ہمارے یہ سیاستدان اور تاریخ کا کوڑے دان

  • گھریلوں پارٹیاں بہت جلد کاٹھ کباڑ کا کھلواڑ بننے والی ہیں
  • ہوسِ کثرت اور غفلت، یونہی ہوئی قبروں کی زیارت
  • باری کی یاری، قوم کی بربادی، انجام شکستہ پائی و رسوائی
  • قوم کے معاشی مجرم اب اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔
  • کوئی سیاسی پارٹی اپنی نظریاتی شناخت قائم نہیں کر پائی
  • خدا کے لئے سمجھ جاو¿ کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی۔

gulzar-afaqi

قرآن کریم کا آخری پارہ،102ویں سورہ التکاثر
بے مثل درس زندگی، کامیابی و کامرانی کی ضامن، عظمت سے مالا مال رہنما بخش،
کاش وہ اس مینارہ ہدائت سے رجوع کر چکے ہوتے۔ کوزے میں بند دریاں نہیں سمندر در سمندر ، ایک نظر آپ بھی ڈال لیجئے۔
ارشاد الہٰی ہے۔
”تمہیں حصول کثرت کی ہوس نے غفلت میں رکھا۔ یہاں تک کہ تم نے قبروں کی زیارت کر لی۔“
جب بھی کوئی مقتدر صاحب دولت و ثروت کفن پوش ہو کر قبر نشین ہوا تو لکھا گیا”کفن کی جیب نہیں ہوتی“۔
یہ فقیر چین گیا، پرانے بادشاہوں کی قبور دیکھیں، بعض کو سامان عبرت بنانے کے لئے کھلی حالت میں رکھا گیا۔ ہڈیوں کے ڈھانچے کے دائیں بائیں قیمتی جواہر وزیورات کے ڈھیر، مگر کسی کام کے نہیں۔ پھر زندگی میں ہوس اقتدار، اور ہوس دولت و ثروت کیوں؟
پر افسوس پاکستان کا مقتدر طبقہ، جسے طبقہ بدمعاشیہ کہنا زیادہ مناسب ہے ، اس سوال اور اس کے جواب سے رجوع نہیں کرتا۔ زمانہ حال میں زرداری اور نواز اس طبقے کی بد نما علامتیں ہیں۔
کہاں بلوچستان اور سندھ کی سرحدی پٹی کے گردونواح کے زرداری قبیلے کے حاکو میاں یعنی حاکم علی زرداری کا ولی عہد آصف زرداری جسے پشاور کیڈٹ کالج سے بوجوہ نکال دیا گیا تھا اور جس کے کندھوں پر آج بھی کراچی کے بمبینو سینما میںٹکٹ بلیک کرنے کی تہمت لٹکی ہوئی ہے اور جو سرے محل اور زرد جواہر سے مرصع بیش قیمت نیکلس کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہے اور جو بد قسمتی سے اس ملک کا صدر بھی رہ چکا ہے، اور آج جس کی دولت کے چرچے ملک بھر اور سندھ کے بنک کھاتوں سے بے طرح پھوٹ رہے ہیں۔
آج کی نشست میں تو مگر مجھے نون لیگ کے کرتا دھرتا اور نا اہل سابق وزیر اعظم ، مجرم اور عارضی ضمانت پر جیل سے باہرنواز شریف کا ذکر کرنا ہے جس نے ہوس کثرت میں اتنی دولت جمع کر لی کہ اس کے وسیع وعریض محلات میں عزت رکھنے کی کوئی جگہ ہی نہ بچی۔
رزق حلال کے لئے محنت مشقت ایک انتہائی مستحسن عادت اور معمولی ہے۔ جیسا کہ لگ بھگ ایک صدری پہلے شریف خانوادے کے آباو اجداد کا چلن تھا۔ نواز شریف کا پردادا سیداں پھیری لگا کر موتیے کے ہار بیچا کرتا تھا، جبکہ دادا رمضان عرف جاناں کنوئیں کی رہٹ چلاتا تھا۔ 1936میں گھر کے معاشی حالات زیادہ خراب ہوگئے تو جاناں نے اپنے دو بیٹوں شفیع اور شریف کو لاہور محنت مزدوری کی غرض سے بھیج دیا جہاں انہوں نے ریلوے سٹیشن کے قریب سرائے سلطان میں ایک ہندو کی لوہے کی بھٹی پر مزدوری کرنا شروع کر دی ۔سخت گرمیوں میں دونوں بھائی دہکتی آگ کے سامنے دن بھر لوہا کوٹے۔ رات کو ان دونوں کو ایک روپے معاوضہ دیا جاتا۔ وہ دونوں چار آنے سے اپنی روٹی پانی چلاتے اور باقی بارہ آنے گھر بجھوا دیتے تھے۔
