کرپشن، ”رل کے کھا رج کے کھا“ کا دور ختم

  • ٭….نون لیگ جیل لیگ بننے والی ہے، مال غنیمت کے لئے چھینا جھپٹی شروع
  • ٭….خان سے مطالبہ کہ ان کے70سالہ گند کو 70دنوں میں صاف کیوں نہ کیا
  • ٭….معاملات، واقعات، حادثات اور امکانات سے عبارت قومی منظر نامہ
  • ٭….وہ بیرون ملک چھپائے گئے 200ارب ڈالر کی نوید سنا کر پانچ سال چپ کیو ں سادھے رہے
  • ٭….دنیا بھر میں سینکڑوں کرپٹ سیاستدانوں، حکمرانوں اور بیوروکریٹس کو سزائے موت دی جا چکی ہے
  • ٭….کئی ملکوں کو مغربی بنکوں میں چھپائی گئی دولت واپس مل گئی

gulzar-afaqi
آج کی صحبت میں قدرے جداگانہ اسلوب،
معاملات، واقعات، حادثات اور امکانات
احسن اقبال، میرے ممدوح ہیں، پسروری نون غنے اور طوطافال برانڈ پروفیسری اور بقراطی دانشوری کی شہرت یا تہمت رکھتے ہیں۔ اپنے رہبر جاتی عمرہ والے ناشریف کی نوازش کے طالب تھے مگر لطیفہ گوئی بروزن یاوہ گوئی اور ذاتی و فاداری اور مسکہ پالشی میںمری وال پہاڑیا شاہد خاقان میں اس پر سبقت لے گیا یوں وزارت عظمیٰ لے اڑا۔ اب کہ نون لیگ ایک بار پھر اٹھارہ برس پہلے والی شکست و ریخت سے دو چار ہے اور اس کی ساری گھریلو ”قیادت“ مالیاتی جرائم اور کرپشن کے سبب سے اپنے انجام کار اور مکافات عمل کے تحت میدان سیاست سے کلین بولڈ ہوتے ہوئے جیل کی کال کوٹھڑیوں کی بھینٹ چڑھنے والی ہے۔تو خواجہ سیالکوٹی اور پروفیسر بقراطی میں قیادت کے مال ”غنیمت“ پر قبضے کی سرد جنگ شروع ہو چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس وراثتی یُدھ کی خبری میڈیا کی زینت بننے ولای ہیں۔ بعض چھچھوندرے خوشامدی خواجہ لہوری عرف لوہے کے چنے کو بھی اس دھینگا مشتی میں گھسیٹنے کے درپے ہیں مگر اس خواجہ کو یقین ہو چکا ہے کہ وہ خود ایک سیاسی خواجہ سرا بننے جا رہا ہے اور اپنے فنی کمالات قیدی نون غنوں کے حضور پیش کیا کرے گا۔
پسروری بقراط ایک اور دور کی کوڑی لایا ہے ۔ کہا عمرانی حکومت دعویدار تو تھی کہ بیرونی دنیا میں بڑے200ارب ڈالر واپس لائے گی مگر اب تک 2ارب ڈالر تک واپس نہیں لا سکی۔
حیراں ہوں دل کو روو¿ں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
نون لیگ کی شکستہ پائی نے پروفیسر کی یاد داشت کو بری طرح کھوکھلا کر دیا ہے۔ اسے یاد نہیں رہا کہ اس ملک مین 200ارب ڈالر بیرون ملک چھپائے جانے کی خبر9مئی2014 کو سب سے پہلے اسی کے گورواسحق ڈار نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے ، موجود صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ایک سوال کے جواب میں ، قومی اسمبلی کے فلور پر عام کی تھی اور اسی نے اسے جلد از جلد واپس لانے کا وعدہ اور دعوی کیا تھا۔ آپ لوگوں کی پانچ سال تک حکومت رہی، پہلے تو آپ جواب دیں کہ آپ نے اس مسروقہ دولت کی واپسی کے لئے ایک اقدامات کئے۔ جہاں تک عمران لوگوں کا تعلق ہے وہ تو ابھی حکومت کے دوسرے مہینے سے گزر رہے ہیں۔ اور اس دوران بھی آپ لوگوں یعنی زرداری و نواز ادوار کے پھیلائے معاشی گند غلاظت کو صاف کرنے میں شبانہ روز جتے ہوئے ہیں۔ مگر پھر بھی اس محاذ پر بیش از بیش کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ملک کو کرپشن سے پاک صاف کرنے کا جو عزم عمران خان کی شخصیت میں رچا بسا ہے اس کی روشنی میں کچھ بعید نہیں کہ آنے والے ایام میں نہ صرف پی ٹی آئی حکومت نونیوں اور زرداریوں کی بیرونی دنیا میں چھپائی ہوئی مسروقہ دولت کا سراغ لگا کر اسے وطن واپس لے آئے گی بلکہ ملک کے اندر سے بھی ان کی وجڑیوں اور تجوریوں میں بند مال حرام برآمد کر لیا جائے گا۔
