انتظار کسی بیبرس کا 07-04-2014دوسرا حصہ

kal-ki-baat

یہاں میں واپس اُس موضوع کی طرف جاﺅں گا جس پر میں نے اپنی گزشتہ تحریر میں روشنی ڈالی تھی۔
عظیم تاریخ کو عظیم خواب جنم دیتے ہیں۔ اگر ہم آنحضرت کی پیغمبرانہ حیثیت کو الگ رکھ کر صرف آپ کی بشری شخصیت کا ہی جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہیں گے کہ نزولِ وحی سے قبل ہی آپ حجاز کی بالخصوص اور پوری انسانی تہذیب کی بالعموم حالت تبدیل کرڈالنے کا عظیم خواب دیکھ رہے تھے۔ جب تک آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی تھی اور آپ پر یہ حقیقت عیاں نہیں تھی کہ آپ خدا کے آخری پیغام کے امین بننے والے ہیں ` تب تک بھی آپ کی پوری زندگی انسانی تمدن میں ایک عظیم انقلاب لانے کے خواب میں لپٹی ہوئی تھی۔ آپ کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا جو پیغمبرانہ شان سے عاری تھا۔
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ خواب جو تاریخ تبدیل کرڈالتے ہیں قدرت کی طرف سے ہی عطا ہوتے ہیں۔ جو تاریخ مورخ واقعات کے رونما ہونے کے بعد لکھا کرتے ہیں اس تاریخ کو قدرت پہلے ہی لوحِ محفوظ پر نقش کرچکی ہوتی ہے۔ قدرت کی طرف سے پہلے ہی یہ طے ہوچکاہوتا ہے کہ کون سا بطلِ جلیل کس خواب کو سینے سے لگائے روئے زمین کے کس کونے سے نمودار ہوگا۔
اِسی ضمن میں میرا دعویٰ یہ ہے کہ اقبال ؒ اور جناح ؒ کا ایک ہی عہد میں ایک ہی سرزمین پر پیدا ہونامنشائے الٰہی کے اُس مخصوص ایجنڈے کا مظہر تھا جسے ہم پاکستان کے نام سے جانتے ہیں۔ پاکستان نے پہلے ایک خواب کے طور پر جنم لیا۔ پھر اِس خواب کی تعبیر واقعات کے ایک سلسلے کے ساتھ سامنے آتی چلی گئی۔
اپنی گزشتہ تحریر میں میں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ آج پھر ہمیں ایک خواب کی ہی ضرورت ہے جو اقبال ؒ اور جناح ؒ جیسا ہی کوئی بطلِ جلیل دیکھے اور جس کی تعبیر اس شان سے سامنے آئے کہ ساری دنیا ہمارے پرچم کو رشک اور احترام کی نظروں سے دیکھے۔
اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں اپنی تاریخ کے دو عظیم عہد ساز رجال کاذکر کروں گا۔ ایک کا نام صلاح الدین ایوبیؒ تھا اور دوسرے کا بیبرس۔
صلاح الدین ایوبی کی پیدائش جن حالات میں ہوئی وہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ اُن کے والد اپنے شہر کے کوتوال کے ڈر سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنے گھر سے فرار ہوئے۔ وہ رات بڑی تاریک تھی اور وہ جنگل بڑا گھنا اور ڈراﺅنا تھا جس میں صلاح الدین نے جنم لیا۔ اُن کے والد نے خدا سے گلہ یہ کیا کہ یہ بچہ کیسی سیاہ تقدیر کے ساتھ پیدا ہوا ہے کہ ہم اس جنگل میں یوں بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے سامنے جو بچہ آنکھیں کھول رہا تھا اس کے ہاتھوں عالمِ اسلام کی نئی تاریخ جنم لینے والی تھی اور اہل صلیب کے ظالمانہ قبضے سے بیت المقدس کو آزادی ملنے والی تھی۔
صلاح الدین ایک خواب کے ساتھ پروان چڑھے اور خود ہی اپنے خواب کی تعبیربن گئے۔ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو مشرق وسطیٰ کے دروازے نصرانی عزائم پر بند کئے جاچکے تھے۔
عین وہی زمانہ تھا جب دنیا کے دوسرے کونے سے صحرائے گوبی کا ایک چرواہا تموجن طوفان بن کر اٹھا اور چنگیز خان کے نام سے دنیا پر چھا گیا۔ اس خونخوار وحشی اور اس کے جانشینوں کے ہاتھوں عالمِ اسلام نے جو تباہی و بربادی بپا ہوتے دیکھی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ سطوت اسلامیہ کی تمام علامتیں وسطی ایشیا سے بغداد تک انسانی خون میں ڈبو دی گئیں۔ بغداد کوہلاکو خان نے 1258ءمیں تاراج کیا۔جب اس وحشی منگول سالار کی فوج ظفر موج خون کے دریا بہاتی مصر کی طرف بڑھ رہی تھی تو ایک مملوک سردار بیبرس اپنے ایک نائب سے کہہ رہا تھا۔
” میں نے بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ میں خون کے دریا میں تیر رہا ہوں۔ آسمانوں سے ایک صدا آرہی ہے ۔ میں اوپر دیکھتا ہوں تو مجھے ایک تلوار نظر آتی ہے جو میری طرف بڑھی چلی آرہی ہے۔ بیبرس ہاتھ بڑھا اوراسے پکڑ لے۔ میں آسمانی صدا سنتا ہوں۔ میں اس تلوار کو جیسے ہی پکڑتا ہوں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ آج اس تلوار کے استعمال کا وقت آگیا ہے۔ ہلاکو خان کو اس کی موت میری تلوار کی طرف لا رہی ہے۔“
تاریخ جانتی ہے کہ این جالوت کے مقام پر تاتاری فوج کا تصادم سلطان بیبرس کی تلوار کے ساتھ ہوا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس جنگ نے فتنہ ءتاتار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کچل دیا۔ بیبرس کا خواب عالمِ اسلام کے لئے حیات نو کا پیغام بن گیا۔
چند برس قبل جب میں دمشق گیا تو سب سے پہلے میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ اور سلطان بیبرس کی آخری آرام گاہوں میں دعائے مغفرت کے لئے پہنچا۔ دونوں ایک دوسرے سے چند سو گز کے فاصلے پر آخری نیند سورہے ہیں۔
اور ہمیں انتظار ہے ایک خواب کا جو کوئی ایوبی ؒ یا کوئی بیبرس ؒ دیکھے۔ رحمت الٰہی سے مجھے قوی امید ہے کہ کسی نہ کسی سینے میں یہ خواب انگڑائیاں ضرور لے رہا ہوگا۔

Scroll To Top