پاکستان کے ملوک 18-04-2014

kal-ki-baat
کیا دنیا میں ایسا کوئی اور ملک ہوگا جس میں سیاست دانوں کے خاندان اپنی تمام تر دشمنیاں اور رقابتیں بھلا کر کسی ایک قوت کے خلاف متحد اور صف آراءہو جائیں ؟ اگر یہ قوت بیرونی ہوتی تو بات سمجھ میں آنے والی تھی۔ لیکن جس قوت کاذکر یہاں ہورہا ہے وہ قوت ہماری اپنی ہے۔ ہم اس کی پہچان پاک فوج کے نام سے کرتے ہیں۔
پہلے یہاں یہ وضاحت ہوجائے کہ پاک فوج بنتی کیسے ہے ؟ اسے ایک ادارے کا درجہ دینے والے لوگ کہاں سے آتے ہیں یا کن طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا شریف خاندان کاکوئی سپوت قوم کی آزادی او ر وقار کے تحفظ کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھ کر فوج میں گیا ہے۔ کیا آپ کسی ایسے فوجی افسر یا جوان کو جانتے ہیں جو زرداری خاندان ` بھٹو خاندان ` چوہدری خاندان `لغاری خاندان ` مخدوم خاندان ` گیلانی خاندان ` ہالا خاندان یا ایسے ہی کسی خاندان سے تعلق رکھتا ہو جو جمہوریت کی آڑ میں ملک پر حکومت کرتا ہو ؟ کیا کل کے جونیئر افسر جو آج جنرل بن چکے ہیں سونے کے چمچ منہ میں لے کر پروان چڑھتے ہیں یا ان کی بہت بھاری اکثریت متوسط نیم متوسط یا نچلے طبقوں سے نکل کر ایک امتحان طلب تربیتی مرحلے سے گزرنے کے بعد جنرل ضیاءالحق ` جنرل پرویز مشرف یا جنرل راحیل شریف بنتی ہے۔؟
میں یہاں یہ بات اس لئے لکھ رہا ہوں کہ واضح ہوجائے کہ جو لوگ سیاستدان کہلاتے ہیں اور جنہوں نے جمہوریت کی سربلندی کا پرچم اٹھا رکھا ہوتا ہے وہ دراصل حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی تربیت اِس یقین کے ساتھ ہوتی ہے کہ حکومت کرنا اُن کا خدائی حق ہے۔ جہاں تک فوجیوں کا تعلق ہے وہ بنیادی طور پر ملازمت پیشہ لوگ ہوتے ہیں ` اور ان کا کام حکمران خاندانوں کو سیلوٹ کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔
یہ کلچر بنیادی طور پر برطانیہ سے آیا ہے جہاں کے لارڈز صدیوں سے پارلیمنٹ کے نام پر حکومت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسلام اس کلچر کی نفی کرتاہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسلامی تاریخ میں زیادہ ادوار ملوکیت کی بالادستی کے تھے۔ لیکن ہم جب بھی اسلامی نظام حکومت کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں صرف اور صرف خدا کی بالادستی اورخدا کے بنائے ہوئے قوانین کی فضلیت کا تصور ہوتا ہے۔
اور مسلمانوں کی تاریخ تو ایسی ہے کہ اس میں ملوکیت کا پرچم بھی ہمیشہ شاہی خاندانوں کے ہاتھوں میں نہیں رہا ` کبھی کبھی غلام خاندانوں کے پاس بھی جاتا رہا۔
یہ طرہ امتیاز صرف ہماری جمہوریت کو حاصل ہے کہ اس میںاقتدار کا تین چار یا پانچ خاندانوں سے باہر جانا ” عوام دشمنی “ قرار دیا جاتا ہے۔۔۔

Scroll To Top