فلیگ شپ ریفرنس سماعت:حسن نواز کی 18کمپنیوں کے نام پر 17فلیٹس اور دیگر پراپرٹیز ہیں، تفتیشی افسر

  • نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کی کمپنیوں کی ملکیتی جائیداد کی تفصیلات پیش ، تفتیشی افسر محمد کامران کا بیان مکمل نہ ہو سکا ،اپنا بیان آج بھی جاری رکھیں گے، سماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کریں گے
  • کمرہ عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی، اقبال ظفر جھگڑا، راجہ ظفر الحق، طارق فضل چوہدری، مریم اورنگزیب، طارق فاطمی اور آصف کرمانی بھی موجود رہے

اسلام آباد(الاخبار نیوز) احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں تفتیشی افسر محمد کامران کا بیان قلمبند کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔ سماعت میں تفتیشی افسر محمد کامران کا بیان قلمبند کیا گیا۔کمرہ عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی، اقبال ظفر جھگڑا، راجہ ظفر الحق، طارق فضل چوہدری، مریم اورنگزیب، طارق فاطمی اور آصف کرمانی بھی موجود رہے۔تفتیشی افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنیز ہاو¿س لندن میں حسن نواز کی کمپنیوں کے ریکارڈ کے لیے درخواست دی۔ ریکارڈ کی فراہمی کے لیے ادا کی گئی فیس ضمنی ریفرنس کا حصہ ہے۔ کمپنیز ہاو¿س میں حسن نواز کی 10 کمپنیوں کے ریکارڈ کے لیے درخواست دی۔تفتیشی افسر نے نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کی کمپنیوں کی ملکیتی جائیداد کی تفصیلات پیش کردیں۔ تفصیلات پیش کرتے ہوئے تفتیشی افسر نے کہا کہ حسن نواز کی 18 کمپنیوں کے نام پر 17 فلیٹس اوردیگرپراپرٹیز ہیں۔تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کی جانے والی تفصیلات کے جواب میں وکیل صفائی نے کہا کہ پیش کردہ تفصیلات قانون شہادت کے تحت قابل قبول شہادت نہیں ہیں۔تفتیشی افسر نے کہا کہ کمپنیز ہاو¿س، ایچ ایم لینڈ رجسٹری کو ریکارڈ دینے کی درخواست کی، درخواست پر اپنا ایڈریس پاکستانی ہائی کمیشن لندن کا دیا۔ ٹیلی فون پر متعلقہ محکموں سے ریکارڈ کے لیے پیروی کی۔انہوں نے کہا کہ 24 اگست 2017 کو ڈائریکٹر نیب راولپنڈی کے ساتھ ہائی کمیشن گیا۔ قونصل اسسٹنٹ ذکی الدین نے 12 سر بمہر لفافے لا کر دیے۔ لفافے راو¿ عبد الحنان کے دفتر سے لا کر دیے گئے تھے۔ راو¿ عبد الحنان ہائی کمیشن میں بطور قونصل اتاشی تعینات تھے۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ کمپنیز ہاو¿س سے بھیجے گئے لفافے ویزا اتاشی کے دفتر میں کھولے، راو¿ عبد الحنان نے بتایا دستاویزات کی پہلے تصدیق ضروری ہے۔ راو¿ عبدالحنان نے دستاویزات اسی دن واپس کردی۔اس کے جواب میں نواز شریف کے وکلا نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبانی کہانی سنا رہے ہیں۔تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ دستاویزات کی تصدیق کے بعد واپس ہائی کمیشن گیا، تصدیق کے بعد راو¿ عبدالحنان کا بیان قلم بند کیا۔نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔ تفتیشی افسر کا بیان آج بھی مکمل نہ ہو سکا اور وہ کل بھی اپنا بیان جاری رکھیں گے۔

Scroll To Top