سپریم کورٹ نے 68دہشت گردوں کی رہائی روک دی

  • فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزاﺅں کو بحال کیا جائے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

اسلام آباد(صباح نیوز) سپریم کورٹ نے پشاورہائی کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے ملزمان کی رہائی کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سزائے موت کے مجرموں کی سزا کالعدم قرار دیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت کی جس میں اعلی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا ، ملزمان دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں لہذا فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزاﺅں کو بحال کیا جائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کونوٹس جاری کرتے ہوئے جیل سپرنٹنڈنٹس کو ملزمان کو رہا کرنے سے بھی روک دیا۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔واضح رہے کو پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 68 ملزمان عدم شواہد کی بنا پر بری کرنے کا حکم تھا جس کے خلاف وزارت دفاع نے اپیلیں دائر کی تھیں۔

Scroll To Top