غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے سے گریز میں ہی عافیت ہے

  • حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا ایوان کا ماحول بہتر بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے پراتفاق
  • جمہوریت کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے چنانچہ ہر گزرتے دن کو امتحان سمجھا جائے
  • وزیر اعظم پاکستان کا اپوزیشن جماعتوںکو ساتھ لے کر چلنے کا عزم خوش آئند کہا جارہا
  • سیاست سماج کا عکس ہے جب معاشرہ بہتر ہوگا تو سیاست میں بھی اچھے لوگ دکھائی دینگے

zaheer-babar-logo

وطن عزیز کا شائد ہی کوئی ہوشمند شخص ایسا ہوگا کہ جو ملکی مسائل کو حل کرنے کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت سے انکار کرے۔ اس میں دوآراءنہیں کہ اپوزیشن کا کام حکومت پر جائز تنقید کرکے اس تعمیری کردار ادا کرنے پر مجبور کرنا ہے جبکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام سے کیے گے اپنے وعدے پورے کرے۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا کہ حکومت حزب اختلاف کی جماعتوں سے محاذآرائی کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی سے اجلاس خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا موقف تھا کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیںمگر حزب اختلاف ماحول کو خراب کرنے کے درپے ہے“۔ ادھر یہ پیش رفت بھی ہوئی کہ وفاقی وزیر دفاع نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میںفیصلہ کیا گیا ہے کہ اسمبلی کی کاروائی قوائد وضوابط کے مطابق چلائی جائیگی اور غیر پارلیمانی زبان استمال کرنے سے گریز کیا جائیگا۔ اس تجویز پر قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ ہم پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی حمایت کرتے ہیں ۔ ایوان میں دونوں جانب سے غیر پارلیمانی زبان کا استمال کیا گیا جو قابل مذمت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد جمہوریت اور آئین کی خاطر رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔“
وطن عزیز میں جمہوریت کا سفر جاری وساری ہے ۔ اب تک دوآئینی حکومتوں نے پانچ پانچ سال اپنی مدت پوری کی تو اب پاکستان تحریک انصاف وفاق میںموجود ہے۔ مخصوص حوالوں سے جمہوریت کا کام محض یہ نہیں کہ ہر پانچ سال بعد ایک نئی پارٹی اقتدار پر براجمان ہوجائے۔ رائج نظام کی افادیت واہمیت اسی وقت ثابت ہوسکتی ہے جب یہ عام آدمی کی مشکلات میں کمی لانے کے لیے پوری طرح متحرک رہے۔ ایوان کا تقدس بھی اسی وقت قائم ہوگا جب اس میں ان کروڈوں پاکستانیوں کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف اپنی پوری توانائیاں صرف کردے۔ بلاشبہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے ہاں رائج نظام پختگی کی منازل طے کررہا۔ یاد رکھنا چاہے کہ جمہوریت انقلاب کا نام نہیں۔ اس نظام میں بہتری بتدریج ظاہر ہوا کرتی ہے ، اس لیے کسی نے درست کہا کہ جمہوریت کی ناکامی کا مطلب ہے اور جمہوریت۔
اس میں دو آراءنہیں کہ وطن عزیز کی سیاسی جماعتیں طویل عرصہ صرف اور صرف اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے تحفظ میں پیش پیش رہیں۔کسی جانب سے بھی یہ سوچنے کی زحمت نہ کی گی کہ جس جمہوری نظام کا نام نام لے کر وہ حکومت کے مزے لیتے ہیں دراصل وہ ہے کیا۔ بلاشبہ سیاسی جماعتیں اس وقت دباو میں آئیں جب درجنوں ٹی وی چنیل سامنے آئے۔ عوام کا ہر چھوٹا بڑا مسلہ ٹی وی سیکرینوں کی زینت تب بنا جب پرائیوٹ میڈیا سامنے آیا۔ کون انکار کرسکتا ہے کہ ملکی میڈیا میں بہتری کی خاطر خواہ گنجائش موجود ہے مگر اب بھی جو کچھ عوام مل رہا وہ ہرگز کم نہیں۔ عمران خان کو اس کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہوگی کہ اس نے روایتی سیاسی جماعتوں کو آزمائش میں مبتلا کردیا۔عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈر معروف سیاسی قائدین کو یہ کہہ کر کٹہرے میں لاکھڑا کردیا کہ وہ بتائیں کہ انھوں نے عوام کے لیے کیا کچھ کیا۔ عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈر جو کردار ادا کیا اس نے آج ملکی سیاست کو مشکل کردیا ۔ مگر اب پاکستان تحریک انصاف کے لیے وہی کڑا معیار مقرر ہوچکا جس پر ماضی کی حکومتیں پرکھی جاتی رہیں۔
جمہوریت سے فلاحی ریاست کا سفر آسان نہیں۔خود مغربی ملکوںکی تاریخ گواہ ہے کہ وہاں کب اور کیسے دل وجان سے عوامی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا۔ برطانیہ میں کلیسا اور بادشاہوں کے ظلم وستم کی داستانیں آج بھی دل ہلا دینے کے لیے بہت کافی ہیں۔
ہماری اپوزیشن جماعتوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ذاتی اور گروہی مفادات موجودہ نظام سے اس قدر وابستہ ہوچکے کہ وہ کسی طور پر انھیں خود سے الگ نہیں کرسکتے ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کا ہر کاروباری شخص بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر سیاست سے منسلک ہے ، اسے اندازہ ہے کہ جب تک وہ سیاست کی چھتری استمال نہیں کریگا اس کے اہداف نہیں پورے ہونے والے ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک نے ابھی بہتر نظام حکومت کے حصول کے لیے لمبا سفر طے کرنا ہے۔ تاحال یقین سے کہنا مشکل ہے کہ حقیقی جمہوریت کی منزل تک ہم کب پہنچیں گے مگر سچ یہی ہے کہ یہ سفر شرو ع ہوچکا۔ اب سیاسی جماعتوں کی بنیادی زمہ داری ہے کہ وہ اپنی صفوں میں سے ان کالی بھیڑوںکو نکال باہر کریں جن کا کام صرف اور صرف طاقت اور دولت کا حصول ہے۔ بلاشبہ سیاست سماج کاعکس ہوا کرتی ہے جب ہمارے معاشر ے میں اندھا دھند دولت کمانے والوں کی تعداد بڑھتی رہے گی تو پھر سیاست کو کس طرح محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ کسی نے ٹھیک کہا کہ کہ افراد کو بہتر بنایا جائے تو اس کا اثر معاشرے کے ہر شعبہ میں دکھائی دیگا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے پر تو تنقید کرتے ہیں مگر خود کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔جمہوریت کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ معاشرے ہر فرد آگے بڑھ کر مثبت سرگرمیوں میںاپنا کردار ادا کرے۔ کہا جاسکتاہے کہ جمہوریت سے بہتر نتائج کے حصول کے لیے خود کو بہتر بنانا ہوگا۔

Scroll To Top