قومی اسمبلی اجلاس :حکومت، اپوزیشن کا ضابطہ اخلاق کمیٹی بنانے پر اتفاق

  • وقفہ سوالات میں فواد چودھری اور شیخ روحیل اصغر کے درمیان تلخ کلامی ، پرویز خٹک کی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز
اسلام آباد:۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کابینہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں بارے میڈیا کو آگاہ کر رہے ہیں

اسلام آباد:۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کابینہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں بارے میڈیا کو آگاہ کر رہے ہیں

اسلام آباد (صباح نیوز) حکومت اپوزیشن میں جمعرات کو قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی کے لیے ضابطہ اخلاق کمیٹی بنانے پر اتفاق ہو گیا تجویز وزیر دفاع پرویز خٹک نے دی تھی اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف متحدہ مجلس کے رہنما مولانا عبدالواسع اور دیگر رہنماﺅں نے ضابطہ اخلاق کے لیے ہاﺅس کی خصوصی کمیٹی بنانے کی حمایت کر دی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی میں حکمران اتحاد کے ارکان اور وزراءکو کنٹرول کرنے کے لیے وزیر دفاع کی ذمہ داری لگا دی ہے اور پارلیمانی پارٹی نے وزیر اعظم کے فیصلہ کی توثیق کر دی ہے ۔گزشتہ روز ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی تھی ۔مولا جٹ، تن کے کپڑے سمیت دیگر انتہائی غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ ہم نے اچھے ماحول میں اسمبلی کو چلانا ہے۔ قانون کے مطابق کاروائی کو آگے بڑھانا ہے۔ ہماری پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی آج یہ بات ہوئی اس حوالے سے میری ذمہ داری لگائی گئی ہے ہم نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا ہے ۔باہر بیٹھ کر بھی ایسی زبان استعمال نہیں ہو سکتی یہی ماحول رہے گا تو ارکان اسمبلی کی کوئی عزت نہیں رہے گی ۔ٹو دی پوائنٹ بات ہونی چاہیے حکومت اصلاح احوال کے لیے تیار ہے ۔ہم اپنے نقائص دور کرنے کو تیار ہیں ہمیں اپوزیشن کے مشورے چاہیے رہنمائی چاہیے۔ ارکان کے بارے میں ضابطہ اخلاق کے لیے کمیٹی بننی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف نے کہا کہ وزیردفاع کی رائے کو صدق دل سے خوش آمدید کہتا ہوں کمیٹی بنائی جائے ۔جمہوری روایت کو فروغ دینے کے لیے آئے ہیں مثبت ذہنی سوچ کے ساتھ ملک کے معاملات کو تابناک بنانے کے لیے گفتگو ہونی چاہیے۔ قانون سازی کی جائے تجاویز سامنے آئیں۔ حکومت اپوزیشن گاڑی کے دو پہیے ہیں اگر ایک خراب ہو گا تو معاملات خراب ہوں گے۔ پوری دنیا ہم کو دیکھ رہی ہے۔ آئین عوام پارلیمان کے تقدس کے حوالے سے ہمیں اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے ۔گزشتہ چند دنوں سے مچھلی بازار لگ رہا ہے ۔غیر پارلیمانی زبان دونوں اطراف سے استعمال کی گئی۔ چھان بین میں گئے تو معاملات دور تک جائیں گے۔ اگر ہم نے جمہوریت کو مضبوط نہ کیا تو 22کروڑ کے مسائل ہیں چیلنجز ہیں۔ تعمیری سوچ کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے۔ گالم گلوچ اور بدزبانی سے ذاتی تسکین تو ہو سکتی ہے مگر قوم میں مایوسی پیدا ہوگی ہے۔ بعض وزراءبغیر کسی بنیاد ثبوت کے بیانات دیتے ہیں یہ جمہوریت کی خدمت نہ ہے ۔احترام ہو گا عزت و احترام کے لیے پارلیمانی زبان استعمال کریں۔ بے بنیاد الزامات اور بدزبانی سے گریز کریں ۔ساری اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق ہے کہ اگر ہم نے عوام اور پارلیمان کا وقت ضائع نہ کرنا ہے تو ذمہ داری کا ثبوت دیں ۔اگر کلہاڑا خود ماریں گے تو کسی اور کو دوش نہیں دے سکتے۔ کمیٹی کی تجویز پر اتفاق کرتا ہوں ضابطہ اخلاق بنائیں دل مجروح نہ کریں۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی ضابطہ اخلاق کمیٹی کی تجویز کی حمایت کر دی اور کہا کہ معزز ایوان کو دانش گاہ کہتے ہیں اگر پارلیمانی آداب سے ہٹھ کر بات کرتے ہیں تو ہم اپنا اور مقدس ہاﺅس کا مذاق بناتے ہیں۔ پارلیمان میں کوئی کام نہ ہو رہا ہے ۔کئی دنوں سے ملکی معیشت پر بحث مﺅخر ہو رہی ہے۔ کوئی مثبت بات نہیں ہوئی۔ ایکد وسرے کی بے عزتی کے لیے نت نئے الفاط گھڑتے ہیں۔ کوئی شریف آدمی ایوان کو کاروائی کو دیکھ نہیں سکتا ہم نے کبھی اس کھیل میں حصہ نہ لیا ۔ہم نے مثبت سیاست کرنی ہے ۔متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا عبدالواسع نے بھی ضابطہ اخلاق کمیٹی بنانے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔

Scroll To Top