دنیا پھر میں کرپشن کے خلاف زبردست رائے عامہ قائم ہو چکی ہے۔ چین میں پچھلے چار سال میں 415کرپٹ وزراءبیورو کریٹس، تاجروں صنعت کاروں اور سیاستدانون کو موت کی سزا دی جا چکی ہے جس گولی سے مجرم کو موت کی نیند سے سلایا جاتا ہے اس کی قیمت بھی اسی سے وصول کی جاتی ہے۔ چین کے علاوہ سعودی عرب ، شمالی و جنوبی کوریا، ویت نام اور جاپان میں بھی مالیاتی بدعنوانیوں پر مجرموں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔
(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر50
پاکستان میں آج تک مقتدر طبقہ بدمعاشیہ نے باہمی ملی بھگت سے ”رل کے کھاو¿ رج کے کھاو¿“ کا ایک غیر تحریری معاہدہ کر رکھا تھا جس کے تحت یہ ”باری کی یاری“ پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے دور حکومت میں قومی دولت کی جی بھر کر لوٹ کھسوت کرتا اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے اپوزیشن میں ہونے کی صورت میں اپنے طبقاتی سانجھے دار ”حکمرانوں“ کی زبانی کلامی رج کے مٹی پلید کرتا، ان کے پیٹ چیر کر چوری شدہ دولت برآمد کرنے او ر انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے کی تڑیاں اور بڑھکیں مار کر عوام کی دل پشوری کر کے پھر سے اپنے اپنے دھندے میں مشغول ہو جاتا اور یوں لوٹ ما رکا یہ سلسلہ بقائے باہمی کے اصول کے تحت پچھلے ستر سال سے جاری رہا۔
مگر یہ تو عمران خان ہیں جو ان کے چلتے پھرتے دھندے میں بلائے نا گہانی بن کر کود پڑے ہیں۔ اور یوں ان کے لئے مکافات عمل کا در کھل گیا ہے۔ جہاں تعزینہ و سزا ہے اور عقوبت خانے ان کے منتظر۔
آخر میں ایک خوشخبری
لوٹ کھسوت کی دولت بیرون ملک چھپانے والے طبقہ بدمعاشیہ نے یہ خبریں پھیلا رکھی ہیں کہ سوئٹزر لینڈ اور دیگر ممالک میں راز داری کے سخت قوانین کے باعث مال مسروقہ کی واپسی ناممکن ہے۔ مگر میں نے جب حقائق کا کھوج لگایا تو یہ سارا پروپیگنڈا جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔ میں اپنی تحقیق بابت جلد ہی الاخبار کے محترم قارئین کو اگاہ کروں گا۔ سردست یہ جان لیجئے کہ عالمی بنک اور سوئس بنکوں نے کرپشن اور غیر قانونی ذرائع سے مغرب میں چھپائے گئے مالیاتی اثاثوں کو متعلقہ اور متاثرہ ممالک کو لوٹانے کے لئے قانون سازی کو عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ جس کے تحت اب تک فلپائن ، پیرو، قازقستان، میکسیکو انگولا اور نائیجیریا کو اربوں ڈالر واپس کئے جا چکے ہیں۔
وہ دن دور نہیں جب عمران خان جیسے پختہ عزم رہنما کی کوششوں سے پاکستان کے لیٹروں بطور خاص زرداریوں اور نا شریفوں کی لوٹ کھسوٹ کی دولت اور جائیدادوں کی ملکیت بھی اہل پاکستان کو منتقل ہو جائے گی۔
انشاءاللہ

Scroll To Top