پانامہ لیکس میں شامل تمام پاکستانیوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

  • پانامہ لیکس میں ملک کا چوری کا پیسہ تھا ، سابق حکومت نے 242کیسز کو زیرالتوا ءرکھا،وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر
  • سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے کیمپ آفسز نے 1 ارب 43 کروڑ روپے خرچ کر ڈالے ، قومی اسمبلی میں تحریری جواب

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے پانامہ لیکس میں شامل تمام پاکستانیوں کیخلاف کارروائی کا اعلان کردیا جبکہ وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ گذشتہ حکومت نے 242 کیسز کو التوا میں رکھا تھاپامانا لیکس میں ملک کا چوری کا پیسا تھا بیرون ملک موجود 96 ہزار لوگوں کا ڈیٹا موصول ہوچکا ہے ہماری حکومت نے پاناما لیکس میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے ،حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گذشتہ حکومت نے وقت گزرجانے کی آڑ میں پاناما لیکس میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی تحقیقات کا قانون موجود ہے گذشتہ حکومت نے غلط تشریح کی ،حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ بہت جلد اپوزیشن بینچوں کو پتہ لگ جائے گا کیا ایکشن ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ جس پر ممبر قومی اسمبلی شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ حیران ہوں کہ حکومت پہلے کہتی تھی نیا قانون لارہے ہیں اور اب کہتی ہے قانون مو جود ہیں پاکستانیوں کے دنیا بھر میں خفیہ اکاونٹس سے متعلق وزارت خزانہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستانی شہریوں کے خفیہ فنڈز پر نظر رکھے ہوئے ایف بی آر دیگر ممالک کے ساتھ پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات سے متعلق اقدامات کر رہا ہے جبکہ ٹیکس قوانین کے اطلاق میں سوئس بینکوں میں رکھی گئی رقم بھی شامل ہے ۔وزارت خزانہ حکام نے پانامہ کے حوالے سے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پانامہ لیکس میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں دو سو چورانوے افراد کو نوٹس جاری کئے گئے ایک سو پچاس افراد کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ۔پانامہ لیکس میں شامل 12 افراد وفات پا چکے، چار پاکستانی شہری نہیں رہے ۔دس ارب نوے کروڑ روپے کی کرپشن کے 15 کیس حتمی مرحلے میں ہیں جبکہ اب تک 6 ارب 20 کروڑ روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں حکام نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں مدد کیلئے ایف بی آر نے او ای سی ڈی سے بھی مدد مانگی ہے وزارت منصوبہ بندی نے وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین سے متعلق قومی اسمبلی کو بتایا کہ وزیراعظم کے دورہ چین دوران مفاہمت کی یاداشت پر دستخط ہوئے وزارتی سطح کے دورے, ماہرین اور تکنیکی سطح کے دورے شامل ہونگے مال مویشی, پولٹری آبی مصنوعات کے لیے جینیاتی وسائل کے لیے تعاون پر اتفاق ہواکیڑوں, مکوڑوں اور بیماریوں پر قابو پانے کے لیے حیاتیاتی اور حیاتی ٹیکنالوجی پر مشترکہ تحقیق کے انتظام پر اتفاق ہوازراعت اور بیج اگائی کی روائتی جینیاتی تبدیل کردہ اقسام پر مشرکہ تحقیق کے انتظام پر بھی اتفاق ہوا حکام نے اسمبلی کو تحریری طور پر بتایا کہ فصل کٹائی کے پہلے اور بعد کی ذخیرہ اندوزی اور عمل کی ٹیکنالوجی میں تعاون کیا جائے گا موثر آبی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے تحفظ و انتظام آب کے شعبے میں تعاون کرنےبپر اتفاق ہوا ہے خوراک کے پائیدار نظام کے لیے زراعتی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق ہوا ہے جبکہ خوراک کے برآمدی شعبہ کو بڑھانے میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے سابق وزرائے اعظم کے کیمپ آفسز پر ہونے والے اخراجات کے حوالے سے قومی اسمبلی کو تحریری طور پر بتایا گیا کہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے کیمپ آفسز میں 1 ارب 43 کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے جبکہ شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے بعد بھی جاتی امرا کیمپ آفس قائم رہا نواز شریف کے جاتی امرا کیمپ آفس میں 2013 سے 2018 تک 92 لاکھ سے زائد اخراجات ہوئے شاہد خاقان عباسی کے اسلام آباد کیمپ آفس پر صرف 2 سال میں 51 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔

Scroll To Top