یہاں تک نواز شریف کے باپ کی رزق حلال کی کمائی کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم معاملہ تو بعد کے ماہ وسال میں بگڑ تگڑ کر رہ گیا۔ جب کثرت کی ہوس نے اس خانوادے کو رزق حلال کی پٹڑی سے اتار دیا۔ بس اس کے بعد تو پھر چل سو چل روپے کی ہوس میں ”شریفوں“ نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔
80کے عشرے کے ابتدا میں ہی ایک صفت کار کی حیثیت سے محمد شریف ، جواب اپنے نام کے ساتھ میاں کا سابقہ بھی لگانے لگے تھے اس وقت کے آمر مطلق ضیاءالحق سے ملے دونوں کے درمیان بھٹو دشمنی کی قدر مشترک تھی۔ ضیا نے بھٹو کا تختہ الٹ کر اس کی دشمنی مول لے لی تھی جبکہ میاں شریف کی اتفاق فونڈری کو بھٹو نے قومیاں لیا تھا۔ یہاں سے شریف خاندان کے دن پھرنے پر آگئے۔ ضیا کے معتمد اور پنجاب کے گورنر جیلانی نے نواز شریف کی پیٹھ تھپکی۔ پہلے اسے پنجاب کا وزیر خزانہ بنایا اور پھر وزیر اعلیٰ بنانے کی راہ ہموار کی اور پھر چل سو چل والا قصہ ہو گیا۔ 90میں بے نظیر حکومت کو چلتا کرنے کے بعد نواز شریف کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ اسی دوران اس نے ایک محلاتی سازش کے ذریعے فدا محمد خاںکے ساتھ مل کر جونیجو کی لیگ میں دراڑ پیدا کی اور اپنی دولت اور وسائل سے مسلم لیگ کے ایک بڑے حصے کو مرکزی پارٹی سے الگ کر کے نون لیگ کے نام سے اپنا الگ دھڑا بنا لیا۔ 96میں اسے ایک بار پھر وزیر اعظم بنا لیا گیا مگر بہت جلد مشرف نے اس کا تختہ کر دیا۔ عشرہ2000میں نواز اپنے خاندان سمیت مشرف سے این آر او کر کے دس سال کے لئے وطن چھوڑ کر جدہ چلا گیا۔ البتہ پانچ سال بعد ہی ملک میں لوٹ آیا مگر مشرف نے اسے رسیوں سے باندھ کر دوبارہ جدہ بھجوا دیا۔15اکتوبر2007کو این آر او کے ذریعے نواز شریف اور بے نظیر وطن واپس آگئے۔ تا ہم اسی سال دسمبر میں بے نظیر قتل ہوئی تو اگلے سال کے شروع میں ہونے والے عام انتخابات میں بے نظیر کی پیپلز پارٹی ہمدردی کے ووٹ کے ساتھ حکومت میں آگئی۔ یہاں پہلی دفعہ آصف زرداری کو براہ راست حکومتی ایوانوں میں گل کھلانے کے مواقع میسر آگئے۔ نواز شریف اور زرداری چونکہ دونوں ہی دولت پرستی میں حد سے آگے نکل چکے تھے لہٰذا ان کے مابین”جیو اور جینے دو“ کے اصول پر ایک خاموش راضی نامہ ہو گیا۔ یہیں سے زرداری اور نواز کے درمیان”باری کی یاری“ کی سیاست گردی کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس نظم کے تحت دونوں نے باری باری اس ملک کے خزانوں اور وسائل کو بے دردی سے لوٹا۔ پاکستان کے عوام کی محنت کی کمائی پر نقب لگا کر اس کے غالب حصے بیرون ملک بنکوں میں چھپائے یا پھر بے نامی جائیدادیں کھڑی کیں۔
