افغان طالبان سے بات چیت کامیاب ہونے کا امکان روشن نہیں!

  • امریکہ نائب وزیرخارجہ پاکستانی حکام سے ایک بار پھر افغان مسلہ میں کردارادا کرنے کا مطالبہ کرگی
  • 9 نومبر کو ماسکو اجلاس میں طالبان رہنما قیام امن کے لیے اپنا نقطہ نظر پیش کریگا
  • اب تک امریکہ اور طالبان دونوں ہی ایک دوسرے کو شکست فاش دینے میں ناکام رہے ہیں۔
  • تیزی سے بدلتی صورت حال میںیہ کہنا غلط ہوگا کہ آج بھی طالبان پاکستان کی ہاںمیں ہاں ملا رہے

zaheer-babar-logo

امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی وسطی ایشیاءایلس ویلز کے دورہ پاکستان کے مقاصد نئے نہیں۔ امریکہ سالوں سے پاکستان سے اعلانیہ یہ تقاضا کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ افغانستان میں واشنگٹن کی واضح جیت کے لیے کردار ادا کرے۔اس بار ایلس ویلز ایسے موقعہ پر پاکستان آئیں جب طالبان کے ساتھ مذاکرت کے حوالے سے پیش رفت سامنے آرہی۔مثلا قطر میں طالبان کے دفتر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ روس کے درالحکومت ماسکو میں امن مذاکرت میں شرکت کریگا۔ دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق روس میں افغانستان میں مسلہ کے حل کے لیے طالبان اپنا موقف پیش کریں گے۔9 نومبر کو ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں طالبان کا چار رکنی وفد شریک ہوگا۔ روس نے یہ مذاکرت رواں سال اگست کو کروانے کا اعلان کیا تھا مگر کابل کے اعتراض کے سبب اس ملتوی کردیا گیا۔ماضی میں افغان طالبان کسی طور پر بات چیت کے لیے آمادہ نہ ہوئے ، اس ضمن میں ان کا دوٹوک موقف تھا کہ جب تک افغانستان میں غیرملکی افواج موجود ہیں کسی قسم کی بات چیت لاحاصل ہوگی۔ یقینا امریکہ اور طالبان اس افغان تنازعہ کے اہم فریق ہیں مگر گزرے ماہ وسال میں دونوں کی جانب سے براہ راست بات چیت سے انکار کیا جاتا رہا۔
افغانستان میں امن وامان کا مسلہ آسان نہیںرہا مگر شائد اب طالبان اور امریکہ سمجھ رہے کہ ایک دوسرے کو شکست دینا ممکن نہیں چنانچہ کوئی ایسا حل تلاش کیا جائے جو کسی ایک فریق کی جیت یا ہار سے بڑھ کر سب کے لیے قابل قبول ہو۔ افغانستان میںجاری قتل وغارت گری پڑوسی ملکوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی۔ یہ سچ ہے کہ علاقائی اور عالمی طاقتوں نے افغانستان کو جنگ کا میدان سمجھ رکھا ہے مگر یہ سوال بھی اہمیت اختیار کرگیا کہ آخر بلی اور چوہے کا یہ کھیل کب تک جاری رہیگا۔
بادی النظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکہ ہو یا طالبان دونوں پر ہی دباو ہے کہ وہ جنگ سے تباہ حال ملک میں بہتر ماحول کے لیے آگے بڑھیں۔ فریقین دس سال سے زائد عرصہ سے ایک دوسرے کو ملیا میٹ کرنے کے مشن پر کاربند ہیں مگر تاحال مکمل فتح کسی کے حصہ میں نہیںآئی۔ بظاہر یہ نظریہ غلط ہے کہ امریکہ جو مقاصد جنگ سے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ پرامن حالات میں حاصل نہیں ہوسکتے۔ درحقیقت واشنگٹن کو باخوبی احساس ہوچکا کہ اسے افغانستان کے اندر طالبان کی شکل میں بہت سارے ملکوں کے مفادات سے ٹکرانا پڑ رہا ہے۔ مثلا اس سے بڑھ کر سچائی کیا ہوگی کہ روس افغانستان کی جنگ میں طالبان جس قوت سے نبرد آزما رہے آج وہی انھیںدرپردہ مدد فراہم کررہی۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ امریکہ جو ہتھیار روس کے خلاف استمال کیا آج وہ اسی سے برسرپیکار ہے، ماضی میںروس کے خلاف علم جہاد بلند کیا گیا تو اب امریکہ کو دشمن اول قرار دے کر طالبان سینہ سپر ہیں۔
