ میں نے اوپر کی سطروں میں اس والے سے بریکٹ میں مذکورہ ویڈیو بابت لکھا ہے کہ اسے دانستہ طور پر وائرل کروایا گیا ہے۔ صاف بات ہے۔ ویڈیو زیادہ تر سامنے کے زاویے سے بنائی گئی ہے۔ اور دوسرے مختلف زاویوں کوبھی شامل رکھا گیا ہے۔ چوہدری براد ران کے قلعہ نما محلات میں کوئی چڑیا بھی بااختیار مکینوں کی مرضی کے بغیر پر نہیں مار سکتی۔ پس ثابت ہوا کہ ویڈیو ایک منصوبے کے تحت تیار کی گئی اور اسے بااعتماد آدمی کے ذریعے ہی سوشل میڈیا پر وائرل کروایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ چوہدری برادران اور بطور خاص چوہدری پرویز الٰہی کا ایسا کرنے کے پیچھے کیا مفاد ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں چوہدری صاحب قبلہ کے دو مفادات ہو سکتے ہیں۔ ایک کا حوالہ میں پچھلی سطور میں دے چکا ہوں کہ اس طرح وہ بالواسطہ طورپر ”اوپر والوں“ کو یہ سندیسہ دینا چاہتے تھے کہ مستقبل میں ہونے والے سینٹ الیکشن سے پہلے ان کی پارٹی کے ایک اہم رکن اور وفاقی وزیر طارق چیمہ کی چوہدری سرور بابت شکایت کا فوری ازالہ کردیں۔
دوسرا مفاد ان کا یہ تھا کہ اس ویڈیو کے ذریعے ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کو باور کرا دیا جائے کہ نون غنوں پر عنقریب جو موسم خزاں اترنے والا ہے، جس میں پٹ جھڑ لازمی طور پر ہوتی ہے۔ تو ایسی صورتحال میں شکست و ریخت میں مبتلا ”پت جھڑ“ جسے سیاسی زبان میں فصلی بٹیرے بھی کہا جاتا ہے وہ پریشان نہ ہوں، خاطر جمع رکھیں ان کوگود لینے کے لئے ق لیگ حاضر و موجود ہے۔ باقی اللہ اللہ خیر سلا۔
یاد رہے ماضی میں 10دسمبر2000ءکو جب شریف برادران اپنے ساتھیوں کو اندھیرے میں رکھ کر مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے سعودی عرب کی طرف جلا وطنی پر چلے گئے تھے۔ تب ردعمل میں نون غنوں کی غالب تعداد اقتدار میں اپنی نئی پناہ گاہ ق لیگ میں شامل ہوتی گئی تھی۔ اور معاملہ صرف نونیوں تک ہی محدود نہ رہا۔ پیپلئے بھی اقتدار کی بہتی گنگا میں اشنان کی غرض سے پی پی پی پیٹریاٹ کے دم چھلے کے ساتھ ق لیگ میں اتحادی جماعت کے طور پر شامل ہو گئے تھے۔ فیصل صالح حیات اس طائفے کے سربراہ تھے۔
فطری امر ہے کہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے ساتھ جڑے مفاد کو پانے کے لئے چوہدری برادران خود کو حق بجانب سمجھ رہے ہوں گے کہ کیونکہ ایک سیاسی پارٹی اپنی طاقت بڑھانے اور نمبر گیم میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کی غرض سے ہاتھ پیر ما رنے کا حق رکھتی ہے۔ بالکل جس طرح الیکشن سے پہلے عمران خان صاحب نے اپنے لئے بہتر عددی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے تمام تر مخالفت اور خطرات مول لیتے ہوئے الیکٹ ایبلز کو اپنے ساتھ ملالیا تھا۔ میں نے ان کے اس عمل کو مثالیت پسندی اور عملیت پسندی کا ایک آہنگ قرار دیا تھا مگر اس کے ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ سٹیٹس کو کے حامی طبقوں کے نمائندوں کو تحریک انصاف میں دھڑا دھڑ شامل کرکے عمران خان صاحب ممکن ہے پارلیمنٹ میں اپنی نمبر گیم کو تو مضبوط کرلیں مگر ذرا سی بھول چوک کے سبب سے سٹیٹس کو کی مخالف جماعت ہونے کے ناطے نوواردان اسے اپنے مفادات کا یرغمالی نہ بنالیں۔ میرے خدشات بہت حد تک درست ثابت ہورہے ہیں جس کا مجھے ذاتی طور پر بہت قلق ہے۔
اس وقت تک رونما ہونے والے واقعات، معاملات اور حادثات کی روشنی میں وثوق سے کہا جا سکات ہے کہ نون لیگ کا آنے والے دنوں میں شیرازہ بکھرنے والا ہے۔ اس پت جھڑ میں کون کس سمت میں جاتا ہے، کہاں سینگ سماتا ہے، پاکستان کے سیاسی مفاداتی تناظر میں اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل نہیں۔ فصلی بٹیروں میں سے ہر کسی کا رخ اقتدار کے ایوانوں کی طرف ہوگا۔ گویا جہانگیر ترین اور پرویز الٰہی مرکز نگاہ ہوںگے۔ اگر پرویز الٰہی قومی اور صوبائی اسمبلی کے زیادہ نون غنوں کو گھیر لینے میں کامیاب ہوگئے تو وہ پنجاب میں اپنے لئے وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے دوستانہ دباﺅ بڑھا سکتے ہیں یا پھر اپنے صاحبزادے مونس الٰہی کے لئے ایک آدھ وفاقی وزارت۔
نون غنوں پر موسم خزاں اترا چاہتاہے۔ پت جڑ شروع ہونے کو ہے، ق لیگ 2 کی تیاریاں بھی شروع، پی ٹی آئی کا گھونسلہ بھی فصلی بٹیروں کا پرکشش ٹھکانہ، ایک نیا بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔ عمران خان مرد بحران، نیا بحران کپتان کا نیا امتحان!

Scroll To Top