سپریم کورٹ : دبئی میں جائیداد یں رکھنے والے 20پاکستانی طلب

  • سوئٹزرلینڈ میں پاکستانیوں کے اکاﺅنٹس بارے معلومات نہیں لی جا سکتیں، تاہم ٹیکس مقاصد کےلئے کچھ ممالک نے معلومات دینا شروع کر دی ہےں،گورنر سٹیٹ بینک
  • بیرون ممالک سے اثاثے واپس لانے کی ذمہ داری کس کی ہے،پیسہ باہر لیکر جانے والے ملک کے دشمن ہیں، 100لوگوں کے نام دیں کل بلوا لیتا ہوں،چیف جسٹس

سپریم کورٹاسلام آباد ( صباح نیوز)سپریم کورٹ نے دبئی میں جائیداد رکھنے والے 20پاکستانیوں کو طلب کر لیاطلبی اٹارنی جنرل کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست پر کی گی۔عدالت نے تمام افراد کو آئندہ جمعرات کو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ عدالتی نوٹس کی تعمیل ایف آئی اے کی ذمہ داری ہوگی چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اگر برطانیہ والے اکاﺅئنٹس ہولڈرز کے خلاف پراسیکوشن نہیں ہو سکتی تو ان سے ٹیکس لیا جائے ۔گورنر سٹیٹ بینک نے اعتراف کیاکہ سوئٹزر لینڈ میں پاکستانیوں کے اکاﺅنٹس کے بارے میں معلومات نہیں لی جا سکتیں تاہم ٹیکس مقاصد کے لیے کچھ ممالک نے اکاﺅنٹ کی معلومات دینا شروع کر دی ہے،دبئی اور سوئس بنکوں کا ڈیٹا ہمیں نہیں مل سکتا، کیونکہ برانچز وہاں کے قانون کے ماتحت ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاوئنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کاآغاز کیاتو چیف جسٹس کا چیرمین ایف بی آر سے مکالمہ میں کہنا تھا کہ سمگلنگ روکنا ایف بی آر کا کام ہے۔ بھارتی ڈی ٹی ایچ سے پاکستان صنعت کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔ ایف بی ار سمگلنگ کیوں نہیں روک پا رہا۔ کیا ایف بی ار کو پہلے سے کچھ علم ہوتا ہے عدالت نے ممبر کسٹمز کو بلا لیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ غیر ملکی اکاوئنٹس کیس میں ٹھوس پیشرفت نہیں ہو سکی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے بتایا ایک ہزار ارب کے اکاوئنٹس کا سراغ لگایا۔بیرون ملک سے اثاثے پاکستان لانے کس کی زمہ داری ہے۔ 100لوگوں کے نام دیں کل منگوا لیتا ہوں ۔پیسہ باہر لیکر جانے والے ملک کے دشمن ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ دوبئی میں جائیدادوں کے مالکان سے رابطہ ہوا ہے اصل چیز اثاثوں کی واپسی ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ بیس لوگوں کے نام بتائیں جہنیں کل طلب کیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ پیسہ لیکر جانے والوں کی نشاندہی کر لی ہے۔ دوبئی میں پراپرٹیز خریدنے والے کون ہیں۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ 150لوگوں نے دوبئی میں پراپرٹی خریداری کو تسلیم کیاہے چیف جسٹس نے سوال کیاکہ دوبئی میں پراپرٹیز کن ذرائع سے خریدی گئی ؟ ڈی جی یاف آئی اے کا کہنا تھا کہ جائیدادکی خریداری کی تحقیقات کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ان لوگوں کو بلا لیں آکر بتا دیں باہر جائیداد کیسے بنائی دوبئی میں 1000ارب کی جائیدادیں خریدی گئیں۔1000 ارب واپس آ جائیں تو ڈیم بنایا جا سکتا ہے۔ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ وبئی میں جائیداد خریدنے والے894لوگ ہیں۔ 374لوگ کہتے ہیں ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا لیا ہے،150لوگ ایسے ہیں جنہوں نے انکم ٹیکس گوشواروں میںدوبئی کی پراپرٹی ظاہر نہیں کی۔82 افراد نے پراپرٹی ملکیت سے انکار کیا ہے۔تحقیقات کی جا رہی ہیں جن لوگوں نے جواب نہیں دیا ان کے خلاف ایکشن لیں گے ان کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی سکیم کی وجہ دو ماہ کے لیے کام رک گیا تھاایمنسٹی سکیم کے بعد اب دوبارہ کام شروع کیا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیوں نہ حکومت کو سارا ریکارڈ بجھوا کر بتا دیں کہ یہ معلومات آ گئی ہیں اب حکومت اپنی سطح پر کاروائی کرے۔اس سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔ گورنر سٹیٹ بینک نے بتایاکہ حال ہی میں کئے گئے اقدامات سے ملک سے پیسہ باہر بھجوانا مشکل ہو گیا ہے۔دوبئی کی پراپرٹی رکھنے والوں پر کام ہورہا ہے۔دوبئی پراپرٹی رکھنے والوں سے بیان حلفی مانگے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت کس بات کا انتظار کر رہی ہے قانون موجود ہے تو کاروائی کریں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ قوانین میں گرفتاری نہیں ہو سکتی ۔ٹیکس حکام متعلقہ افراد کیخلاف کاروائی کرینگے ۔

Scroll To Top