کیا پنجاب کے حوالے سے عمران خان اس سے بہتر فیصلہ کرسکتے تھے ؟

aaj-ki-baat-new

گزشتہ چند روز سے ہمارے اینکر پرسنز کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ پنجاب میں اقتدار کی کشمکش کہیں پی ٹی آئی کی ناکامی کا باعث نہ بنے۔ پی ٹی آئی کو کامیاب دیکھنے کا یہ جذبہ اس لحاظ سے قابلِ تحسین ہے کہ یہی اینکر پرسنز اور تجزیہ کار حکومت سازی کے سلسلے میں عمران خان کے فیصلوں اور پی ٹی آئی کی حکومت کی اب تک کی کارگزاری پر خاصے تند و تیز نشتر چلاتے رہے ہیں۔ ہر ایک نے ایک بات پکڑ رکھی ہے اور وہ بات عمران خان نے اقتدار سنبھالتے وقت کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھاکہ ایک سو دنوں کے اندر پی ٹی آئی کی پالیسیوں کا رخ واضح طور پر متعین ہوجائے گا۔ الفاظ عمران خان کے کچھ اور ہوں گے ` مگر مطلب یہی تھا۔ ہمارے اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں نے اپوزیشن جماعتوں کے انداز میں اس بات کا مطلب یہ لیا کہ عمران خان نے ایک سو دنوں کے اندر پاکستان کو ایشیاءکا ٹائیگر بنا ڈالنے کا وعدہ کیا ہے۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جس ملک کے ساتھ ہرشعبے میں برسہا برس سے ” آبروریزی“ کا سلوک ہورہا ہو اسے ایک سو دن کے اندر ” جنت “ میں تبدیل ہوتا دیکھنے کی توقع کوئی بھی باشعور شخص کیسے کرسکتا ہے۔ پاکستان کو ایک ایسے مریض جیسا بنایا جاچکا ہے۔ جس کے دل کو بھی علاج کی ضرورت ہے گردوں کو بھی علاج کی ضرورت ہے ` پھیپھڑوں کو بھی علاج کی ضرورت ہے ۔ انتڑیوں کو بھی علاج کی ضرورت ہے اعصاب کو بھی علاج کی ضرورت ہے اور حواس کو بھی علاج کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر عمران خان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ سو دن کے اندر پاکستان کو دوڑ کے کسی مقابلے میں بھیجنے کے قابل بنا دیں گے یا تو کم عقلی ہے یا بدنیتی ہے۔آپ کسی بھی ماہر ڈاکٹر سے پوچھ لیں وہ تشخیص کے مراحل کے دوران ” تجرباتی “ قسم کا علاج کرتا ہے۔اور بعض مرض تو ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر کوئی بھی دوا اثر نہیں کرتی۔
بہرحال یہ سب باتیں میں نے برسبیل تذکرہ کی ہیں ۔ اصل بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ عمران خان کو شروع سے ہی اس بات کا ادراک تھاکہ پی ٹی آئی کی حکومت کی کامیابی کا سارا انحصار ” پنجاب میں ہونے والی حکمرانی “ پر ہے۔
2008ءکے بعد جو حکومت قائم ہوئی اس میں پنجاب کا کنٹرول مسلم لیگ (ن)کے ایک مرکزی لیڈر شہبازشریف کے پاس رہا۔ یہ کنٹرول 2013ءکے بعد اس لئے اور بھی زیادہ مضبوط ہوگیا کہ مرکز میں میاں شہبازشریف کے بڑے بھائی اور پارٹی کے قائد کی حکومت قائم ہوگئی۔۔۔
عمران خان نے فیصلہ کررکھا تھا کہ وہ پنجاب کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں رکھیں گے کیوں کہ تبدیلی کا جو نعرہ انہوں نے لگایا ہوا ہے اس کی کامیابی کا انحصار پنجاب پر ہے۔
پنجاب میں پی ٹی آئی کی ہی حکومت نہیں ` پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ )ق(کی مخلوط حکومت ہے۔
اگر ق لیگ پی ٹی آئی کاساتھ نہ دیتی تو عمران خان کو پنجاب مل ہی نہیں سکتا تھا۔ مخلوط حکومت سازی کے لئے بنیادی فیصلہ یہ ہوا کہ چوہدری پرویز الٰہی سپیکر ہوں گے۔ اور یہ امر واقعہ ہے کہ پنجاب کے طول و عرض میں مسلم لیگ (ن)کے لیڈروں کے بعد سب سے زیادہ اثر و رسوخ ق لیگ اور اس کے لیڈروں چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کا ہے۔
یہاں ایک بات مدنظر رکھی جانی چاہئے او ر وہ یہ کہ ق لیگ کے لیڈروں کے دل میں یہ خواہش بڑی شدت سے ہوگی کہ ان کی پارٹی ایک بار پھر ابھرے اور طاقت پکڑے۔ سیاسی طور پر یہ ایک جائز خواہش ہے۔
لیکن ساتھ ہی ساتھ عمران خان کی یہ خواہش بھی جائز ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب میں اس قدر مضبوط اور مستحکم ہوجائے کہ حکومت سازی کے لئے اسے کسی دوسری پارٹی کی حمایت پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ ویسے عمران خان کی اگر یہ خواہش آنے والے وقتوں میں پوری بھی ہوجاتی ہے تو بھی وہ چوہدری برادران کے ساتھ اتحاد قائم رکھیں گے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت میں قوت کا سرچشمہ بہرحال پی ٹی آئی ہی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کے اثر و رسوخ کو مناسب حدود میں رکھنے کے لئے چوہدری سرور پنجاب کے گورنر بنائے گئے ہیں۔
مگر حکمرانی میں اصل اہمیت بہرحال ” وزیراعلیٰ “ کے عہدے کی ہے۔
اگر عمران خان کوئی ” طاقتور “ وزیراعلیٰ بناتے تو اس بات کا قوی امکان تھا کہ جو تبدیلی وہ ملک میں لانا چاہتے ہیں اس کا انحصار پنجاب کے وزیراعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات پر ہوتا۔ یہ بات عمران خان کے اہداف سے ٹکراتی تھی۔ اسی لئے انہوں نے ایک ایسے شخص کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا جس کا کوئی سیاسی ماضی نہیں `جو کچھ عرصہ پہلے تک بالکل غیر معروف شخص تھا ` جس کا تعلق پنجاب کے ایک محروم علاقے سے ہے اور جس کی ساری طاقت کا سرچشمہ وزیراعظم کی حمایت ہے۔
میں دعویٰ کرتا ہوں کہ حکمرانی کا یہ ماڈل کامیاب رہے گا کیوں کہ پنجاب کے بارے میں فیصلہ سازی براہ راست عمران خان کے ہاتھوں میں رہے گی اور جناب عثمان بزدار کی حیثیت ” سی او او“ یعنی چیف آپرٹینگ آفیسر کی ہوگی۔
یہ ماڈران مینجمنٹ کا ماڈل ہے۔ چیف آپرٹینگ آفیسر ہمیشہ چیف ایگزیکٹو سے ہدایات لیتا ہے اور اسی کے دیئے ہوئے اہداف پورے کرتا ہے۔
چنانچہ پی ٹی آئی کے ہمدردوں کو زیاہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔

Scroll To Top