حکم کی بجائے حکمت، دو قدم آگے ایک قدم پیچھے

  • سانپ بھی مر گیا لاٹھی بھی بچ گئی
  • عدالتی فیصلوں پر توہین آمیز ردعمل، نواز سے رضوی تک
  • لاشوں پر سیاست گردی، سارے خواب کرچی کرچی
  • قابل نفرین ہیں جو دشمن کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں
  • تخریب کاروں اور فسادیوں نے1947کے فسادات کو بھی مات دے دی
  • قانون کی عمل داری کے ذریعے ملک دشمنوں کو نشان عبرت بنا دیا جائیگا

gulzar-afaqiانہوں نے وہی کیا جو ریاست کے بہترین مفا د میں تھا۔
حکم کی بجائے حکمت کو بروئے کار لا یا گیا۔
دو قدم آگے جا کر ایک قدم پیچھے آگئے۔ بظاہر پسپائی مگر حقیقت میں اس پوزیشن میں بھی حریف سے ایک قدم آگے
سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی بچالی
پٹواری مائنڈ سیٹ کو بہت دھچکا لگا۔ ایسا ہونا ہی تھا۔ اس نے تو عام انتخابات میں ہزیمت کا حساب برابر کرنے کے لئے لاشوں پر سیاست گردی کا تہیہ کر رکھا تھا۔ مگر عمران خان کے ساتھیوں نے کسی ہیجان میں بہہ جانے کی بجائے صبرو تحمل، برداشت اور حکمت سے کام لیتے ہوئے فسادیوں کو کچھ اس انداز سے ٹریپ کیا کہ ملک بھر میں طاعون کی پھیلے ہوئے فسادیوں کو منتشر ہونے پر مجبور کریا، تین روز سے بند راستے کھلوا دیئے۔ کاروبار زندگی معمولی کی سطح پر آگئے، اور لاشوں و قبروں کی سیاست کرنے والوں کی شیطانی خواہشات کے قلعے دھڑام سے زمین بوس ہو کر رہ گئے۔
اب عمران حکومت کے مخالفین کی کیفیت کھمبا نوچنے والی کھسیانی بلی کی سی ہو کر رہ گئی۔ انکے پاس مخالفت کے لئے جب دوسرا کوئی اور ٹھوس جواز نہ بچا تو لے دے کے عمران خان کی چین روانگی سے پہلے قوم سے کئے گئے خطاب کے مندرجات بچے جسے انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے لئے لینے کے لئے توڑ مروڑ کر پیش کرنا شروع کر دیا۔
اس پہلو کی تو تحسین کی گئی کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں شرپسند عناصر کو تنبیہ کی تھی کہ وہ عدالت عظمیٰ کے آسیہ بی بی بابت فیصلے کے حوالے سے معزز جج صاحبان اور ہماری بہادر اور جان نثار افواج کے خلاف کوئی توہین آمیز بات نہیں کر سکتے اور ایسا کرنے والے ریاست اپنی پوری قوت سے نمٹ لے گی۔ مگر پی ٹی آئی کے ذمہ داران نے تحمل برداشت اور حکمت کے تحت جس طرح اپوزیشن کی اندرونی خواہش کے برعکس لاشوں پر سیاست گردی کی شیطنت صنعتی کو بری طرح زمین پر پٹخ کر رکھ دیا تھا اسے انہوں نے ہرگز قبول نہ کیا اور واویلا مچانے لگے کہ حکومت فسادیوں اور شرپسندوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس کے برعکس غیر جانبدار مبصرین کی غالب تعداد سمجھتی ہے کہ عمران خانکی عدم موجودگی میں ملک میں موجود ان کے نابئین نے کمال ہوش مندی سے ایک اور لال مسجد ٹائپ حادثے سے قوم کو محفوظ کر لیا۔ ان مبصرین نے اپوزیشن کو آئینہ دکھاتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت نے ریاستی قوت کا بہترین اور دانشمندانہ استعمال کرتے ہوئے جب فسادی منتشر ہوگئے تو اب ملک بھر میں ان کے خلاف سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، آتش زنی اور کاروبا حیات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے جرم میں نہ صرف مقدمے قائم کر دیئے ہیں بلکہ اب تک دو ہزار سے زائد شر پسندوں اور فسادیوں کو زیر حراست لے کر جیلوں میں بند بھی کر دیا ہے۔ ان میں سے بیشتر کو دہشتگردی کے ضابطوں کے تحت پابند سلاسل کیا گیا ہے۔
