جمہوریت کب آئے گی ؟ 09-04-2014

kal-ki-baat
یہ بڑی ستم ظریف حقیقت ہے کہ ہمارے تینوں فوجی حکمرانوں نے اپنے اپنے انداز میں ملک کو ” جمہور کی حکمرانی “ کے تصور سے ہمکنارکرانے کی کوشش کی ` جب کہ سیاست دان جب بھی حکومت میں آئے انہوں نے جمہور کی حکمرانی کے تصور کا گلا گھونٹنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی۔
فیلڈ مارشل ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کا تصور پیش کیا۔ یہ تصور مقامی حکومتوں کے قیام کی طرف ایک انقلابی قدم بن سکتا تھا اگر اسے الیکٹورل کالج کا درجہ نہ دیا جاتا۔
جنرل ضیاءالحق نے اپنے دور میں بلدیاتی انتخابات کرائے جو مقامی سطح کی قیادتوں کو سامنے لانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔
اور جہاں تک جنرل پرویز مشرف کا تعلق ہے ان کے دور میں مقامی حکومتوں کا نظام بڑے انقلابی انداز میں رائج ہوا۔ جیسے ہی سیاست دان برسراقتدار آئے انہوں نے اس نظام کا گھلا گھونٹ دیا۔
یہاں میں جمہوریت کے لفظ کی تشریح رُوسو کے الفاظ میں کروں گا۔ رُوسو نے فرانسیسی انقلاب سے کافی پہلے اپنی ایک تصنیف ” نیو سوشل کنٹریکٹ “ میں حقیقی جمہوریت کا ڈھانچہ پیش کیا تھا۔
رُوسو نے لکھا۔
” روایتی جمہوریت میں لوگ چار پانچ برس میں ایک بار ووٹ ڈالنے نکلتے ہیں۔ اور وہی ایک دن انہیں اُن کی طاقت کا احساس دلاتا ہے۔ ان کے ووٹ کی قوت سے امراءمنتخب ہو کر پارلیمنٹ میں چلے جاتے ہیں۔ پھر ووٹروں کو پورے چار یا پانچ سال تک اپنی طاقت پھر استعمال کرنے کے موقع کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ حقیقی جمہوریت یہ ہے کہ ہر قصبے اور ہر شہر کے لوگ مقامی سطح پر خود اپنی حکومت قائم کریں ` اور خود اپنے نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا کریں“۔
ہمارے حکمران طبقوں کو یہ نظام اس لئے راس نہیں آتا کہ ملک کے وسائل پر قابض ہونے کا اختیار ان کے ہاتھوں سے نکل جایا کرتا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک اس کے حکمران طبقوں کے ہاتھوں سے اقتدار چھین کر عوام کوسپرد نہیں کردیاجاتا۔

Scroll To Top