ڈاکوہر روپ میں ڈاکو ہوتا ہے 08-12-2009

این آر او نے ہماری قومی سیاست پر کتنے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں اس کا اندازہ سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے حالیہ بیان سے لگایا جاسکتا ہے جو سپریم کورٹ میں این آراو سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے موقع پر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر مرزا نے فرمایا ہے کہ ایوان صدر سے اب ہماری لاشیں ہی جائیں گی ` کسی کو ہمیں اقتدار سے ہٹانے کی ہمت نہیں۔ یہ دھواں دار بیان ” اجرک اور سندھی ٹوپی ڈے“ منانے کے موقع پر دیا گیا ہے۔ اسی موقع پر سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے یہ فرمایا ہے کہ سندھی ٹوپی کے خلاف ہر زہ سرائی کرنے والے جان لیں کہ اس کی حرمت کے پاسبان پوری طرح بیدار ہیں۔
میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ ایسے موقع پر جب ملک بجلی ` چینی ` آٹے اور اس نوعیت کے دیگر سنگین بحرانوں میں گھرا ہوا ہے ` اجرک ڈے اور سندھی ٹوپی ڈے منانے کی ضرورت اتنی شدت کے ساتھ کیوں محسوس کی گئی۔ اور پھر اس ” ثقافتی “ ضرورت کی تکمیل کے لئے ” این آر او“ کے بارے میں ہونے والی سماعت کا موقع کیوں منتخب کیا گیا۔ پاکستان کے ہر خطے کے لباس کو احترام کی نظر سے دیکھا جانا چاہئے ` مگر کیا اجرک ڈے اور سندھی ٹوپی ڈے کے بعددھوتی ڈے ` لاچاڈے ` پگڑی ڈے ` شیروانی ڈے کا سلسلہ بھی چل نکلے گا۔
میںسمجھتا ہوں کہ ڈاکو ہر روپ میں ڈاکو ہی ہوتا ہے۔ خواہ اس نے پگڑی پہن رکھی ہو یا سندھی ٹوپی۔ اور وطن عزیز میںتو سوٹ اور ٹائی پہننے والے ڈاکوﺅں کی بھی کوئی کمی نہیں۔
پاکستان کی وحدت اور سا لمیت پر ایمان رکھنے والوں کو بلوچی کارڈ ` پختون کارڈ ` سندھی کارڈیا پنجابی کارڈ کی باتیں کرکے خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں بسنے والے سترہ کروڑ مسلمانوں کی ایک مشترکہ پہچان بھی ہے۔ اور وہی پہچان ہمارے نزدیک بنیادی اہمیت کی حامل ہونی چاہئے۔
ہم ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔
ہم ایک رسول کے پیروکار ہیں۔
ہم ایک ہی سمت میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
ہمارا قرآن ایک ہے۔
ہمارا کعبہ ایک ہے۔
ہمارا پرچم ایک ہے۔
ہمارا ترانہ ایک ہے۔
ہمارا نعرہ ایک ہے۔
اللہ اکبر۔
اسی نعرے کی گونج میں محمد بن قاسم کا لشکر باب الاسلام سندھ میں داخل ہوا تھا۔
اسی نعرے کی گونج میں فجر سے عشاءتک ہم اپنے فرائض زندگی ادا کرتے ہیں۔
باقی سب کچھ باطل ہے۔
ڈاکٹر ذوالفقار کو لاشوں کا ذکر نہیںکرناچاہئے۔ آنحضرت نے تمام اہل مکہ کو معاف کردیا تھا۔

Scroll To Top