پنجاب سے گرفتاری کا شوق پردے کے پیچھے کیا ہے؟

  • دوسروں پر الزام، ڈیل کے ذریعے آئے، اور آپ ڈھیل کے ذریعے؟
  • جتھہ گردی روکیئے ورنہ ایک اور رضوی تیار!
  • دبئی، سندھ کا بینہ کے اجلاس، مقروض قوم کو کتنا چونا لگایا گیا۔
  • وہ اپنی جاگیروں اور شوگر ملوں میں ”نوکریاں دینے کا جرم“ کیوں نہیں کرتے
  • شدید نفسیاتی عارضے نے حاکومیاں کے ولی عہد کی مت مار کر رکھ دی ہے
  • بی بی قتل کیس، ہرنیا دن و رثا میں نئے کھلواڑ کا پیامبر۔

gulzar-afaqi

جب سے حقیقی احتساب کا شکنجہ اپنے آکٹوپسی پنجوں سمیت زرداری صاحب مدظلہ کی گردن کی طرف بڑھ رہا ہے انہیں جس دم کا مرض لاحق ہوگیا ہے ، بات کرتے ہوئے سانس پھول جاتا ہے، بھنویں تن جاتی ہیں اور ان کے ارشادات عالیہ اول فول کی سطح تک آجاتے ہیں۔ ماضی قریب میں ایسی ہی کیفیت میں مبتلا ہو کر آپ نے کسی کو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ اسی روز موصوف اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے ہاں ظہرانے پر مدعو تھے ابھی وہ وزیر اعظم ہاو¿س کے راستے میں تھے کہ انہیں ظہرانے منسوخ کئے جانے کی اطلاع مل گئی، تب موصوف کو علم ہوا کہ نواز شریف نے اس طرح کی بڑھک لگوا کر دراصل انہیں ٹریپ کیا ہے۔ خطرے کی بو سونگتے ہی ایک زرداری سب پر بھاری ہونے کی دعویداری رکھنے والا حاکم زراری کا پوت دبئی فرار ہو گیا اور پھر اگلے کئی ماہ تک سندھ کابینہ کے اجلاس وہیں منعقد ہوتے رہے۔ ان اجلاسوں پر قرضوں میں جکڑی ہوئی قوم کے خون پسینے کی کمائی کو کتنا چونا لگایا گیا یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے۔ کاش کوئی نوجوان اور جوشش کار سے مالا مال انوسٹی گیٹنگ صحافی اس باب میں تحقیق کا بیڑا اٹھائے اور اپنی تحقیقی کاوش سے اس سوختہ نصیب قوم اور بطور خاص ہمارے سندھی بھائیوں کو بتائے کہ تمہارے سروں پر مسلط یہ نام نہاد رہنما درحقیقت اندر سے رہزن ہیں۔
آپ پچھلے صرف تین ساڑھے تین ہفتے دورانیے میں جنا ب زرداری کی قلابازیوں کی ایک سرکس کہانی ملاحظہ کر لیجئے۔ ایک روز میڈیا کے روبرو بہت ترنگ میں ارشاد فرمایا ” یہ (عمران خان) حکومت چلا سکتا ہے نہ ہی ملک۔“ ابھی اس بقراطی بیان کی صدائے بازگشت گردونواح میں گونج ہی رہی تھی کہ ایک سہانی سہ پہر قومی اسمبلی کے ایوان میں اسی عمران خان کی حکومت سے کہا آپ ہمارے ساتھ مل بیٹھو ہم آپ کو پانچ سال حکومت کرتے ہیں پورا تعاون فراہم کریں گے۔ اگلے روز ولی عہد مسمی بلاول کا کہنا تھا”قدم بڑھاو¿ عمران خان ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“
اور جب سے کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بنکوں کے کھاتے پر اسرار دولت اگلنے لگے ہیں۔ غریب لوگوں کے کھاتوں سے اربوں روپے کی رقوم ادھر لے ادھر کی جانے کی خبریں آنے لگی ہیں۔ زرداری صاحب قبلہ کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔
