ثابت ہوا کہ وزیر اعظم کا دورہ چین درست فیصلہ تھا !

  • جلد نہیں تو مستقبل قریب میں چین کے ساتھ 15سے زائد معاہدوں کے مثبت اثرات ظاہر ہونگے
  • تاریخ میں پہلی مرتبہ چین سے ملکی زرعی شعبہ کو بہتر بنانے کے لیے تعاون کو بڑھایا جارہا۔
  • سی پیک میںپاکستان و چین دونوں کا فائدہ ہے لہذا بیجنگ اس کے لیے بھرپور تعاون کرسکتا ہے
  • عمران خان کے مخالفین طویل عرصہ سے تاثر دیتے رہے کہ پی ٹی آئی سی پیک کے خلاف ہے

zaheer-babar-logoوزیراعظم پاکستان کا دورہ چین کو بے سود کہنے والے بنیادی طور پر ان نمایاں حقائق سے نظریں چرا نے کے مرتکب ہورہے جو آج بڑی حد تک آشکار ہوچکے۔ مثلا وزیر اعظم پاکستان کے دورہ چین کے دوران 15 سے زائد معاہدوں پر دستخط ہوئے، دونوں ملکوں کے درمیان معاہدوں اورمفاہمتی یاداشتوں میں ایک دوسرے کے سیاسی، سفارتی اور اقتصادی تعاون کو سراہا گیا۔ پاکستان اور چین کی قیادت نے یہ بھی طے کیا کہ باہمی تجارت ڈالر کی بجائے اپنی کرنسی میں ڈھالی جائے گی۔ طویل عرصہ سے پاکستان اور چین کے تعلقات محض صنعتی اور ٹرانسپورٹ کے شعبہ تک محدود رہے مگر اب فصیلہ کیا گیا کہ پاکستان زرعی شعبہ میں بہتری لانے کے لیے بھی چین کے تجربات سے فائدہ اٹھائے گا ۔چین پاکستان کی خلائی ٹیکنالوجی میںمہارت میںمدد دینے کے علاوہ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھانے میں تعاون کریگا چنانچہ اس کے لیے یوتھ کمیونی کیشن کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔
یقینا وزیر اعظم پاکستان چین کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند ہیں۔ اس ضمن میںوہ ایک سے زائد بار اپنی خواہش کا اظہارک چکے ۔ جدید دنیا میں چین کا یہ کارنامہ کم نہیںکہ اس نے اپنے ستر کروڈ شہریوں کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانے کے لیے کامیاب اقدمات اٹھائے ۔ عمران خان نے بھی عوام کو پچاس لاکھ سستے گھروں کی تعمیر کا وعدہ ہے چنانچہ وزیر اعظم کی کوشش ہوگی کہ اس سلسلے میں چینی کے تجربات سے سیکھا جائے۔
وزیر اعظم پاکستان کا دورہ چین اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ رواں سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے سے مسلم لیگ ن اور اس کی ہم خیال پارٹیاں دہائی دیتی رہیںکہ پاکستان تحریک انصاف حکومت میںآکر سی پیک پر کام کی رفتار سست کرسکتی ہے۔ یہاں تک بھی کہا گیا کہ پاک چین اقتصاری داہداری منصوبے کو روکا بھی جاسکتا ہے ۔ ان قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے لازم تھا کہ عمران خان نہ صرف چین کا بھرپور دورے کریں بلکہ سی پیک کو جاری وساری رکھنے کا برملا اعلان بھی کیا جائے۔
وزیر اعظم کے دورے چین پر ایک اعتراض یہ بھی اٹھا کہ انھیںایسے موقعہ پر ملک چھوڈ کر نہیں جانا چاہے تھا جب تحریک لبیک پاکستان ملک کے کونے کونے میں پرتشدد مظاہرے کررہی تھی ۔ عدالت عظمی کے آسیہ بی بی بارے فیصلہ کو بنیاد بنا کر جو کچھ کیا جارہا تھا وہ وطن عزیز کو کسی بڑے حادثہ سے روشناس کرسکتا تھا۔ مگر اب ثابت ہوز کہ وزیر اعظم کا چین جانے کا فیصلہ درست تھا۔ عمران خان اگر دوست ملک کا دورہ عین وقت پر ملتوی کردیتے تو اس کے نتیجہ میں منفی قیاس آرائیوں کو ہو ا ملتی وہی سب سے بڑھ کر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا کہ شائد چین نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ نہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کے چین کا دورہ نہ کرنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوسکتا تھا کہ تحریک لبیک یہ دعوی کرتی کہ اس کا اجتجاج اس قدر موثر تھا کہ عمران خان اپنا دورہ ملتوی کرنے پر مجبور ہوگے۔
خارج ازامکان نہیں کہ وزیر اعظم کے دورہ چین کے فوری طور پر اثرات ظاہر نہ ہوں مگر وقت گزرنے کے ساتھ چین پاکستان میںایسے منصوبوں کے ساتھ سامنے آسکتا ہے جس کا براہ راست فائدہ عام شہریوں کو ہو۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عام لوگوں سے جو وعدے کیے ان کی تکمیل کے لیے لازم ہے کہ وہ دوست ملکوںسے بھرپور تعاون حاصل کرے۔ ملک کی معاشی صورت حال ، بڑھتی ہوئی آبادی اور خارجہ پالیسی میں مقررہ کردہ اہداف کے حصول کے لیے علاقائی ہی نہیں عالمی قوتوں سے تعلقات کو بہتر بنائے بغیر مسائل حل نہیںہونے والے۔
چین علاقائی ہی نہیں عالمی طاقت بننے کے مراحل تیزی سے طے کررہا۔ بجینگ کی بھی ضرورت ہے کہ سی پیک جیسے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان سے روابط کو بہتر بنایا جائے۔چین چاہے گا کہ امریکہ کے سے جاری کشیدگی میں پاکستان امریکہ کی بجائے چین کی جانب زیادہ جھکاو رکھے۔ شک نہیں ہونا چاہے کہ اقوام عالم کے تعلقات خالصتا مفادات پر مبنی ہوا کرتے ہیں چنانچہ سفارت کاری میں جملہ معروف ہے کہ نہ تو دوست مسقل ہوا کرتے ہیں اور نہ دشمن ۔ پاکستان کو تیزی سے بدلے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں خود کو تیار کرنا ہوگا۔ اپنے محل وقوع کو اسی طور پر بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب ہماری پالسیاں زمینی حقائق کے عین مطابق ہوں۔ سی پیک کو زیادہ سے زیادہ پاکستان کے مفادات سے ہم آہنگ کرنے کے چین سے بات کرنے میںحرج نہیں۔ اربوں ڈالر کے منصوبے سے اگرپاکستان کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا تو یہ ہماری سفارتکاری کی ایک اور بڑی ناکامی بن سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی کے بارے یہ تاثر بڑی حد نمایاں ہے کہ مذکورہ سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنے انفرادی اور گروہی مفادات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ خود چین بارے عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہے کہ وہ کرپٹ حکمرانوں سے کچھ لو اور کچھ دو کے تحت معاملات طے کرنے میں دیر نہیں لگاتا چنانچہ لازم ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سی پیک کا گہری نظر سے جائرہ لیں۔ ادھر قومی میڈیا میں ایسی خبریں آچکیں کہ ملتان میڑوبس میں مبینہ طور پر کرپشن کی گی جس میں پاکستان کے علاوہ چین میں بھی تحقیقات جارہی ہیں۔

Scroll To Top