وہ کہاں جاکر سو گئے ہیں ؟ اور تیرا پاکستان بھیڑیوں اور مگر مچھوں کے حوالے کیوں کرگئے ہیں ؟

کبھی کبھی میرا دل یہ چاہے بغیر نہیں رہتا کہ میں اپنے آپ کو حالتِ خواب میں سمجھوں۔ میں سوچوں کہ یہ حقیقت نہیں ایک بھیانک خواب ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔
خدا کر ے کہ یہ بھیانک خواب ہی ہو۔ یہ پولیس جو 27اکتوبر 2016ءکو بھوکے شیروں کی طرح خواتین اورنوجوانوں پر ٹوٹ پڑی حقیقت میں اپنا وجود نہ رکھتی ہو۔ مولانا فضل الرحمان بھی حقیقت میں ایسے نہ ہوں جیسے میں نے اپنے اس بھیانک خواب میںانہیں دیکھا۔ اِس بھیانک خواب میں وہ بھوکے شیروں کی ہمت افزائی کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ڈرو نہیں۔۔۔ ٹوٹ پڑو۔۔۔ ان چلتی پھرتی آفات پر ٹوٹ پڑو جو خود کو خواتین کہتی ہیں۔ ٹوٹ پڑو ان گیڈروں پر جو خود کو ٹائیگر سمجھ بیٹھے ہیں۔
اس بھیانک خواب میں اس ملک کی باگ ڈور میں انڈر ورلڈ کے کسی ” ڈان“ کے اشارے پر قتل و غارت اور لوٹ مار کرنے والے بدمعاشوں کے ہاتھوں میں دیکھتا ہوں۔ کوئی مجھے خواجہ سعد رفیق جیسا لگتا ہے۔۔۔ اور کوئی مجھے طلال چوہدری اور عابد شیر علی جیسا لگتا ہے۔۔۔ کوئی مجھے رانا ثناءاللہ جیسا بھی لگتا ہے جن کے ہاتھ میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا نظم و نسق اور امن و امان ہے۔ میں کپکپا جاتا ہوں۔ کہیں سچ مچ ایسا نہ ہو کہ میرے پاکستان پر ان کی ہی حکومت ہو۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے اے قائد۔۔۔۔؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ تیرا پاکستان اِن لوگوں کے قبضے میں جاچکا ہو۔۔۔؟
آپ نے تو یہ ملک اِس لئے حاصل کیا تھا کہ یہاں دورِ جدید کی ایک اسلامی ریاست کے قیام کا تجربہ کیا جائے۔۔۔
اگر یہ سچ ہے میرے قائد۔۔۔ تو پھر یہ لوگ کون ہیں؟ یہ مولانا فضل الرحمان کون ہیں ؟ یہ محمود خان اچکزئی کون ہیں ؟ یہ اسفند یار ولی خان کون ہیں ؟ یہ نجم سیٹھی کون ہیں ؟ اوریہ غنڈے بدمعاش کون ہیں جو ٹی وی پر آکر قوم کو دھمکیاں دیتے ہیں۔؟
آپ کا پاکستان کہاں چلا گیا۔۔۔؟ یہ کون سا پاکستان ہے جس پر کرپشن حکمران ہے ؟ جس کی باگ ڈور مگر مچھوں کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔؟
اور وہ جوان کہاں ہیں جنہوں نے آپ کے پاکستان کی آزادی اور عظمت کے لئے 1965ءمیں اپنا خون بہایا؟
وہ کہاں جاکر سو گئے ہیں ؟
اور آپ کا پاکستان بھیڑیوں کے حوالے کیوں کرگئے ہیں ۔۔۔؟
ایسا نہیں ہوسکتا میرے قائد۔۔۔
یہ یقینا ایک ڈراونا خواب ہے۔
پاکستان کا مقدر اس قدر لرزا دینے والا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔

Scroll To Top