اوپر سے ان کی بد بختی یہ ہوئی کہ گھر کی سطح پر موصوف کی اپنی اولاد سے ان بن کی کہانیاں نکلنا شروع ہو گئیہیں جس کا ایک شاخسانہ یہ ہے کہ بلاول نے گیارہ سال سے لٹکے ہوئے اپنی ماں کے قتل کے مقدمے میں خود پیروی کی ٹھان لی ہے۔ زرداری خانوادے سے قربت رکھنے والوں کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہوا کہ جوں جوں اس مقدمہ قتل کی قانونی کارروائی مزید آگے بڑھے گی باپ اور بیٹے یا باپ اور باقی اولاد کے مابین دوریاں بلکہ تلخیاں بڑھتی چلی جائیں گی مجھے تو لگتا ہے ۔ اس حوالے سے زرداری سب پر بھاری کا دعویٰ رکھنے والا بمبینو سینما کا ساب بلیکیا کھلنڈرا، اب اپنے ہی گناہوں کے بوجھ تلے آن کر کچلا جانے والا ہے۔
علم نفسیات کی رو سے ایسی خود اذیتی انسان کو آخر کار ڈیپریشن کی اتھاہ گہرائی تک دھکیل دیتی ہے جہاں آخری انجام اللہ نہ کرے مریض کی خود کشی ہوتا ہے۔ اور اس سے پہلے وہ اپنے لئے شکستہ پائی ہی کے معاملات بنتا اور ان کے حوالے سے کڑھتا رہتا ہے۔ جیسا کہ آج نواب شاہ میں ایک تقریب کے موقع پر موصوف نے جو کچھ کہا یا ایک معین مفہوم میں پیشگوئی فرمائی اس کا تعلق ان کی اسی نفی ذات کی عکاسی کرتی تھی۔ تا ہم بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس کیفیت کا بنیادی سبب زرداری کے معاشی جرائم میں جو احتساب عدالتوں کے علاوہ قومی بنکوں میں بکھری ہوئی پر اسرار دولت تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آج ملک کا بچہ بچہ اس دولت کی ملکیت کا رشتہ وتعلق کسی اور سے نہیں صرف اور صرف زرداری کے ساتھ جوڑتا دکھائی دیتا ہے۔
نواب شاہ میں زرداری بیان فرماتے ہیں کہ ”ان “ کے پاس مجھے گرفتار کرنے کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت اور جواز نہیں ہے مگر وہ مجھے گرفتار ضرور کر لیں گے۔ اور یہ کہ اگر انہوں نے مجھے گرفتار کر لیا تو میں پہلے سے زیادہ مقبول ہو جاو¿ں گا۔
اس سے پہلے لاہور میں بلاول ہاو¿س کے محل میں انہوں نے یہ در فنطنی چھوڑی تھی کہ وہ پنجاب سے گرفتار ہونے کو ترجیح دیں گے۔اگر غور کیا جائے تو زرداری کا یہ بیانیہ نہ صرف اپنے دامن میں بین الصوبائی شورش کے عناصر رکھتا ہے اور سندھ میں پنجاب کے خلاف صوبائی منافرت کی آگ بھڑکانے کے مترادف ہے۔ زرداری نے متذکرہ بیان گہری سوچ بچار کے بعد دیا ہے جس کا ہمارے حساس اداروں کو یقینا نوٹس لینا چاہئے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی میں پھانسی دی گئی تھی جبکہ بے نظیر بھٹو کو بھی باپ کی پھانسی گھاٹ سے صرف دو کلو میٹر دور واع لیاقت باغ میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا اور اب زرداری کی درپردہ پلاننگ ہے کہ وہ کسی طور پنجاب میں ایسی ہنگامہ آرائی کا ارتکاب کر ڈالے جس کے نتیجے یہاں قانون نافذکرنے والی فورسز حرکت میں آجائیں اور یوں زرداری اپنی پارٹی کو شہ دے سکے کہ وہ سندھ میں اینٹی پنجاب ناٹک رچا کر ایک بار سندھ کارڈ کے مردہ گھوڑے میں ہوا بھر کر اپنا الوسیدھا کر پائے۔
