حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا !

عوامی مسلم لیگ کے راولپنڈی میں ہونے والے جلسے کو انتظامیہ نے جس طرح پوری قوت سے روکا وہ دونومبر کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے ہونے والی کوششوں کے آغاز کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بادی النظر میں عمران خان کی احتجاجی تحریک سے نمٹنے کے لیے حکمران جماعت میں ان حلقوں کے موقف کو شرف قبولیت بخشا کیا گیا جو بات چیت کی بجائے طاقت کے استمال پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے سیاسی کارکنوں پر تشدد کے جس سلسلہ کا آغاز کیا اس کے اثرات ارباب اقتدار کے ساتھ خود اس سسٹم کے لیے بھی خطرناک ثابت ہونگے جس کی حفاظت کے لیے ملک کئی سیاسی جماعتیں پیش پیش رہتی ہیں۔
اب پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں یوتھ کنونشن میں پولیس کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ پنجاب میں کئی علاقوں تک پھیل چکا ۔ صوبائی انتظامیہ پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ انھیں احتجاج کرنے کی اجازت بھی دینے کو تیار نہیں۔ یقینا حزب اختلاف کی اہم سیاسی جماعت کے احتجاج کو قوت سے دبا کر حکمران جماعت کسی طور پر اچھی روایت نہیںقائم کررہی۔ اگر حکومت یہ دعوے ہے کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے تو اسے ان جمہوری قدروںکا پاس کرنے کی بھی ضرورت ہے جو اقوام عالم میںمسلمہ ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو اس رائے پر توجہ دینا ہوگی کہ وہ پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیاں روکنے کے جوں جوں طاقت کا استعمال کریگی وہ سیاسی و اخلاقی طور پر کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ وفاقی حکومت کو معاملے کا اس پہلو سے بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ محض ایک دن کے لیے ریاستی قوت کے استعمال کے بعد اس کی حمایت کس حد تک کم ہوگی۔
یہ ناممکنات میں سے نہیں رہا آنے والے دنوں میں پاکستان پیپلزپارٹی سمیت اس کی ہم خیالی سیاسی قوتیں نہتے کارکنوں پر تشدد کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔ مسلم لیگ ن قومی سیاست میں اجنبی نہیں۔ وزیراعظم میاں نوازشریف گذشتہ 35سال سے سیاست میں متحرک ہیں ۔ ان کے بھائی شہباز شریف بھی تین مرتبہ وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہوئے۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہوئی کہ مسلم لیگ ن بزور قوت پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے میدان میں آگی۔ اہل اقتدار کو یہ بتانے کی حاجت نہیں ہونی چاہئے کہ رائج نظام بدستور کمزور ہے ۔ عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہونے کا طعنہ اسے اب بھی برملا دیا جاتا ہے۔ ایسے میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کو سڑکوں پر احتجاج کے لیے مجبور کرنا حالات میں کیونکر بہتری لاسکتا ہے۔
کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے مگر درحقیقت عمران خان نے خود کو حقیقی اپوزیشن قائد کے طور پر منوا لیا ۔ پانامہ لیک پر بھرپور احتجاج کرکے پی ٹی آئی چیئرمین بدعنوانی کے خاتمے کی کوشیشوں میںاپنا بھرپور کردارادا کرتے نظر آتے ہیں۔معاملہ یہ نہیں کہ عمران خان اپنی جاری جدوجہد میں کامیاب ہونگے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ان کے علاوہ کون ہے جو پورے سیاسی عزم سے ملکی تاریخ کے اہم کرپشن سکینڈل کو نمایاں کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ پی پی پی، جمیت علماءاسلام ف، اے این پی ، ایم کیوایم اور چند علاقائی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر اپنے طرزعمل سے ثابت کیا کہ وہ بدعنوانی کا خاتمہ چاہنے کی بجائے اس میں اپنا حصہ وصول کرنے کے درپے ہیں۔
اس رائے کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے کہ اگر عمران خان پانامہ لیکس کا ایشو نہ اٹھاتے تو اعلی عدلیہ میں اس اہم مقدمہ کی سماعت نہ ہورہی ہوتی۔ دراصل اپوزیشن کا کردار یہی ہونا چاہے کہ وہ قومی مسائل کو بھرپور طور پر اٹھائے۔ قومی سیاست کا یہ پہلو کسی صورت تسلی بخش نہیں کہ بدعنوانی اب مسلہ ہی نہیںرہا۔ جمہوریت کی آڑ میں جو لوگ جمہور کے مفادات کو زک پہنچانے میں مشغول ہیں ان سے کسی قسم کی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہے۔ بظاہر بعض حلقوں نے اسی گھٹن زدہ ماحول میں رہنے کا ہی حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو محض بہتری کی خواہش کرنا کسی صورت مسئلہ کا حل نہیں بلکہ اس تمنا کو عملی شکل دینے کے لیے آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان مسلم لیگ ن بارے عام تاثر یہی ہے کہ وہ ایک بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی دوسرے بحران کو دعوت دے ڈالتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کے درپردہ بھی یہی سوچ کارفرما معلوم ہوتی ہے۔ گماں یہی ہے کہ حکمران خاندان نے فیصلہ کرلیا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے ایسا جاندار کمیشن کسی صورت تشکیل نہیںدینا جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرڈالے۔
ادھر تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے ڈالا ۔اب کہ ایک طرف عمران خان پانامہ لیکس کے خلاف اپنی احتجاجی تحریک کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب آنے والے دنوں میں عدالت عظمی اس اہم مقدمہ کی سماعت کرنے جارہی ۔ ایسا کہنا شائد درست نہ ہو مگر سڑکوںپر ہونے والے احتجاج کی عدالتی عمل کسی طور پر اہمیت کم نہیں کریگا چنانچہ آنے والے دنوں میں حکومتی پریشانی کم ہونے کا امکان نہیں ۔ ایک طرف پانامہ لیکس کا معاملہ حل طلب رہنے کا امکان ہے تو دوسری جانب عوام سے کیے گئے وعدوںکی بروقت تکمیل کا امکان روشن نہیں لہذا سرکار کے پاس ہر گزرتے لمحے کے ساتھ آپشن کم ہورہے۔

Scroll To Top