”جو ہمارے خلاف ہیں ہم ان کے حاشیہ بردار کبھی نہیں بنیں گے ۔۔۔“

aaj-ki-baat-newیہ کہنا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کے عقل و شعور کو”ٹرمپ“ کردیا ہے درست نہیں ہوگا۔ گزشتہ آٹھ برس تک ری پبلکن پارٹی کا پوری کانگریس پر غلبہ رہا۔ مگر اس مرتبہ اگرچہ سینٹ میں ٹرمپ کی پارٹی نے اپنی برتری برقرار رکھی ہے `ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول ڈیموکرٹیک پارٹی نے ٹرمپ سے چھین لیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ٹرمپ کے لئے من مانی کرنے کے دروازے کسی حد تک بند کردیئے گئے ہیں۔ دو مسلم خواتین کی کامیابی بھی ٹرمپ کی مسلم دشمنی کی واضح شکست سمجھی جاسکتی ہے۔
پھر بھی یہ بات بڑا وزن رکھتی ہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتہا پسند پالیسیوں کے ذریعے نہ صرف یہ کہ امریکی سیاست کا بلکہ عالمی گروہ بندی کا نقشہ یکسر تبدیل کردیا ہے۔ اس بات کابڑا ثبوت ایران کے خلاف امریکہ کی نہایت جارحانہ رویوں سے یورپ کا اختلاف ہے۔ اس اختلاف کا گراف جرمنی میں نہایت اونچا ہے۔
دنیا جنگِ عظیم دوم کے بعد کتنی بار کتنی تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اس کا اندازہ بہت سارے حقائق سے لگایا جاسکتا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کا مضبوط پوزیشن میں ہونا پاکستان کے لئے نیک فال سمجھا جاتا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے بعد آٹھ برس تک آئزن ہاور صدر رہے جن کے عہد میں عالمی سیاست گروہ بندی کے راستے پر چل نکلی۔ امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف قابل اعتماد اتحادیوں یا حلیفوں یا نمکخواروں کی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو سیٹو اور سنیٹو جیسے معاہدوں نے پورا کیا جن میں پاکستان کو ایک کلیدی امریکی حاشیہ بردار کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے بعد ایک عرصے تک ری پبلکن پارٹی کا امیج ” پاکستان دوست “ اور ڈیموکرٹیک پارٹی کا بھارت دوست رہا۔۔۔
اس دوران امریکہ کو کوریا اور ویت نام دونوں جنگوں میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکہ کے رویوں میں بڑی تبدیلی افغان جہاد کے بعد آئی جب امریکی پالیسی سازوں نے اپنا قبلہ اچانک نیو دہلی کو بنانا شروع کردیا۔
یہ صورتحال صدر جارج بش کے آنے کے بعد مزید گمبھیربن گئی جب پاکستان کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا رحجان شرو ع ہوا اور امریکہ کی ری پبلکن حکومت نے کھلم کھلا بھارت کو افغانستان کی نمبرداری سونپ دی۔
ٹرمپ کی انتہا پسندمجنونانہ پالیسیوں کی وجہ سے سوچا بھی نہیں جاسکتاتھا کہ وہ امریکی صدارت ہلیری کلنٹن سے چھین لیں گے۔ لیکن امریکہ کے صدارتی انتخابات کی تاریخ میں بہت بڑا اپ سیٹ ہوا اور دنیا نے اچانک دیکھا کہ بے سروپا باتیں کرنے اور امریکی پالیسی اپنے مزاج کے اتارچڑھاﺅ کی بنیاد پر چلانے والا ٹرمپ امریکہ کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔
حالیہ مڈٹرم انتخابات میں مثبت بات یہ ہوئی ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ٹرمپ کے ناخن کسی حد تک تراش دیئے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ امکان بھی جڑپکڑ گیا ہے کہ دوسرے ٹرم میں ٹرمپ کو ہرانا تقریباً ممکنات سے باہر ہوگا۔ امریکہ میں پولرائزیشن میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور انتہا پسند مزید زیادہ انتہا پسند بن گئے ہیں۔
پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ نئے گلوبل حقائق نے اس کے لئے ممکن بنا دیا ہے کہ وہ امریکی اثر و رسوخ بلکہ امریکی غلامی سے نکل جائے۔ مجھے یہاں مرحوم صدر ایوب خان کی کتاب بڑی شدت سے یاد آرہی ہے جس کا ٹائٹل تھا Friends, Not Masters
” آقا نہیں ` دوست“
اب امریکہ کے لئے پاکستان کا آقا بننا ممکن نہیں رہا۔ پاکستان میں جو قیادت عمران خان کی صورت میں ابھری ہے وہ پرچیوں پر جملوں کی صورت میں لکھی گئی باتیں پڑھ کر امریکہ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی نہیں۔
نائن الیون کے موقع پر جارج بش نے کہا تھا۔
” جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے ۔۔۔“
وقت آگیا ہے کہ عمران خان کہیں۔۔۔
” جو ہمارے خلاف ہیں ہم ان کے حاشیہ بردار کبھی نہیں بنیں گے ۔۔۔“

Scroll To Top