چلتے ہو تو چین کو چلیئے (تیسری و آخری قسط)

  • خود اعتمادی، خود انحصاری اور خوشحالی کے نئے امکانات روشن تر
  • چین پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے میں بھرپور کردار ادا کرے گا
  • شنگھائی کانفرنس، 130ممالک کے سربراہان اور300ملٹی نیشنل کمپنیوں کی شرکت
  • پاکستان، سعودی عرب اور چین باہمی تجارت یو ان،ریال اور روپے میں کریں گے
  • امریکی مداخلت تینوں ممالک کی قیادتوں کے عزم آگے بے اثر ثابت ہوگی

gulzar-afaqi

اس سلسلئہ تحریر کے پچھلے روز شائع ہونے والے جزو بعنوان ”پاکستان ، سعودی عرب، چین۔ مستقبل کی ایک بڑی معاشی مثلث”کو جہاں قارئین کی ایک غالب تعداد کی پذیرائی میسر آئی وہاں اسے چند حلقوں کی طرف سے تنقید سے زیادہ تنقیص کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ان میں امریکی این جی اوز کے ٹکڑوں پر چلنے والے بعض نام نہاد مصلحین، پاکستان برانڈ کے لبرل فاشسٹس اور پوش ایریاز میں آسودگی بخش گھروں میں چیمبر پریکٹس کرنے ولاے شکست خوردہ ”انقلابیوں“ کی چند ٹولیاں شامل تھیں۔ ان کے نزدیک سعودی عرب اور چین کے مابین فکری سطح پر بعد المشرقین کا سا تضاد ہے اور میرا تھیسس حقیقت کی بجائے عقیدت سے جڑا ہو اہے۔
اب جو قارئین کرام اس فقیر کے ساتھ گذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے جڑے ہوئے ہیں وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ ذاتی الزام و شنام کے کھلواڑ سے ہمیشہ گریزاں رہا ہے۔ صحافت کی حرمت اور قلم کی عصمت کا تقاضا ہے کہ ایک قلم کار اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ جذباتیت کی بجائے حقانیت کے ساتھ رشتہ وتعلق استوار رکھے۔ اسی سبب سے میں نے حقائق کی روشنی میں خطے میں رونما ہونے والی جیو سٹریٹیجکل تبدیلیوں کے حوالے سے مستقبل کے نقشے پر پاکستان ، سعودی عرب اور چین کو ایک بڑی معاشی مثلث کے طور پر نمو پاتے دیکھا ہے۔ اس ضمن میں کچھ حقائق میں پچھلے روز بیان کر چکا ہوں۔ کچھ مزید دلائل آج کی نشست میں حاضر خدمت ہیں۔
مستقبل قریب کے تناظر میں خطے میں جو پیش رفت ہونے والی ہے اس کا ایک اجمالی جائزہ تو پاک سعودی مشترکہ اقتصادی منصوبوں بابت لے لیجئے۔ سعودی حکومت گوادر میں ایک آئیل سٹی اور آئیل ریفائنری قائم کرنے والا ہے۔ مزید براں اس نے سی پیک پروجیکٹ میں بھی بھرپور شمولیت کا ارادہ بنا رکھا ہے جسے پاکستان اور چین دونوں نے ہی غیر معمولی پذیرائی بخشی ہے۔ یاد رہے سعودی اپنی اس اقتصادی پیش رفت کے لئے 50ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے والا ہے۔
اب آیئے سعودی چین معاشی تعلقات بارے کچھ بات ہو جائے۔ جو حلقے سعودی چائنا تعلقات کو محض عقیدت کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں انہیں انسانی تاریخ کے جبر کے حقیقت کا علم نہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو بعد المشرقین کو بھی قربتوں میں تبدیل کر دیا کرتی ہے۔کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہمارے حاجی صاحبان مقامات مقدمہ سے جو جائے نماز، ٹوپیاں اور تسبیحاں لاتے ہیں وہ زیادہ تر چین کی بنی ہوتی ہیں۔ آگے چلیئے۔
مارچ17میں سعودی فرما نروا نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔ جہاں میزبانوں نے ان کا تاریخی طور پر فقید المثال استقبال کیا۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ معاشی سرگرمیوں کے مقدر معاہدات کئے گئے۔ ان میں اہم ترین پروجیکٹس کا تعلق65ارب ڈالر مالیت کے الیکٹرانکس اور مینو فیکچرنگ کے شعبوں سے تھا۔ اسی دوران سعودی عرب نے چین کو ریاستی ملکیت کی اپنی آئیل کمپنی آرامکو میں شراکت داری کی دعوت دی۔ چین نے اپنی کرنسی یو ان کے ذریعے سرمایہ کاری پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ جولائی2018میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بیجنگ کا دورہ کیا۔ جس میں جہاں سعودی فرما نروا کے دورہ چین میں ہونے والے معاہدات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا وہاں انہوں نے سعودی ترقیاتی منصوبے ”وژن2030السعودیہ“ کے حوالے سے بھی چینی منصوبہ سازوں کو اعتماد میں لیا۔ اس مستقبل شناسی میں سعودی حکومت اپنی سرمایہ کاری کی ترجیحات کو بڑی تیزی سے وسیع المشربی اور ہمہ جہتی تبدیلیوں سے آراستہ کرنے جا رہی ہے ۔ اس ضمن میں سعودی عرب چاہتا ہے کہ وہ ایک طرف چین کے کثیر المقاصد بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو ( بی آر آئی) میں بھرپور شرکت کرے اور اس کے ساتھ ہی بی آر آئی سے جڑے ہوئے عظیم پروجیکٹ سی پیک میں پاکستانی شراکت داری کے ساتھ حصہ لے۔ اس ضمن میں گوادر میں سعودی عرب کی طرف سے آباد کیا جانے والا آئیل سٹی اور آئیل ریفائنری بھی بہت موثر کردار ادا کر یں گے۔