اب کہ شرپسند عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے قانونی چارہ جوئی شروع کر دی گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بلا جواز نان ایشوز پر نیا کھلواڑ شروع کر دیا ہے۔ انہیں اور کوئی وجہ مخالفت میسر نہیں آئی تو پی ٹی آئی قیادت کو اس بنا پر طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا شروع کر دیا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف تھی جس نے ملک میں دھرنا سیاست کو رواج دیا۔ اور تحریک لبیک کا متذکرہ دھرنا بھی اسی سلسلے کی تو سچ شدہ شکل تھی۔ یہاں ایک بار پھر ہمارے باشعور مبصرین اپوزیشن کے الزام کو رد کرتے ہوئے حقیقت حال کی وضاحت کرتے ہیں کہ تحریک انصاف اور تحریک لبیک کے دھرنوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
مگر آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں اس حقیقت کو اپنے دائرہ ادراک میں رکھ لینا چاہئے کہ دنیا بھر میں ہر جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے کے اظہار کے لئے پرامن پیرائے اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے جلسے جلوس، ہڑال اور دھرنے دیئے جا سکتے ہیں۔ جہاں تک تحریک انصاف کے 14اگست 2014سے شروع ہونے والے 126روزہ دھرنے کا تعلق ہے تو وہ مذکورہ تمام جمہوری اور قانونی تقاضوں اور معیارات پر پورا اترتا تھا۔ بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ قومی تاریخ کے اس طویل ترین دھرنے میں کسی دکانکا کوئی شیشہ یا ایک گملا تک نہیں ٹوٹا تھا۔ مگر اس کے برعکس تحریک لبیک کے حالیہ دھرنے کا تو مزاج اور موڈ ہی یکسر مختلف اور جداگانہ تھا۔ یہاں دھرنے کے منتظمین نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بزبان خود معزز عدالت عظمیٰ اور اس کے قابل صد احترام جج صاحبان کے خلاف انتہائی سوقیانہ زبان استعمال کی اور ہماری بہادر اور جانباز عساکر کے حوالے سے انتہادرجے کی قابل اعتراض باتیں کیں، اور اس پر مستزاز انہیں دھرنے والوں کے پیروکار وں نے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آتشزنی ، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کر ایسا بازار گرم کیا کہ 1947کے فسادات کی یاد تازہ ہو کر رہ گئی۔
اب آیئے تحریک لبیک کے دھرنے اور اس سے جڑے ہوئے دیگر انتہائی قابل تعزیر اقدامات کی طرف۔ ان میں سے ایک ہے اپنی پسند کا عدالتی فیصلہ نہ آنے پر عدالت عظمیٰ اور فیصلہ دینے والے انتہائی قابل احترام جج صاحبان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے بات۔
اگر ہم چند ماہ پہلے نون لیگ کے سابق سربراہ نا اہل اور مجرم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم صفدر کی پبلک اجتماعات میں کی گئی انتہائی سو قیانہ تقاریر اور ان کے تین عدد چیلوں بشمول نہال ، دانیال اور طلال کی عدلیہ بابت ہرزہ سرائی کی تمام ترجزئیات اہل پاکستان یاد داشت میں آج بھی محفوظ ہے۔ یاد رہے یکساں قافیہ ردیف رکھنے والے مذکورہ تینوں بھونپوو¿ں کو توہین عدالت کی سزا ہو چکی ہے ۔ نون لیگیوں کا یہی وہ قابل اعتراض رویہ ہے جس کی تو سیعیمشکل تحریک لبیک کا عدلیہ بابت گھٹیا طرز عمل ہے۔
تحریک لبیک کی حالیہ فسادی اور انتشاری ساست گردی کا ایک اور پس منظر بھی ہے جس پر ہمیں یقینا تفکر کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں اس تحریک کے فسادی قائدین سمیت نواز شریف اینڈ گینگ شامل ہے۔ جو اپنے اپنے وقت پر ہماری متحرم و مکرم عدالت عظمیٰ اور شجاع اور جان نثار افواج بابت قومی سلامتی کے سراسر منافی پروپیگنڈا کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہمارا دشمن بھارت، افغانستان، اسرائیل اور امریکہ بھی اسی اسلوب سے ہماری مخالفت میں پیش رہتے ہیں۔ اس حوالے سے عوام خود ہی سوچ لیں اور کوئی رائے قائم کر لیں کہ نون لیگ کی قیادت بطور خاص نوا شریف مریم صفدر اورتحریک لبیک کا ملا خادم رضوی اور ملا افضل قاری کہاں کھڑے ہیں اور عالمی سطح پر ہمارے کن دشمنوں کے ایجنڈے کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔۔

Scroll To Top