قومی میڈیا بلوچستان میں مثبت تبدیلیوںکا نظر انداز کررہا !

  • بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں سیاسی اور لسانی تفرقہ پیدا کرنے میں مصروف ہیں
  • بلوچستان کے لوگوں کو تعلیم سے روشناس کروانا ہوگا تاکہ سرداروں اور جاگیرداروں کا اثر کم ہو
  • آنے والے سالوں میں بھی دشمن بلوچستان میں مسائل پیدا کرنے سے بازآتا نظر نہیں آرہا
  • ایف سی بلوچستان کے انکشافات کی روشنی میں صوبے میں بہتری کی کوششوں کو تیز کیا جائے

zaheer-babar-logo

بلوچستان کا معاملہ یہ ہے کہ ایک طرف وہاں علاقائی و عالمی طاقتیں لسانی ، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر تفرقہ پیدا کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب قومی میڈیا رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں مثبت تبدیلیوں کی خبر دینے کو تیار نہیں۔ اسی بات کا شکوہ ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم نے سنیٹ کمیٹی برائے داخلہ میں بھی کیا۔ ایف سی بلوچستان کا کہنا تھا کہ میڈیا صوبے میں صرف بم اور بارود دکھاتا ہے کامیاب کہانیاں نہیںد کھاتا۔ میجر جنرل ندیم انجم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بی آراے ، بی ایل اے ، بی ایل ایف اور لشکر بلوچستان جیسی جماعتیںموجود ہیں، صوبے میں داعش کے نشانات نہیں رہے جبکہ لشکر جھنگوی کو ختم کردیا گیا ۔کمانڈر ایف سی کا کھل کر کہنا تھا کہ بلوچستان کی کالعدم مذہبی ولسانی تنظمیوں کو ”را “ اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس مدد دے رہی ہیں۔
بلوچستان میںاصلاح احوال کی کوشش تو جاری ہیں مگر ایک سوال بہرکیف پوچھا جارہا کہ صوبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاسی عزم کس حد تک موجود ہے۔پاکستان تحریک انصاف کو بہرکیف یہ کریڈٹ دینا ہوگا کہ عمران خان پورے اخلاص کے ساتھ کہ اہل بلوچستان کی بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک تجربہ ماضی کی طر ح پھر دہراہا گیا کہ کلیدی سرکاری عہدوں پربلوچستان کے لوگوں کو لایا جائے ۔ بلوچستان سے چیرمین سینٹ ہوں یا ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو لا کر یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کی مشکلات ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔
ایک تبصرہ ہے کہ بلوچستان کے مسائل اس وقت تک حل نہیںہونے والے جب تک خود بلوچ قیادت خود کو تبدیل نہیں کریں گی۔ ایسا نہیںکہ ماضی کی حکومتوں نے صوبے کی مشکلات کو حل کرنے کے فنڈز مہیا نہیں کیے بلکہ مسلہ یہ رہا کہ صوبے کے قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین نے ایمانداری سے فنڈز خرچ نہیں کیے ۔ یہ محض الزام نہیںکہ بلوچستان کے بشیتر سیاست دان ، مذہبی رہنما حتی کہ بیوروکریسی بھی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی عادی ہوچکیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب مئی 2016میں بلوچستان کے سیکرٹری خزانے مشتاق ریسئانی کے گھر سے چھاپہ مار کر 75 کروڈ روپے نقد اور کم وبیش 4کروڈ کا سونا برآمد کرلیا گیا۔ مشتاق ریسئانی 2013سے سیکرٹری خزانے کے عہدے پرکام کررہے تھے ۔یاد رہے کہ بلوچستان کے سیکرٹری خزانے کو قومی احتساب بیورو نے محکمہ لوکل گورنمنٹ میں ایک ارب روپے سے زائد کی خرد برد کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
افسوس کہ مشتاق ریسئانی کے گھر سے کروڈوں روپے کا سونا اور نقدی برآمد ہونے کے باوجود انھیں ایسی سزا نہ مل سکی جو دوسروں کے لیے باعث عبرت کہلاتی۔ بلوچستان میں جہاںدیگر مسائل ہیں وہی کرپشن بھی بدستور بڑا مسلہ ہے۔ اب تک ہر صوبائی حکومت زبانی جمع خرچ کے طور پر بدعنوانی کے خلاف نظر آئی مگر اس کی چھتری کے نیچے ایسے لوگ باآسانی تلاش مل گے جن کے دامن داغدار تھے۔ سوال یہ ہے کہ جب صوبے میں ایک طرف لاکھوں شہریوںکو پیٹ بھر کر کھانا بھی میسر نہ ہو تو ایسے میں تعمیر وترقی کے منصوبوں کی افادیت کے گن کیسے گائے جائیں۔ بلوچستان کی مشکلات کم کرنے کی ایک تجویز یہ بھی دی گی کہ وہاں قبائلی سرداروں کے اثر رسوخ کو کم کیا جائے آسان الفاظ میں یوں کہ محکوم لوگوں کے ووٹوں سے اسمبلی پہنچے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ آخر کیونکر ہوگا جب صوبے کی ساری اسمبلی ہی جاگیرداروں اور نوابوں سے بھری پڑی ہے۔
بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے بنیادی طور پر وہاں کے لوگوں کو تعلیم یافتہ بنانا ہوگا۔ مذید یہ کہ مقامی حکومتوں کا نظام صوبے میں اس طرح سے نافذ کیا جائے کہ وہاں کے بسنے والوں کو اپنی مشکلات حل ہوتی نظر آئیں۔ تسلیم کہ بیشتر علاقوں میں عوام کا ایک ہی مقام پر رہنا ناممکن ہے مگر اس کے لیے ایسی پالیساں ضرور تشکیل دی جاسکتی ہیں جو اہل بلوچستان میں رائج نظام پر اعتماد بحال کریں۔
زھن میں رکھنا ہوگا کہ مسقبل قریب میں بھی دشمن صوبے سے نگاہ ہٹانے کو تیار نہیں۔ بلوچستان کی جغرافیائی حثیثت کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں بھولنا چاہے کہ آنے والے سالوں میں یہاں مثالی امن وامان ہوسکتا ہے۔ گودار کی بندرگاہ کے قیام کے بعد پاکستان دشمنوں پوری قوت سے بلوچستان پر حملہ آور ہیں۔ دشمن صوبے کو ایسی شکل میں عالمی سطح پر پیش کرنے کے درپے ہے جس کے نتیجے میں اس بارے منفی تاثر ابھرے ۔ شک نہیں کہ صوبے میں بعض علحیدگی پسند گروہ مختلف ناموں سے متحرک ہیں مگر ایسا نہیں کہ وہ سارے کے سارے بلوچستان کی رائے پر اثر انداز ہوجائیں۔ بلوچستان میں خرابیاں نہ ختم ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بدخواہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر وہاں موجود ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں علاقائی اور عالمی سطح پر تیزی سے تبدیل ہوتی صورت حال میں صوبے میں بڑا کھیل کھیلا جارہا ۔ یعنی کوشش کی جارہی کہ بلوچستان کے لوگوں میں غیر یقینی فروغ پذیر رہے۔ مثلا یہ کہ آئے روز دہشت گردی کے واقعات حالات خراب ہونے کا تاثر دیتے رہیں۔یقینا آئی جی ایف سی بلوچستان نے سینٹ میں جن نکات کو اٹھایا اس پر بحث مباحثہ کا سلسلہ شروع ہونا چاہے تاکہ مدد مل سکے کہ بلوچستان کے درپیش مسائل کو کب اور کیسے حل کرنا ہے۔

Scroll To Top