اکتوبر99میں مشرف کے ہاتھوں حکومت گنوانے کے بعد نواز شریف 9دسمبر2000کو جس معاہدے کے تحت دس سال کے لئے ملک چھوڑ کر گیا، ا سکے نتیجے میں ا سکی کھڑی کردہ گھریلو سیاسی جماعت مسلم لیگ نون بہت جلد منتشر ہوگئی۔ اس کی دیگر وجود کے علاوہ نواز شریف کا خالصتاً ذاتی بچاو¿ کے لئے راہ فرار اختیار کرنا تھا۔ اس کے ساتھیوں نے سوچا ہم ایک بھگوڑے ” رہنما“ کی خاطر مشرف سے دشمنی مول کیوں لیں چنانچہ وہ سب عناصر چوہدری شجاعت اور پرویز الہٰی کے کیمپ میں چلے گئے جنہوں نے جلد ہی مسلم لیگ قائد اعظم کے نام سے اپنی پارٹی رجسٹر کروالی۔ جلد ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا ناراض گروپ بھی فیصل صالح حیات کی قیادت میں بے نظیر سے الگ ہو کر پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے نام سے الگ پارٹی بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ بے نظیر کو جب خطرہ نظر آیا کہ مشرف اس کی پارٹی کو بھی خلاف قانون قرار نہ دے ڈالے اس نے بھی پی پی پی کے ساتھ پارلیمنٹرین کا دم چھلا لگا کر ایک اور پارٹی بناڈالی۔
اگر ہم بغور جائزہ لیں تو مقتدر طبقے کی دونوں بڑی علامتوں یعنی بے نظیر اور ان کے بعدزرداری اور نواز شریف کی سیاست کی آڑ میں مفاداتی سرگرمیاں بنیادی طور پر عوام دشمنی پر مبنی ہیں۔ 60کے عشرت کے اوآخر میں بھٹو نے روٹی کپڑے مکان کے جس نعرے کی بنیاد پر اقتدار تک رسائی حاصل کی تھی اس کے بعد اس کے جانشینوں اور حریفوں نے اس کی یہ تشریح کی کہ روٹی کپڑا مکان کا چالو نعرہ جب تک زندہ رہے گا غریب اور بھوک پیاس کے ستائے ہوئے عوام آپ کے پیچھے چلتے رہیں گے۔
مگر کیا کیجئے ملک میں تاریخ کا جبر باری کی یاری والی دونوں گھریلو پارٹیوں کو گھر بجھوا چکا ہے۔ ان کی جگہ عمران خان ایک بالکل ہی جداگانہ ایجنڈے کے ساتھ پیش منظر پر طلوع ہوا ہے۔ کرپشن کا خاتمہ اس کا بنیادی ایجنڈا ہے۔زرداری اپنے معاشی جرائم کی سزا بھگتنے کے بہت قریب ہے جبکہ نواز شریف اپنے پورے ٹبر سمیت تاریخ کے کوڑے دان میں جانے والا ہے پچھلے30سال سے زائد عرصے میں نواز شریف اقتدار میں رہنے کے باوجود اپنے دھڑے کو نظریاتی اساس پر کھڑا نہ کر سکے۔ چنانچہ اس کی اپنی مثل پر اس کے اردگرد مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ جمع ہے جن کا ایک موٹو ہے اقتدار ، اقتدار اور صرف اقتدار، آنے والے دنوں میں نواز شریف کا پورا ٹبر ایک بار پھر اگلے کئی سال کے لئے جیلوں میں ہوگا۔اور2010کی طرح ایک بار پھر اس کی نون لیگ کاٹھ کبار کاکھلواڑ بن کر رہ جائے گی۔

Scroll To Top