گورنر کےخلاف ویڈیو جاری کرکے محض تین ماہ ہی میں اختلافات ظاہرکرنے کی کوشش کی گئی

  • چوہدری سرور اور چوہدری پرویز الٰہی کا سیاسی تنازعات سے انکار کرنا خوش آئند سمجھا گیا
  • پاکستان تحریک انصاف کو پنجاب میں حکمرانی کے مسائل کو کسی طور پر آسان نہیں لینا چاہئے
  • پانچ دریاو¿ں کی سرزمین کی سیاست، تجارت ، صحافت سمیت کئی شعبوں میں ن لیگ کے حامی متحرک

zaheer-babar-logo

یقینا گورنر پنجاب کے حوالے سے سامنے آنے والی وڈیو سوچی سمجھی سیکم کے تحت سامنے لائے گی۔ چوہدری سرور پر مداخلت پرالزام لگانا والا جو کوئی بھی ہے مقصد واضح ہے کہ صوبائی حکومت میں اختیارات کی رسی کشی کے تاثر کو مضبوط کیا جائے۔ خوش آئند ہے کہ ایک طرف گورنر چوہدری سرور نے ایسی کسی بھی صورت حال کی تردید کی تو سیپکر پنجاب اسمبلی میںمیدان میں آگے جن کے مطابق مذکورہ وڈیو سے حائق کے منافی ہے۔
ادھر وزیر اعظم عمران خان وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی صلاحیتوں پر مکمل یقین رکھتے ہوئے دکھائی دے رہے ۔پانچ دریاوں کی سرزمین آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑاصوبہ ہے لہذا لامحالہ طور پر صوبے کی سیاست کسی طور پرآسان نہیں۔ پنجاب کی آبادی کم وبیش 12کروڈ ہے۔جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب ہی نہیںخطے پوٹھوار کے مسائل بھی الگ نوعیت کے ہیں لہذا ایسے میں ضروری ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مسائل پر اس طرح قابو پائیں کہ ہر علاقے کے مکین مطمعن دکھائی دیں۔
معاملہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن طویل عرصہ تک تخت لاہور پر براجمان رہی۔ بظاہر کئی دہائیوں پر پھیلا شریف خاندان کا اقتدار اسی لیے قائم دوائم رہا کہ وہ صوبے کی سیاست ہی نہیں کاروبار اور معاشرت پر بھی اثر انداز رہے ۔ نوازشریف کے وزیر اعظم اور پھر شہبازشریف کے وزیر اعلی پنجاب بننے کے بعد طے شدہ منصوبے کے تحت تاثر دیا گیا کہ پنجاب میں صرف اور صرف ن لیگ کی ہی حکومت رہے گی چنانچہ طاقت کے سب ہی مراکز نے اس میں عافیت جانی کہ شریف فیملی کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے۔ پنجاب کی سیاست سے واقف شائد ہی کوئی شخص ہوگا جو یقین رکھتا ہو کہ صوبے کے بدعنوان عناصر بنا سیاسی سرپرستی کے اپنے کام نکلو سکتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کے فارمولے کے تحت غیر قانونی دھندہ کرنے والوں نے سیاسی جماعتوںمیں بھی اثر رسوخ حاصل کیا۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ یوں بھی لگایا جائے کہ بڑے بڑے مافیاز اب کسی ایک جماعت تک محدود نہیںرہے بلکہ ایسا بھی ہوا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں تک ان کی رسائی کی خبریں ہیں۔ پنجاب میں طویل عرصہ تک مسلم لیگ ن کے برسراقتدار رہنے سے نقصان یہ ہوا کہ پولیس ، نظام انصاف، پٹواری، بیوروکریسی ، مذہبی طبقہ ، تاجر حتی کہ میڈیا میں بھی ایسے بہت سے ہیں جن کے مفادات پی ایم ایل این سے وابستہ ہوچکے۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ پختہ رشتہ مفادات کا ہوا کرتا ہے چنانچہ آج بھی پنجاب میں شریف خاندان فائدہ اٹھانے والے کسی طور پر پچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یاد رہے کہ جب 1999 میں پرویز مشرف نے اقتدار حاصل کیا تو ان دنوں بھی مختلف شعبوں میں شریف خاندان کے مفادات کا تحفظ کرنے والے متحرک رہے۔
شریف فیملی کی ایک” خوبی “ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ کہ اکثر وبیشتر ” بے وفائی “ کرنے والوں کو بھی گلے سے لگانے میں دیر نہیں کرتے چنانچہ جب مسلم لیگ ق کے کئی ممبران اسمبلی کو دوبارہ پی ایم ایل این میں خوش آمدید کہہ گیا جو پارٹی چھوڈ کر ق لیگ میںشامل ہوگے ۔ یہاں تک کہ پرویز مشرف کابینہ کے کئی معروف چہروں کو پارٹی میں شامل کرتے ہوئے ہرگز ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا گیا۔ ایسے میں یہ سوال اور بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ شریف خاندان آج پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے حوالے سے پس پردہ کیا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔
درج بالا صورت حال میں یہ کوئی راز نہیں کہ آج وفاق ہو یا پنجاب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو کئی سنجیدہ چیلنجز درپیش ہیں۔ نہیں بھولنا چاہے کہ اپوزیشن کا پی ٹی آئی کو ناتجربہ کاری کا طعنہ دینا بلاوجہ نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی ممکن حد تک کوشاں ہے کہ عوام کے دل وماغ میں اس تاثر کو مضبوط کیا جائے کہ اب تک پی ٹی آئی ” ناتجربہ کاری“ کی بنا پر ان کی مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی۔
ترقی پذیر ملک ہونے کی حثیثت سے پاکستان کا عام شہری تاحال اس مثالی شعور کی معراج کو نہیں پہنچا جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرسکے کہ صاحب بصیرت اور اخلاص کا حامل لیڈر ہی ان کی مشکلات کم کرسکتا ہے۔ہم سب جانتے ہیںکہ وطن عزیز میں غربت اور افلاس کے ساتھ جہالت بدستور بڑا مسلہ ہے۔ ملک میں کہنے کو تو جمہوریت ہے مگر بیشتر علاقون میں اب بھی ووٹ برداری ازم کی بنا پر دیا جاتا ہے۔ پنجاب ہی نہیں ملک بھر میں سے ایسی مثالیں باآسانی تلاش کی جاسکتی ہیں جہاں دھڑے بندی نے کسی امیدوار کی کامیابی میںاہم کردار ادا کیا ۔ اب تک یہی ہوتا چلا آرہا کہ جو امیدوار اپنے حلقے میں زیادہ ووٹ رکھنے والی برداری کو قابو کرلیتا ہے کامیابی اسی کا قدم چومتی ہے۔ ایسے سیاست دانوں کو الیکٹ ایبیلز بھی کہا جاتا ہے جو اب تک ہر دور میں تواتر سے جیتے چلے آرہے۔ دہائیوں سے پانچ دریاوں کی سرزمین میں الیکٹ ایبیلز کی قابل زکر تعداد مسلم لیگ ن کے ساتھ رہی۔ صوبے میں ایسے بھی ہیں جو انتخابات میں آزادنہ طور کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اپنے مخصوص مطالبات کی تکمیل کے بعد جیتنے والی پارٹی میں شامل ہوتے رہے۔ اس پس منظر میں سوال یہ کیا پاکستان تحریک انصاف آنے والے ماہ سال میں پنجاب کے سیاسی مسائل نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔

Scroll To Top