اور سنیئے، پچھلے روز سندھ کے اندرونی اور بطور خاص دیسی علاقوں کے مفلوک الحال رکھے گئے ”جہلا“ کے اجتماعات میں زرداری صاحب نے پھکڑ بازی اور بڑھک بازی کے نئے ریکارڈ بنائے۔ ارشاد فرمایا خبردار مجھے گرفتار نہ کرنا ، جیل تو مجھے اور زیادہ مقبول بنا دے گی۔ پھر یہ یہ نواز شریف اور عمران خان دونوں ڈیل کے ذریعے اقتدار میں آئے۔ اور حضورت آپ کا دردو مسمور کیسے ہوا؟ ڈھیل سے ! یہ وہی دوہرا معیار ہے جو موصوف نے اپنے ولی عہد بلاول کو سمجھا رکھا ہے پچھلے ہفتے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس نے پونے دو کروڑ سے زیادہ ووٹ لے کر اقتدار میں آنے والے عمران خان کو تو سلیکٹڈ وزیر اعظم قرار دے ڈالا مگر خود کو الیکٹڈسمجھتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں مٹھا مٹھا ہپ ہپ کوڑا کوڑا تھو تھو۔ زرداری نے میڈیا ہیڈ لائن میں جگہ پانے کے لئے کہتے ہیں سیاست تو آرٹ ہے جو مجھے آتا ہے عمران خان کو تو اس کی الجبر کا نہیں پتہ۔ زرداری جی آپ نے تو ایسا کہہ کر عمران خان کو دیانت اور امانت کی سند عطا کردی ہے۔ واقعی آپ کی طرح عمران خان مسٹر ٹین پرسند ہے نہ ہندرڈ پرسنٹ۔ نہ اس نے سرے محل اور نہ ہیروں کے نیکلسوں کی رشوت لی، نہ ہی اس نے شہروں شہر بلاول ہاو¿س کے نام سے اربوں کے محلات کھڑے کئے ہیں۔ پونے دو کروڑ سے زیادہ عوام نے عمران کو اسی کرپشن فری سیاسی آرٹ سے نابلد ہونے کی بنا پر ہی ووٹ دے کر وزیر اعطم کے منصب پر فائز کیا ہے۔
نیب بابت زرداری کا کہنا ہے کہ اس کے خوف سے میرے وزرا اور بیورو کریسی والے کام کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ وہ زرداری جی وہ کیا سچ اگلا ہے ۔ جب آپ نے کرپٹ اور بد عنوان عناسر کو اپنے اردگرد جمع کر رکھا ہے تو کڑے احتساب کا کوڑا ان پر تو برس کر رہے گا۔ آپ کا بیانیہ اس امر کا ثبوت ہے کہ حضو ر خود بھی کرپٹ ہیں اور اپنی اس کرپشن کو تحفظ اور دوام دینے کی غرض سے کرپٹ لوگوں کو ہی جمع کر رکھا ہے۔ بے نظیر ٹاو¿ن کے غلاظت سے اٹے علاقوں میں جب زرداری صاحب جہلا کے رو برو اپنی صفائیاں اور کار کردگیاں پیش کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ ان کا سب سے بڑ ا جرم یہ ہے کہ انہوں نے غریب لوگوں کو نوکریاں دیں۔ انہوں نے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ اگر نوکریاں دینا جرم ہے تو وہ یہ جرم کرتے رہیں گے۔ یہاں ایک سوال ۔ حضورت کیا آپ ایسا ہی جرم اپنی جاگیروں اور شوگرفیکٹریوں میں بھی کرتے ہیں؟حرف آخر، حضورآنے والے چند دنوں بعد آپ اور آپ کے مفاداتی بھائی بند نواز شریف اپنے ٹبر سمیت جیل میں بند ہوں گے خوب گزرے کی جب مل بیٹھیں گے دیوانے بہت!!

Scroll To Top