” مجھے اپنی اُمّت کے لئے جس شخص سے زیادہ خطرہ لاحق ہے وہ ایک منافق آدمی ہے جس کی زبان بڑی چکڑی چپڑی مگر جس کا دل نور حکمت سے خالی ہے وہ اپنی وضاحت اور بلاغت سے لوگوں میں جوش و ولولہ پیدا کرتا ہے اور اپنی جہالت کے باعث ان کی گمراہی کا موجب بنتا ہے “حدیث نبی ﷺ

aaj-ki-baat-new
چند بنیادی حقائق ایسے ہیں جنہیں ہر مسلمان ` ہر مسلم معاشرے اور ہر مسلم مملکت کو مدنظر رکھناچاہئے۔۔۔
ایک تو رسول اکرم ﷺ کا خطبہ حج جو اپنی امت کو ان کا آخری خطبہ ثابت ہوا ۔۔۔اس میں واضح طور پر ان کی طرف سے بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی فرمادیا گیا کہ ” آج آپ کا دین مکمل ہوا اور آج سے آپ کا دین اسلام ہے۔۔۔“
اس بات کا واضح مطلب یہ ہے کہ جب یہ الفاظ آنحضرت ﷺ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے اُس وقت جو ” دین ِ اسلام “ تھا وہی ” کامل دین تھا اور اسی پر ایمان رکھنا ہر مسلمان پر واجب اور فرض ہے۔۔۔ اس وقت کے بعد جو اضافہ یا ترمیم بھی دین میں کی گئی وہ اختلافات اورتفریق کا باعث بنی۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک نہایت مستند حدیث میں فرمایا ۔۔۔
” مجھے اپنی اُمّت کے لئے جس شخص سے زیادہ خطرہ لاحق ہے وہ ایک منافق آدمی ہے جس کی زبان بڑی چکنی چپڑی مگر جس کا دل نورِ حکمت سے خالی ہے۔۔۔ وہ اپنی فصاحت اور بلاغت سے لوگوں میں جوش و ولولہ پیدا کرتا ہے اور اپنی جہالت کے باعث ان کی گمراہی کا موجب بنتا ہے۔۔۔“
(حدیث نبوی ﷺ ابو زھرہ محمد پروفیسر قانون اسلامی الازہر یونیورسٹی ۔۔۔)
دوسری یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دورِ رسالت و قیادت کے دوران ریاستِ مدینہ میں کوئی ایک شخص بھی اس بنیاد پر واجب القتل نہیں ٹھہرا کہ اس نے آنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی کی تھی۔۔۔ اور یہ امرِ واقعہ ہے کہ مدینہ میں کفار بھی بستے تھے یہودی بھی بستے تھے اور عیسائی بھی بستے تھے اور متعدد مورخین اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ لوگ اکثر آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی تعلیمات کا تمسخر اڑا یا کرتے تھے۔۔۔اگر آپ ﷺ کا تمسخر نہ اڑایا جاتا ہوتا تو قرآن حکیم میں بار بار اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی تسلی اور تشّقی کے لئے یہ کیوں کہتا کہ یہ لوگ راہِ راست پر آنے والے نہیں ان کے دلوں کے دروازے میں نے بند کئے ۔۔۔ آپ ﷺ کاکام انہیں ڈرانا اور ان تک پیغام پہنچانا تھا جو آپ ﷺ نے کردیا اور کررہے ہیں ۔۔۔؟
تیسر ی بات یہ کہ کون نہیں جانتا کہ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگانے کے معاملے میں عبداللہ ابن ابی اور اس کے پیروکار وں نے کیا گھناﺅنا کردار ادا کیا تھا۔۔۔ اس کے باوجود جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عائشہ ؓ کی معصومیت پر مہرِخداوندی ثبت کرنے کے لئے وحی نازل ہوئی تو ایسا نہیں ہوا کہ زوجہءرسول ﷺ پر بہتان تراشی کرنے والوں کو تہ تیغ کردیا کیا گیا ہو۔۔۔
اسلام بنیاد ی طور پر امن اور برداشت کا دین ہے۔۔۔ اور طاقت کا استعمال صر ف اس صورت میں واجب قرار دیا گیا ہے کہ ریاست خطرے میں ہو `دین پر یلغار ہونے کا امکان ہو یا امّت کے وجود کو کسی چیلنج کا سامنا ہو۔۔۔
ان باتوں کے ساتھ ہی ” حرمتِ رسول ﷺ“ کا معاملہ جڑا ہوا ہے۔۔۔
اس ضمن میں جو بات ذہن نشین کرنے والی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ماننے والوں اور پیروکاروں نے ازخود تجربے کی روشنی میں فیصلہ کیا کہ اگر حرمتِ رسول ﷺ کے تحفظ کو اپنے ایمان کا حصہ نہ بنایا گیا تو دشمنانِ دین مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا ایک مشغلہ بنالیں گے۔۔۔
چنانچہ مختلف ادوار میں ایسے قوانین بنائے گئے جن کا مقصد حرمتِ رسول ﷺ کی پاسداری کو یقینی بنانا تھا۔۔۔ کوئی بھی غیر تمندشخص یہ بات تک برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کے باپ کو برا بھلا کہا جائے۔۔۔ پھر یہاں تو معاملہ ایک ایسی ” ذات ِ جلیل وعظیم“ کا ہے جن کی بدولت ہم نے جانا کہ اللہ کا وجود ہے اور اللہ واحد ولاشریک ہے ` اللہ کی ہی پوری کائنات پر بادشاہی ہے۔۔۔ اسی نے ہی یہ ساری کائنات بنائی ہے۔۔۔
ہم نے اپنے نبی ﷺ کی گواہی پر اندھا یقین کیا ۔۔۔ ہم غیر مشروط ایمان لائے۔۔۔ ورنہ ہم نے اللہ کو دیکھا تو نہیں ۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ جس ذاتِ اقدس ﷺ کی بدولت ہم موحد بنے اور ہماری دائمی شناخت قائم ہوئی اس کی توہین ہم کسی بھی صورت میںبرداشت کریں۔۔۔؟

Scroll To Top