پاکستان افغانستان میں اب صرف اور صرف امن کا خواہشمند ہے۔ سچ یہ ہے کہ امریکہ ، افغانستان اور سب سے بڑھ کر بھارت نے پوری قوت سے دنیا کے سامنے یہ بیانیہ رکھ چھوڈا کہ افغانستان میں جنگ وجدل کا فائدہ صرف اور صرف پاکستان کو ہورہا ہے۔ یہ الزام اس کے باوجود ہم پر لگا کہ 9\11کے واقعہ کے بعد جس ملک نے سب سے زیادہ جانی ومالی نقصان اٹھایا وہ بجا طور پر پاکستان ہے۔ پاکستانی قیادت کی بدقسمتی یہ ہے کہ نہ تو اس نے روس اور افغانستان کی جنگ اپنی مرضی سے لڑی اور نہ آج اس کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوئی منعظم کوشش ہورہی ہے ۔پاکستان پر بار بار یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ طالبان کو امریکہ کے سامنے اس طرح جکڑ کر پیش کرے کہ انکل سام تاریخی فتح سے ہمکنار ہوجائے۔ ادھر حالات کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ افغانستان کی تاریخ اور اس کی موجودہ صورت حال جاننے والا کوئی بھی شخص باآسانی نہیں کہہ سکتا کہ آنے والے دنوں میںاس ملک میںکیا ہونے جارہا۔
اہل پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی شکل مٰیں جو قیمت چکائی ہے اس کی مثال جدید تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔پاکستان کی جانب سے انتہاپسند عناصر کے خلا ف ہونے والی کاروائیاں علاقائی اور عالمی سطح پر طاقت ور مسلح گروہوں کو کمزور کرنے کا باعث بنیں۔ پاکستان یقینا اس مسلہ کا اہم فریق ہے مگر یہ تاثر دینا درست نہیںکہ طالبان مکمل طور پر پاکستان کے کنڑول میں ہیں۔ بہت بہتر ہوگا کہ امریکہ بہادر حقیقت پر مبنی پالیساں تشکیل دے ۔ پاکستان پر بار بار الزام لگانے کی بجائے اگر اسلام آباد اور افغان طالبان کے درمیان اٹل روابط کے ثبوت امریکہ کے پاس ہیں تو انھیں فوری طور پر اقوام عالم کے سامنے لانے چاہیں۔
امریکہ کو بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان میں اپنی متوقع شکست کے اسباب معلوم کرنے ہونگے ۔ افغانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ انھوں نے کبھی بھی کسی قابض طاقت کے سامنے سر تسلیم خم نہیںکیا۔ بلاشبہ افغانیوں نے ہر دور میں کوشش کی کہ ان کی شناخت برقرار رہے۔ ایسے میںکیسے ممکن ہے کہ امریکی فورسز کے افغانستان میں ہونے کے باوجود عام شہریوں کی بڑی اکثریت ان کی ہمنوا سمجھی جائے۔
طالبان کے لیے بھی حالات حاضرہ کا باریک بنی سے جائزہ لینا ہوگا ، یہ سمجھنے کے لیے بقراط ہونا لازم نہیںکہ طالبان کے لیے امریکی فوجی طاقت کو شکست دینا ممکن نہیں چنانچہ صورت حال کے جوں توں رہنے سے کشت وخون کے واقعات ہوتے رہیں گے۔

Scroll To Top