اہم ملکوں کے سفیروں کی تبدیلی بڑی پیش رفت

  • پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن خارجہ محاذ پر بہتری لانے میں ناکام رہیں
  • دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں نمایاں کامیابیوںکے باوجود پاکستان اپنا مقدمہ پیش نہ کرسکا

حیرت انگیز طور پر میاں نوازشریف نے وزیر خارجہ کا تقرر نہ کرکے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا

zaheer-babar-logo

ملکی خارجہ پالیسی میں دور رس اصلاحات کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ خارجہ امور کی باریک بینوں سے آشنا حضرات سالوں سے تقاضا کررہے کہ وسیع تر مفاد میں خارجہ پالیسی میں نہ صرف ٹھوس تبدیلیاں لائی جائیں بلکہ اہم ملکوں میں سفیروں کا تقرر بھی خالصتا میرٹ پر ہو۔ مقام شکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس جانب پیش رفت کرنا شروع کی ۔ تازہ پیش رفت میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ وبرطانیہ سمیت اہم ملکوں میں سفیروں کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں ڈاکڑاسد مجید خان اور لندن میں نفیس زکریا کو پاکستان کا سفیر تعینات کیا جائیگا۔ وزیر خارجہ کے بعقول ریاض اور اوٹاوا کے سفیر بھی بدلیں گے۔ “
نائن الیون کے بعد جس طرح عالمی سیاست بدل کر رہ گی اس مناسبت سے ملکی خارجہ پالیسی میںدور رس تبدیلیاں نہیں لائی جاسکیں۔ افسوس کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میںہوا جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نہ صرف ایک بڑی جنگ لڑی بلکہ اس میں کامیابی بھی حاصل کی۔ یاد رکھنا چاہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک جدید جنگی ہتھیار اور دولت کی فروانی کے باوجود افغانستان میں یقینی کامیابی تاحال ممکن نہیں بنا سکے۔ وجوہات کچھ بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ہزاروں افراد کی قربانی اور اربوں رو پے کا نقصان اٹھانے کے بعد اپنے ہاں امن کا خواب شرمندہ تعبیر کردکھایا۔مگر سوال یہ ہے کہ بطور قوم اس بے مثال کامیابی کو اقوام عالم کے سامنے کیونکر پیش نہیں جاسکا۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں کم وبیش چار سال تک وزیر خارجہ کا تقرر نہ کیا جاسکا۔ وزارت خارجہ کا قلمدان میاں نوازشریف نے اپنے پاس رکھا جس میں کوئی کامیابی تو دور البتہ ناکامیوں کی طویل فہرست سامنے آئی۔
آج دنیا کو گلوبل ویلج کا نام دیا جاتا ہے جس کی وجہ یہ کہ ہر ملک کا مفاد دوسرے سے بڑی حد تک وابستہ ہوچکا۔اب کراہ ارض پرشائد ہی کوئی ریاست موجود ہو جو تن تنہا کامیابیوں کی معراج تک جا پہنچے۔ کون نہیں جانتا کہ امریکہ اور چین جیسے ملک بھی اپنی خارجہ پالیسی اس انداز میںترتیب دے چکے کہ زیادہ سے زیادہ ملکوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرکے اپنے قومی اہداف حاصل کیے جاسکیں۔
نائن الیون کے بعد پاکستان کی اقوام عالم میں ایک بار پھر اہمیت بڑھ گی۔ امریکہ کے افغانستان پر حملے نے دنیا کی اکلوتی سپرپاور کو مجبور کردیا کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرلے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جس طرح اہم ملکوں کے سربراہان نے مملکت نے پاکستان کا دور کیا وہ بے مثال رہا۔ قومی تاریخ کا ہر طالب علم آگاہ ہے کہ تاریخ میں پہلے ایک بار روس افغانستان جنگ میں عالمی برداری کی سامنے پاکستان کی اہمیت دو چند ہوئی تو دوسری مرتبہ نائن الیون کے واقعہ نے موقعہ فراہم کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر خود کو نمایاںکرسکے۔ بلاشبہ یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ بطور قوم ہم نے کس حد تک مذکورہ دونوں موقعوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی مشکلات پر قابو پایا۔
سابق صدر مشرف کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد پی پی پی نے حکومت سنبھالی تو امید کی گی کہ اب ”جمہوری “قیادت قومی مسائل کو زیادہ زمہ داری سے حل کرکے سرخرو ہوگی مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔ سابق صدر زرداری نے ایوان صدر میں براجمان ہوکر جس طرح پی پی پی کو سیاسی طور پر کمزور کرتے ہوئے ایسے اقدمات اٹھائے کہ پارٹی کے کسی بھی مخلص ورکر کے لیے قابل قبول نہ رہے۔ پی پی پی کے دور میں ہی میمو سکینڈل سامنے آیا جس سے ملک ہی نہیں عالمی سطح پر پاکستان کو ہزیمت اٹھا نا پڑی۔ حسین حقانی جیسے کردار کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر لگا دیا گیا ،یہ اس کے باوجود ہوا کہ حسین حقانی پہلے سے امریکہ کی یونیورسٹی میںپڑھا رہے تھے۔
پی پی پی کا دور ختم ہوا تو مسلم لیگ ن نے اقتدار سنھبالا۔ میاں نوازشریف پہلے دو مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہے چنانچہ خیال کیا گیا کہ اب تجربہ کار قیادت اس انداز میں ملک کو آگے لے جائے گی کہ ایک طرف عوام کی بنیادی ضروریات پوری ہونگی تو دوسری جانب عالمی برداری میں بھی پاکستان کا نام روشن ہوگا مگر ایسا نہ ہو۔ میاں نوازشریف نے غیر ضروری طور پر بھارت کے قریب ہونے کی کوشش کی ، یہ سب کچھ اس کے باوجود ہوا کہ نئی دہلی میںنریندر مودی کی شکل میںایسا شخص برسر اقتدار آگیا جسے گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام کا زمہ دار تسلیم کیا جاتا ہے۔ میاں نوازشریف کی خارجہ پالیسی کے سب ہی بنیادی نکات ایک طرف مگر اس سوال کو جواب پی ایم ایل این کا کوئی بھی زمہ دار دینے کو تیار نہیں کہ آخر کیوں سابق وزیر اعظم آخری دم تک وزیر خارجہ تعنیات نہ کرسکے۔ خارجہ امور کے ماہرین کے بعقول میاں نوازشریف کی بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ بھی رہی کہ انھوں نے پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پر پیش کرنے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف سے جہاں دیگر اہم شبعوں میںبہتری لارہی وہی خارجہ محاذ کو بھی متحرک کیاجارہا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکہ اورلندن سمیت دنیا کے اہم ملکوںمیںسفارتکاری میںمہارت رکھنے والے ایسے لوگوں کو تعینات کرنے کی ضرورت ہے جن کے لیے صرف اور صرف ملک وملت کا مفاد مقدم ٹھرے ۔

Scroll To Top