ملک میں سربجیت سنگھوں اور رے منڈڈیوسوں کی فوج بکھری ہوئی ہے 10-04-2014

kal-ki-baat
کیا ملک میں کوئی شخص یا ادارہ یہ بتا سکتا ہے کہ خیبر سے کراچی تک وطنِ عزیزکے کونے کھدروں میں کتنے سربجیت سنگھ اور کتنے ریمنڈڈیوس مورچہ بند ہیں اور ان کے سپرد کون کون سا مشن ہے ؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ صدر ایوب خان کے زمانے میں یہاں غیر ملکی جاسوسوں اور ایجنٹوں کے لئے اپنا کام کرنے کی خاطر جال بچھانا او ر کمین گاہیں بنانا خاصا مشکل کام تھا۔ ہمارے خفیہ ادارے مشکوک لوگوں کی نگرانی کافی چاک و چوبند رہ کر کیا کرتے تھے۔ ایسے اشخاص پر بطور خاص نظر رکھی جاتی تھی جن کے روابط غیر ملکی سفارتخانوں کے ساتھ کچھ زیادہ ہی ہوا کرتے تھے۔ ایسے سفارتخانوں میں بھارت کا نام منطقی طور پر سرفہرست ہوا کرتا تھا۔ یہ سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا۔ مگر پھر کچھ لکیریں مٹنی شروع ہوگئیں۔ حتیٰ کہ جب برطانیہ کے ایک شہری رحمان ملک پاکستان کے وزیر داخلہ بنے تو ویزوں کے اجراءمیں جو فیاضی دکھائی گئی اس کی وجہ سے وطنِ عزیز غیر ملکی مفادات کے لئے کام کرنے والے افراد کے لئے پوری طرح کھول دیا گیا۔
صورتحال نے کس قدر خطرناک یا تشویشناک شکل اختیار کی اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جناب نجم سیٹھی کو عام انتخابات کی نگرانی کے لئے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے میں کوئی باک نہ سمجھا گیا اور اب ایک اہم قومی ادارے کے چیئرمین بنادیئے گئے ہیں۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اب ہمارا ملک بڑے چھوٹے میر صادقوں اور میر جعفروں کی شکار گاہ بن چکاہے۔ مجھے یہ سب کچھ لکھنے کی ضرورت پیرودھائی میں ہلاکت آفرین بم دھماکے اور ا س سے پہلے سبی میں مسافر گاڑی کو ٹارگٹ کرنے والی خونی کارروائی کی وجہ سے پیش آئی ہے۔
مجھے اُس دن کا انتظار بڑی شدت سے رہے گا جب اِس ملک کے رحمان ملکوں کا محاسبہ کرنے والی قوتیں حرکت میں آئیں گی۔

Scroll To Top