ویسے یہ زمینی زندگی ہے کیا ۔۔۔؟ ازل سے ابد تک ایک مختصر سالمحہ۔۔۔

aaj-ki-baat-new

اگر یہ لمحہ اللہ کی راہ میں خرچ ہوجائے تو کتنی بڑی بات ہے !
دشمنان ِ پاکستان کے خلاف جنگ نے ایک اور فوجی افسر کو رتبہ ءشہادت سے سرفراز کیا ہے۔ اس کا نام کیپٹن ضرار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شہیدوں کے نام نہیں ہوا کرتے۔ نام صرف پہچان کے لئے ہوتے ہیں۔ ورنہ شہید صرف شہید ہوتے ہیں ۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو روح بھی پیدا کی اسے جسد خاکی عطا کرنے سے پہلے اس کی تقدیر لکھ دی۔ نبیوّں کے نام نبوّت لکھ دی گئی ۔ شہیدوں کے نام شہادت لکھ دی گئی ۔ کافروں اور مشرکوں کے نام کفر و شرک لکھ دیا گیا۔غازیوں کے نام فتح و نصرت لکھ دی گئی۔ ظالموں کے نام ظلم اور عادلوں کے نام عدل لکھ دیا گیا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو (نعوذ باللہ)یہ معلوم نہ ہو کہ کس شخص نے کیسی زندگی گزارنی ہے اور کیسی موت مرنا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قادرِ مطلق کو قادرِ مطلق کیوں کہا جاتا۔۔۔؟
میں بات ایک سپاہی کی شہادت تک محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ افسر بھی ایک سپاہی ہی ہوتا ہے۔ اور میرا ایمان ہے کہ ہر مسلمان اپنے خمیر میں ایک سپاہی کی خصوصیات لے کر پیدا ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ اللہ کے آخری رسول اور سید الانبیا ﷺ تھے۔ مگر آپ ﷺ ایک سپہ سالار بھی تھے اور ایک سپاہی بھی تھے۔
میں نے یہ ساری تمہید ایئر مارشل اصغر خان مرحوم کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو کے ذکر کے لئے باندھی ہے۔ اصغر خان فضائیہ کے بارے میں نہایت شدت کے ساتھ محبت کے جذبات رکھتے تھے اور زمینی فوج کے بارے میں ان کے خیالات ویسے اعلیٰ نہیں تھے۔
میں نے ایک بار ان سے اِس ” جانبداری “ کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا۔
” دو باتیں فضائیہ کو ممتاز کرتی ہیں۔ ہوا باز جب اڑان بھرتا ہے یعنی اس کا طیارہ زمین کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتا ہے تو وہ اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑ آتا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ واپس آئے گا یا نہیں۔ فضا میں سارے فیصلے اسے خود کرنے پڑتے ہیں۔ اگر دشمن طیارے سے اس کی مڈبھیڑ ہو جائے تو اپنی رہنمائی اسے خود کرنی پڑتی ہے۔ زمینی سپاہی ہمیشہ احکامات کا منتظر اور محتاج ہوتا ہے جبکہ ہوا باز کے اندر خود فیصلہ کرنے اور خود اس پر عمل کرنے کی صلاحیت اور قوت پیدا ہوجاتی ہے۔
ایئرمارشل اصغر خان کے ساتھ ہونے والی اپنی اس گفتگو کا ذکر ایک بار میں نے جنرل حمید گل سے کیا تو وہ ہنس پڑے۔ ” ایئر مارشل بڑے اعلیٰ کردا ر کے سپاہی ہیں۔ ان کی لیاقت دیانت اور عظمت میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ مگر میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ کامیابی کی اتنی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد وہ ناکام کیوں ہوئے۔ اپنے اس سوال کا مجھے ایک ہی جواب ملا۔ اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود ایئر مارشل صاحب کا دل ” نور ِمحمد ﷺ “ سے خالی رہا۔ انہیں یہ بات یاد نہ رہی کہ آنحضرت ﷺ بھی ایک سپاہی تھے۔ اور وہ طیارہ نہیں اڑایا کرتے تھے ۔ کوئی بھی سپاہی جب جہاد کے لئے نکلتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ واپس آئے گا یا نہیں۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ شہادت کا بلند مقام پائے۔ مگر ساتھ ہی یہ یقین بھی ہوتا ہے کہ وہ دشمن پر غالب آکر واپس لوٹے گا۔
ویسے یہ زمینی زندگی ہے کیا ۔۔۔؟
ازل سے ابد تک ایک مختصر سالمحہ۔۔۔
اگر یہ لمحہ اللہ کی راہ میں خرچ ہوجائے تو کتنی بڑی بات ہے !

Scroll To Top