چیلنجز سے نمٹنے کےلئے سب کو سر جوڑ کر راستہ تلاش کرنا ہوگا،شاہ محمود قریشی

  • وزیر اعظم کے چین، سعودی عرب دوروں میں کچھ ایسا نہیںجو ملکی مفادات کے خلاف ہو،پیکیج کے بدلے سعودی عرب نے کوئی شرط عائد نہیں کی،دورہ چین بھی بہت کامیاب رہا
  • اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی سچائی و مفاہمتی کمیشن کی تجویز کی حمایت ، وزیر خارجہ کا سینٹ میں پالیسی بیان

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینٹ میں قومی معاملات اور اہم ریاستی امور پر ،، سچائی مفاہمتی کمیشن ،، کی تجویز کی حمایت کر دی ، تجویزاپوزیشن نے دی ہے ملک سب کا ہے چیلنجز کو سب سمجھتے ہیں، سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور نیا راستہ تلاش کرنا ہوگا ،سعودی یمن ثالثی کے لیے پاکستان کو اچھے اشارے مل رہے ہیں دوسری سائیڈ کی سوچ بھی تبدیل ہوئی ہے نواز شریف نے بھی کوشش کی تھی مگر کامیابی نہ ہو سکی ایسا ماحول نہیں تھا ، ہماری وزارتوں میں جان ہوئی تو چین کے ساتھ ایک سال میں تجارت دگنا ہو جائے گی چین تجارتی عدم توازن کو دورکرنے پر تیار ہے۔ بدھ کو سینٹ میں خطاب کے آغاز میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سچائی مفاہمتی کمیشن کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں آئیں مل کر بیٹھیں نیا راستہ تلاش کریں یہ نوبت کیوں آئی یقیناً ہمارے 74 دنوں کا بھی حصہ ہے۔ ہم دہائیوں سے زوال پذیر ہیں معاشی تنزلی ہے۔ اداروں کا فقدان ہے پناہ بچاﺅ کے لیے شہری پرائیویٹ اداروں کو دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئیں ٹروتھ مفاہمتی کمیشن بنا لیں کیسے اس مقام پر پہنچے کیا وجوہ ہیں۔ کیا پارلیمنٹ میں یہ ماحول ہوتا ہے ہم اپنی ذمہ داری کو صحیح انداز میں پوری کررہے ہوں ۔ سینیٹ میں وزیر خارجہ نے دوٹوک طورپرواضح کردیا ہے کہ چین اور سعودی عرب کے دوروں میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جس سے پاکستان اور اس کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ہو، سعودی عرب کو ری انگیج کیا گیا ہے، جن غلط فہمیوں نے جنم لیا تھا، ان کو دور کیا گیا ہے۔ پیکیج کے بدلے سعودی عرب نے کوئی شرط عائد نہیں کی۔ وزیراعظم کا چین کا دورہ بھی انتہائی کامیاب رہا۔ چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو وسعت ملی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہدری کو نیا رخ دیتے ہوئے اس میں عوامی شراکت کو یقینی بنایا جائے گا ۔سی پیک کے تما منصوبے جاری رہیں گے، اس کے ساتھ انسانی ترقی کے منصوبوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔ مشرق وسطیٰ میں جو کھچاﺅ آج ہے، اتنا ماضی میں کبھی نہیں تھا۔ سعودی عرب کی سوچ میں بھی اب تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ غیر جانبداری کا رویہ برقرار رکھنے کی وجہ سے آج ایران اور سعودی عرب دونوں پاکستان کو اہمیت دے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ثالثی کی جو بات کی تھی وہ ویژنری اور دوررس تھی۔ چین پاکستان کا تجارتی عدم توازن درست کرنے اور مارکیٹ تک رسائی دینے کیلئے تیار ہے، چیلنجز کے حل کے لئے سب کو سر جوڑ کر نیا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گوادر میں ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس کا انعقاد خوش آئند ہے۔ بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ اور دیگر جنہوں نے حصہ ڈالا۔ گوادر کا تذکرہ آج دنیا میں ہو رہا ہے، یہ پاکستان کے لئے خوش آئند ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے جن چیزوں کی نشاندہی کی ہے ان سے بالعموم ہر شہری اتفاق کرتا ہے، انہوں نے ٹروتھ اینڈ ری کنسی لیشن کمیشن کی بات کی ہے، دیکھنا ہوگا کہ کون کون موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ہے۔ پی ٹی آئی بھی 74 دن رہی ہے، وہ بھی ایک حصہ دار ہے جو آج ہو رہا ہے وہ ایک دن میں نہیں ہوا، اداروں کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ کمیشن بننا چاہئے تاکہ سب بیٹھ کر سوچیں کہ موجودہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اور کون اس کا ذمہ دار ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ پارلیمان اپنا کام کیسے کرتی ہے۔ سینیٹ میں پارلیمانی انداز میں کام ہوتا ہے، کاش قومی اسمبلی کا ماحول بھی ایسا ہو جیسا سینیٹ کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ ہم پارلیمنٹیرینز کا قد بڑھا نہیں رہے، اس کی عزت میں اضافہ نہیں کر رہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ارکان نے چین اور سعودی عرب کے دوروں کے حوالے سے بات کی ہے اور تجسس کا اظہار کیا ہے۔ کوئی ایسی چیز نہیں ہوئی جس سے پاکستان کو اور اس کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ سعودی عرب سے ہمارے دیرینہ تعلقات تھے اور رہیں گے، کچھ سالوں سے سرد مہری نظر آ رہی تھی اس کو درست کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم نے ری انگیج کیا ہے اور کچھ غلط فہمیوں جنہوں نے جنم لیا تھا، کو دور کیا ہے۔ حکومت نے 2015ءمیں جو کمٹمنٹ کی تھی وہ پوری نہ ہو سکی تھی جس سے مسئلہ پیدا ہوا تھا۔ ہم نے دورے میں کامیابی حاصل کی ہے اور اس کا اظہار سعودی عرب کے اس پیکیج سے ہوتا ہے جو اس نے ہمیں پیش کیا ہے۔ سعودی عرب ہر سال ہمیں تیل کی مد میں بہت بڑی رعایت دے گا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے دیا کیا ہے۔ سعودی عرب نے پیکیج کے بدلے ہم پر کوئی شرائط عائد نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے حوالے سے بھی طرح طرح کی باتیں کی گئیں، وہاں بھی ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں، چین کا دورہ بہت ہی مفید تھا۔ ایک دورے میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ چین کی چار اعلیٰ ترین قیادت نے ملاقات کی ہو۔ ہم چار مقاصد لے کر گئے تھے، چاروں میں پیشرفت ہوئی ہے۔ چین سے تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کی گئی ہے، اس کو مزید استحکام ملا ہے، ہم نے اسٹریٹجک کے ساتھ ساتھ اکنامک ریلیشن شپ کو وسعت دی ہے، ہم دنیا کو مشرق و مغرب کو بھی پیغام دینا چاہتے تھے وہ ہم نے دے دیا ہے، جن چیلنجوں کو ایڈریس کرنا ضروری تھا ان کو کیا ہے، ہم نے وزرائے خارجہ کے مابین اسٹریٹجک ڈائیلاگ پر اتفاق کیا ہے، پہلے ایسا نہیں تھا۔ دسمبر میں کابل میں پاکستان، افغانستان اور چین کے مابین سہ فریقی بات چیت ہوگی جس میں افغانستان میں امن عمل اور امن و ترقی کے لئے کردار پر بات ہوگی۔ سی پیک پر قومی اتفاق ہے، ہم نے اسے نیا رخ دینا ہے۔ سابق حکومت نے اپنی دانست میں اقدامات اٹھائے جو درست ہوں گے۔ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر توجہ رہی جو منصوبے جاری ہیں وہ جاری رہیں گے اور پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔ اب دوسرے مرحلے میں ہم انفراسٹرکچر کی بجائے ہیومن ڈویلپمنٹ اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دیں گے۔ تعلیم، صحت، ہنر مند افرادی قوت، غربت کے خاتمے، صنعتی ترقی، زراعت، خصوصی صنعتی زونز پر توجہ دیں گے، گوادر کی تیز ترقی بہت ضروری ہے، چین نے ایک بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو کرائی ہے جس میں 130 ممالک اور نامور بین الاقوامی اداروں نے حصہ لیا ہے۔ اس ایکسپو میں سات اہم مقررین تھے جنہیں خطاب کا موقع دیا گیا، ان میں ایک پاکستانی تھا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے حوالے سے ایوان بالا کی تحریک میں بات کی گئی ہے، مشرق وسطیٰ میں جو کچھاﺅ آج ہے وہ ماضی میں نہیں تھا، آج جس سطح کا کھچاﺅ ایران اور سعودی عرب دونوں جانب ہے یہ پہلے نہیں تھا، ہم پراکسی وارز کی نذر ہو رہے ہیں، جو شام و لیبیا میں ہو رہا ہے وہ سب جانتے ہیں۔ پاکستان کو یہ صورتحال متاثر کر سکتی ہے۔ ایوان کو احساس دلانا چاہتا ہوں کہ چیلنج کس نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جو رشتہ و تعلق بشار الاسد سے جڑا ہے اس کا عربوں پر جو تاثر ہے اس سے یہ ایوان واقف ہے۔ ہندوستان نے ایران پر پابندیوں سے استثنیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے اور اسے یہ دیا جا رہا ہے لیکن ہم پر ایران کے حوالے سے پابندیوں کے تناظر میں نظر رکھی جاتی ہے۔ سینئر امریکی حکام کے خلیج اور عرب ملکوں میں ملاقاتیں کرنے کے کیا مقاصد ہیں، اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے۔ یمن میں جنگ کی سی کیفیت ہے وہاں خون خرابہ ہو رہا ہے، یمن تقسیم ہو چکا ہے، وہاں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، وہاں فضائی حملے جاری ہیں۔ لانچنگ پیڈز بن چکے ہیں جہاں سے سعودی عرب پر حملے کئے جاتے ہیں جس پر ہمیں تشویش ہے۔ ایک طرف سعودی عرب سے ہمارے تعلقات ہیں، دوسری جانب ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں پاکستانی کما کر یہاں زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ خارجہ پالیسی ایسی چیز ہے جس پر اتفاق رائے ہونا چاہئے۔ اس حوالے سے طویل المدت حکمت عملی اور اپروچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کریں، نواز شریف نے بھی کوشش کی تھی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ اس وقت ماحول نہیں تھا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی پارلیمان اور عوام کی خواہشات کی آئینہ دار ہوگی۔ ہماری خواہش ہے کہ یمن میں صورتحال بہتر ہو۔ پاکستان کی پارلیمان نے فیصلہ کیا کہ غیر جانبداری کا کردار برقرار رکھیں گے، آج اسی وجہ سے دونوں ہماری بات کو اہمیت دے رہے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے برملا کہا کہ ہم پاکستان کے ثالثی کے کردار پر مثبت ردعمل دیں گے۔ نواز شریف کے وقت میں ایک فریق نے رضامندی دی، دوسرے نے نہیں۔ سعودی عرب کی سوچ میں بھی اب مجھے تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ وہ امریکہ جو مئی 2017ءمیں خاص پیغام لے کر آیا اس امریکہ کا وزیر خارجہ اب سیز فائر اور سیاسی بات چیت کی بات کر رہا ہے۔ یو این سیکریٹری جنرل بھی دونوں فریقین کو میز پر بٹھانے کی بات کر رہا ہے۔ یہ نئی صورتحال ہے جس میں ہم نے پہل کی ہے اور کہا ہے کہ ہم اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ عمران خان نے جو بات کی تھی وہ ویژنری تھی اور دوررس تھی۔ افغانستان کے حوالے سے بھی عمران خان نے کہا تھا کہ سیاسی بات چیت ہی مسئلے کا حل ہے، تب طالبان خان کہا گیا، آج سب یہی اعتراف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اپنا تعمیری کردار ادا کرے۔ جب حکومت آئی تو بہت سے کرم فرماﺅں نے کہا کہ 12 ارب ڈالر کا مسئلہ کون حل کرے گا لیکن جب نیتیں صاف ہوتی ہیں تو اﷲ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔ چین نے کہا کہ ہم پاکستان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ ٹریڈ بیلنس کو درست کرنے اور مارکیٹ تک رسائی دینے کے لئے چین تیار ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنی برآمدات کو دوگنا کر سکتا ہے۔ وہاں سے اشارے مل رہے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی خسارہ ہمارا مسئلہ رہا ہے۔ یہ ملک ہمارا ہے اور اس کے چیلنجز کے حل کے لئے سب کو سر جوڑ کر نیا راستہ تلاش کرنا پڑے گا

Scroll To Top