22کروڑ غریبوں کو500امیروں نے یرغمالی بنا رکھا ہے

  • 70سال سے جمہوریت کے نام پر فریب جمہوریت کا ناٹک جاری
  • یہ کیسی انڈر فورٹین ٹیم ہے جس نے بڑے مگر مچھوں کو کلین بورڈ کر دیا
  • انہوں نے قوم کی خون پسینے کی کمائی شیر مادر سمجھ کر اڑائی
  • بدی کی دونوں علامتیں حواس باختہ اور زوال آشنا
  • آج وہ نیب کو جمہوریت کے ماتھے کا داغ کیوں کہتے ہیں؟

gulzar-afaqi

واقعات ، معاملات اور حادثات کا ایک ریلا اور جھمیلا ہے، جھڑمٹ اور جھنجھٹ ہے، کسے رکھا اور کسے چھوڑا جائے۔ آخر کو فیصلہ کہ ایک کالم کے کاغذی پیر ہن کی گنجائش کے مطابق جہاں کسی کا سینگ سمائے فبیہا
آغاز کلام، باری کی یاری بہت اچھی جاری تھی کہ بیچ میں عمران خان کباب میں بصورت ہڈی ٹپک پڑا۔ سال ہا سال سے پاکستان کا طبقہ بد معاشیہ اقتدار و اختیار کی مسندوں پر ہر سطح اور درجے کی اجارہ داری قائم رکھے ہوئے تھے۔ اور یہ حالت آج بھی ہے اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر فریب جمہوریت کا چلن ہے۔ ایوب خان دور کے مشہور بائیس خاندان اب نصف صدی سے زائد دورانیے پر پھیلے ہوئے ماہ وسال میں شادی بیاہ اور کاروباری تعلقات کی بنیاد پر لگ بھگ پانچ سو خاندانوں کے ہندسے کو چھونے لگے ہیں۔ یوں تو پاکستان میں درجنوں سیاسی جماعتیں ہیں کچھ فقط بریف کیس کی حد تک تانگہ پارٹیاں، تاہم کوئی درجن بھر ایسی ہیں جن پر مذکورہ پانچ سو خاندانوں کے چشم و چراغ کا قبضہ ہے ۔ اوسطاً ہر خاندان نے ہر قابل اقتدار پارٹی میں اپنی نمائندگی کی ہٹی بنا رکھی ہے۔ ان میں نون لیگ، پیپلز پارٹی اور اب کسی حد تک بدقسمتی سے تحریک انصاف بھی شامل جانیئے۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہاں ایک بات کی وضاحت کئے دوں کہ پہلی بار وفاقی سطح پر اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے مثالیت پسندی اور عملیت پسندی کے ملاپ اور امتزاج کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے صاحبان دولت و ثروت اور ایک الیکٹ ایبلز کے لئے پارٹی کے دروازے کھولے تھے، اس تجربے کی نزاکت اور اس سے جڑے ہوئے ممکنہ خدشات و خطرات بابت اس فقیر نے بھی بہت پہلے نشاندہی کر دی تھی اور وہ یہ کہ اگر نظریاتی اجنبیت رکھنے والوں کو محض دولت و ثروت کی بنا پر پارٹی میں خوش آمدید کہا جا رہا ہے تو آگے چل کر اگر فکری و نظریاتی غسل نہ دیا گیا تو ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ والا معاملا نہ ہوجائے دعا گو ہوں عمران خان صاحب اپنی شخصی دیانت ، امانت اور اصابت کے اوصاف اور ہتھیاروں سے ایسے کسی بھی خطرے کو سر اٹھانے سے پہلے اس کی موت مار دیں گے۔
اب آئیے اسی طبقہ بدمعاشیہ کی دو بدنام ترین علامتوں یعنی زرداری اور نواز کی طرف۔ عمران خان کی اقتدار میں جمہوری ”مداخلت“ نے ان کے اوسان خطا کر کے رکھ دیئے ہیں۔ جب ان پر آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات بابت پوچھا جاتا ہے تو ابتدا میں ان کا کورا جواب ہوتا ہے کہ الزام سر اسر لغو اور جھوٹ پر مبنی ہے اور جب احتساب کا شکنجہ زیادہ کسنے لگتا ہے تونواز شریف ترنگ میں آکر کہتے ہیں ”اگر میرے اثاثے آمدنی سے زیادہ ہیں تو تمہیں بھئی“ جی اس جملے کو دوبارہ پڑھ لیجئے۔ پاکستان پر تین بار وزارت عظمیٰ کا پشتارہ لادنے والا شخص، انصاف عدل اور قانون کی بالا دستی کے بھاشن دینے والا سیاستدان میڈیا کے روبرو احتساب عدالت سے واپسی پر ارشاد فرماتا ہے۔
کچھ اس سے بھی بد تر حالت زرداری کی ہو چکی ہے۔ ہفتہ گذشتہ ایک روز ان کا ایک وجدانی بیان تھا کہ عمران خان حکومت چلا سکتا ہے نہ ملک ۔ چند روز بعد قومی اسمبلی کے فلور پر یہی شخص عمران حکومت کو پانچ سالہ مدت پوری کرنے کا ”اِذن“ دیتے ہوئے اپنے تعاون کی پیشکش کر رہا تھا۔ ایسے ہی جذبہ خیر سگالی کا اظہار موصوف کا ولی عہدبلاول اگلے روز فلور آف دی ہاو¿س کر رہا تھا۔”قدم بڑھاو¿ عمران خان ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“