میں نے پاکستان سعودی عرب چین کے حوالے سے خطے میں جس ابھرتی ہوئی بڑی معاشی مثلث بابت گذشتہ روز اپنا تھیس پیش کیا تھا اس سلسلے میں مزید خبر دیتا چلوں کہ آنے والے ایام میں تینوں ممالک کے ماہرین اسلام آباد، ریاض اور بیجنگ میں اس حوالے سے اپنے اپنے بلیو پرنٹ پر اعلیٰ سطحی مذاکرات کرنے والے ہیں۔
اب آئیے اس سلسلہ تحریر کے اس ابتدائی اور مرکزی محرک کی طرف جو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ چین سے تعلق سے منسلک ہے جس وقت یہ سطریں آپ کے ، زیر مطالعہ ہوں گی، پاکستانی رہنما اپنے کامیاب دورہ چین سے واپس وطن پہنچ چکے ہوں گے۔
یوں تو اس دورے کی اہمیت ، افادیت اور مستقبل کے حوالے سے خطے کی صورت گری بابت بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ مگر ایک کالم کی تنگ دامنی تو فقط اختصاریے کی ہی اجازت دیتی ہے لحاظہ ہم اس نشست میں وزیر اعظم کے دورہ چین کے حوالے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے، سنگھائی کی عظیم الشان بین الاقوامی کانفرنس کی نسبت سے چینی صدر شی جن پنگ کے فرمودات اور اس اہم عالمی تقریب کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے عمران خان کی اڑھائی تین منٹ کی تقریب کے اہم نکات کا سرسری جائزہ لینے پر اکتفا کرتے ہیں۔ قارئین کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اس بین الاقوامی وسعت رکھنے والی کانفرنس میں 130ممالک کے سربراہان حکومت یا مملکت نے شرکت کی جبکہ 300سے زائد کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران کی موجودی نے اس کی اہمیت و افادیت کو چار چاند لگا دیئے۔
چینی صدر شی جنگ پنگ کے خطاب کے اہم نکات
چین پاکستان کو درپیش اقتصادی بحران سے نکالنے میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔ آنے والے ایام میں زندگی کے ہر شعبے بطور خاص معیشت ، صحت، تعلیم، زراعت، دفاع اور ٹیکنالوجی میں دونوں ملکوں میں پہلے سے موجود دو طرفہ سرگرمیوں کو مزید بڑھایا جائے گا۔ پاکستان کے لئے حسن تعاون کے چینی دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے اور ان کی وسعت میں رو ز بروز اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ چینی صدر نے دورہ پاکستان کی جانب عمران خان کی دعوت بھی قبول کر لی۔ خیال ہے وہ آئندہ برس موسم بہار میں پاکستان کے دورے پر تشریف لائیں گے۔
عمران خان کے خطاب کا خلاصہ:
پاکستان معیشت کے ہر شعبے میں ترقی کا بھرپور عزم رکھتا ہے ۔ قدرت نے ہمیں بہترین زر خیز زمین ، سارے موسم اور جفاکش افرادی قوت سے مالا مال کر رکھا ہے ۔ ہمارے ہاں دس کروڑ نوجوانوں، جن کی عمریں 35سال سے کم ہیں، کی ایک زبردست افرادی قوت موجود ہے، جو قومی وبین الاقوامی معاشی سرگرمیوں میں موثر کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ہم غریبی کے خاتمے اور کرپشن کے انسداد کے لئے چینی تجربے سے بھرپور استفادہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیہ کے اہم نکات:
چین پاکستان باہمی دوستی کو مزید مستحکم بنانے کے لئے زندگی کے تمام شعبوں میں جاری تعاون کا دائرہ مزید بڑھائیں گے۔ چین دوست ملک پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے میں بھرپور کردا ر ادا کرے گا۔ دونوں ملک دہشت گردی کی ہر قسم کے خاتمے کے لئے کوشاں رہیں گے۔ ہم مستقبل میں ڈالر کی بجائے اپنی اپنی کرنسی میں دو طرفہ تجارتی سرگرمیوں کو علمی جامہ پہنائیں گے۔
یہ ہے وزیر اعظم عمران خان کے پانچ روزہ دور ہ چین کا اجمالی جائزہ سعودی عرب کے بعد چین کے دورے کو بھی سابقہ حکومتوں کے معاشی جرائم سے پیدا شدہ اقتصادی بحران سے نکلنے کا ایک موثر وسیلہ سمجھا جا رہا ہے اس سے جہاں ہمیں ڈالر کی غلامی سے قدرے گلو خلاصی میسر آ جائے گی وہاں آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی سبکی سے بھی بچ جائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں چین پاکستان اور سعودی عرب کو امریکہ کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا مگر خطے کے یہ تینوں ممالک اپنی قیادتوں کے وژن کے مطابق ہر مشکل کا کامیابی سے سامنا کرنے میں یقینا کامیاب ٹھہریں گے۔۔

Scroll To Top