چین کی ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز مستحکم اور ریونیو اضافے کو یقینی بنا رہے ہیں:خصوصی رپورٹ

چین کے حکومتی اعدادوشمار کے مطابق چین کے ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز نے رواں مالی سال کے ابتداعی نو مہینوں کے دوران ریونیو جنریشن کے حوالے سے ایک مستحکم ماحول کو یقینی بنایا ہے۔ رواں سال کے پہلے 9ماہ میں جنوری سے ستمبر کے دوارن ریاستی ملکیتی اداروں کے مجموعی ریونیو میں سالانہ کی بنیاد پر 11.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس حوالے سے ریاستی ملکیتی اثاثوں سے متعلق کمیشن برائے سپر ویژن اینڈ ایڈ منسٹریشن کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوارن ایک تسلسل کیساتھ ریونیو میں اضافہ ریکاڑد کیا جا رہا ہے۔ ریاستی ملکیتی اثاثوں کے کمیشن برائے ایڈ منسٹریشن اینڈ سپر ویژن کے ڈپٹی سیکرٹریپینگ ہواگونگ کا کہنا ہے کہ حالیہ چند سالوں کے دوران ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز کے منافع کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اور رواں سال کے پہلے نو ماہ میں اس منافع کی شرح میں اکیس فیصد تک ریکارڈ اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، اس طرح سے ین ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز نے ٹیکسز کی مد میں قومی خزانے میں ایک بڑا حصہ جمع کروایا ہے اور رواں سال ابتک ان انٹر پراسئز کی جانب سے1.7ٹریلین یوآن جمع کروایا گیا ہے جس کی سالانہ شرح میں 7.3فیصد کے تناسب سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دو فیصد زائد ہے۔ اسی طرح گزشتہ ماہ ستمبر کے مہینے میں قرضوں کی شرح میں چیاسٹھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران مقرر اثاثوں سے متعلق سرمایہ کاری کی شرح 1.5ٹریلین یوآن ریکارڈ کی گئی ہے، جو سالانہ کی بنیاد کی 2.7فیصد کے تناسب سے بڑھ رہی ہے، اور یوں بیشتر سرمایہ کاری کی شرح بہتر معیارِ زندگی اور رہائشی منصوبوں ، گرین ڈیویلپمنٹ اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ اسی طرح ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز کی اہلیت اور استطاعت میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اور فی کس آمدنی میں سالانہ کی بنیاد پر 12.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ یوں فی کس پیداواری شرح میں ساڑھے آٹھ فیصد سے زائد اضافہ بھی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ فینگ نے مزید واضح کیا کہ ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز کی استطاعت اور پیداوار میں اضافے کے لیے مزید ٹھوس عوامل یقینی بنائے جا رہے ہیں اور ان تمام کمپنیز کی پیداواری قوتوں کو بہتر اصلاھات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیزی سے بہتر کیا جا رہا ہے۔ اور گزشتہ چند سالوں میں ان انٹر پراےئسز کی افادیت کو جدید اصلاھات کی مدد سے بہتر سے بہترین بنایا جا رہا ہے اس طرح سے ریاستی ملکیتی انٹر پراسئز اور اور نجی انٹر پراسئز کی استطاعت کو مشترکہ کاوشوں سے 2016کے دوارن 68 فیصد تک بہتر بنایا گیا۔ اسی طرح بنیادی پالیسز سازی اورٹھوس عوامل کو ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ کیمونسٹ پارٹی آف چائینہ کے 18ویں نیشنل کانگریس کے موقع پر 38ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز کے بنیادی ڈھانچوں میں مناسب عوامل کی مدد سے ضروری تبدیلی یقینی بنائی گئی اور ان انٹر پرائسز کے فعالیت کے حوالے سے تمام امور کو سہل کیا گیا۔ ان امور کی مدد سے اکیس بلین یوآن لیبر لاگت اوراٹھارہ بلین یوآن بہتر مینجمنٹ کی مد میں بچایا گیا۔ اس طرح سے بہتر اصلاھات کی مدد سے ان انٹر پرائسز کو آزادانہ کمپنیز کی طرز پر ڈھالا جا رہا ہے تاکہ انکی فعالیت کو آزادانہ بنیاد پر چلایا جا سکے۔ اور نفع و نقسان کے حوالے سے زمہ داری کا احسا س یقینی اور اجاگر کیا جا سکے۔ اسی طرح پیداواری عوامل کے حوالے سے بھی یہ انٹر پرائسز اسی طرح خودمختار انداز میں زمہ داری کیساتھ تمام امور کو یقینی بنا سکیں اور یہ کمپنیز دیگر نجی کمپنیز کی طرز پر قوانین پر عمل درامد یقینی بنائیں اور مارکیٹ کی مسابقت کے مطابق اپنی استطاعت میں ضروری تبدیلی اور دیگر زمہ درانہ امور کو یقینی بنائیں۔ اسی طرح مسابقتی عوامل کے حوالے سے جنرل سیکرٹری برائے کمیشن برائے ایڈ منسٹریشن اینڈسپر ویژن نے واضح کیا کہ ان انٹر پرائسز کے حوالے سے تمام امور کے لیے حکومت ایک غیر جانبدار رویہ اختیار کریگا۔ اور کسی بھی قسم کی مقامی اور بین الاقوامی رکاوٹوں سے متعلق امور کو واضح کر کے آگے بڑھے گا۔ دوسری جانب کچھ میڈیا نمائندگان کا دعوی ہے کہ ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز کو نجی کمپنیز میں ضم کر کے بڑھایا جا رہا ہے اس حوالے سے فینگ نے واضح کیا کہ ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے۔ لیکن مرکزی حکومت نے ہمیشہ نے نجیہ کمپنیز کے پھیلاﺅ اور استحکام کے لیے ہمیشہ کوششوں کو جاری رکھا ہے۔ فینگ نے مزید واضح کیا کہ مشترکہ ملکیتی انٹر پرائسز ای کایسی دوہری شاہرہ کی مانند ہے جس سے طرفین کی صورت فوائد کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح سے نجی کمپنیز کو اصلاھات اور دیگر پالیسی سازی کے تحت مزید موثر انداز میں منظم کیا جا سکتا ہے اور یوں ریاستی سرمائے کو ایک موثر انداز میں نجی کیمپنیز کی بہتری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جس سے بنیادی طور پر باہمی برابری اور مشترکہ مفادات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور ایک موثر انداز میں نجی اور ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ اس حوالے سے ابتک ایک تہائی ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز امدادی کارپوریشنز کی سطع پر پہنچ چکی ہیں اور ریاستی ملکیتی انٹر پرائسز میں ایک بڑے پیمانے پر اصلاجات کے عمل کے زرےعے سے11651لیگل باڈیز کو ضم کر کے2618 نجی ملکیتی باڈیز میں منتقل کر دیا گیا ۔۔

Scroll To Top