اب مگر آج کی سنیئے۔ زرداری ان دنوں اندرون سندھ رابطہ مہم چلا رہے ہیں۔ خفیہ پالیسی ان کی یہ ہے کہ اپنے تئیں عنقریب گرفتاری کی صورت حال میں مبتلا ہونے کا یقین کر لینے والے زرداری صاحب سندھی عوام کو اپنے حق میں اور حکومت مخالف اور نیب دشمنی میں پٹ سیاپا جھتے میں شمولیت کے لئے تیار رکھنا چاہتے ہیں۔اپنے قریبی ساتھیوں کو وہ کہتے پھرتے ہیں جس طرح عشرہ80میں اے آر ڈی کی تحریک سندھ کے دیہاتوں سے شہروں کی طرف پھیلی تھی اس طرھ ان کی گرفتاری کی صورت میں سندھ کے دیہاتوں سے ایک ”انقلابی“ لہر اٹھائی جائے۔ تاریخ کے سفر سے اناڑی زرداری کیا جانے کہ اس بار اگر سندھ کے دیہاتوں سے کوئی تحریک اٹھی تو وہ کسی زرداری کی سربلندی کے لئے نہیں بلکہ ملک کے ہر زرداری کو سرنگوں کرنے کے لئے ہوگی۔
اپنے اسی سندھ رابطہ مشن میں پچھلے روز منظور وسان نامی اپنے خواب فروشی ، سیاسی مزارع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زرداری فرماتے ہیں کہ ان کے خواب کے مطابق (عمران خان کی ) انڈر فورٹین ٹیم اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی۔ واہ جی واہ عمران خان کی یہ کیسی انڈر فور ٹیم ہے جس نے نواز ، زرداری جیسے گرگوں سمیت ان دونوں کی پارٹیوں کو کھڈے لائن لگا کر رکھ دیا ہے۔
اب آئیے اس میڈیا انٹرویوں کی طرف جس میں زرداری سے پوچھا گیا کہ ان دونوں ملک کے مختلف شہروں سے غریب لوگوں کے بنک کھاتوں سے کروڑوں اربوں کی دولت برآمد ہو رہی ہے۔ تو موصوف چور کی داڑھی میں تنکے کے مصداق بولے، نکلتی ہے تو پھر کیا ہوا۔ بالغرض وہ میری دولت ہے تو پھر کیا ہوا۔ یہ تو اس بندے کا قصور ہے جس کے کھاتے میں ہیں ایسی کوئی رقم جمع کراتا ہوں ۔
اف میرے اللہ، کوئی ڈھٹائی جیسی ڈھٹائی ہے جس کا جناب زراری صاحب اور اس سے پہلے جناب نواز شریف مظاہر کر چکے ہیں۔
”باری کی یاری“ رکھنے والوں کے ان دونوں کے موقف اور بیانات دیکھیں کہ کس طرح تضاد میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ نفسیاتی مریضوں کی مانند ہیجان خلجان اور شدید ڈپریشن سے لتھڑے ہوئے۔ شکست خوردگی کے ڈسے ہوئے۔ اور اپنے اپنے انجام بد سے سہمے ہوئے۔
اور ان دونوں راندہ درگاہ حکمرانوں اور سیاستدانون سے چمٹا ہوا یہی ڈر اور خوف ان کی آل اولاد میں بھی منتقل ہو چکا ہے۔ پہلے شہباز کے دونوں بیٹوں سلمان اور حمزہ کی سن لیجئے۔
قارئین کو یادہوگا چند روز پہلے تک یہی سلیمان اپنے خاندان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات پر بڑے طنطقے اور دبدے سے کہتا تھا”ثبوت لاڈ دکھاو¿“ اور پچھلے ہفتے جب نیب لاہور نے اس سے پوچھ گچھ شروع کی تو دم دبا کر بیرون ملک فرار ہوگیا ۔ جہاں اسی خاندان کے افراد اسحق ڈار حسن اور حسین اور بہنوئی علی عمران پہلے سے مفرور ہیں۔
گذشتہ روز حمزہ بھی نفسیاتی مریضوں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ اس کے ”خادم اعلیٰ“ باپ کی بہت بڑی چوری پکڑی گئی تھی، جس سے ایک طرف تو چوری کی بھاری بھر کم رقوم سامنے آگئی تھیں اور دوسری طرف واردات جرم کے طریق کار بھی مکمل کر طشت ازبام ہو گئے تھے۔
قارئین کو یہ تو یاد ہی ہوگا کہ جمزہ کا بہنوئی اور شہباز کا داماد علی عمران بہت ۔ بڑے مالی سکینڈل میں ملوث ہے۔ اور اب سزا کے خوف سے ملک سے باہر فرار ہو چکا ہے۔ البتہ اس کا فرنٹ مین اکرام نوید جو ”رل کے کھا رج کے کھا“ کے اصول کے تحت خادم اعلیٰ صاحب کے داماد علی عمران کو بھی کروڑوں روپے کی حصہ پتی ادا کرتا رہا ہے ، ان دنوں نیب لاہور کی تحویل میں تھا اس نے اقبال جرم کرتے ہوئے پلی بارگیننگ کر لی اور رشوت کی رقم علی عمران کے اکاو¿نٹ میں منتقل کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ۔ اس نے پنجاب کی مختلف کمپنیوں اور اداروں سے جو کروڑ ہا روپے لوٹے وہ بھی نیب کو واپس کر دی ہیں۔ اس اعتراف جرم کے بعد جہاں علی عمران اور شریف خاندان کی بچی کچھی ساکھ بھی ختم ہو گئی وہاں شہباز اور حمزہ کو بھی نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسی لئے تو آج حمزہ نیب کو جمہوریت کے ماتھے کا داگ قرار دیتا پھر رہا ہے۔۔

Scroll To Top