نواز ، مریم ، صفدر کی سزا معطلی:نیب نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

  • عدالت عالیہ نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا، اپیل کے ساتھ سزا معطلی کی درخواستیں سننے کاحکم دیا تھا، اپنے ہی حکم نامے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی، فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،نیب کی عدالت عظمیٰ سے استدعا
  • یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا

نواز ، مریم ، صفدراسلام آباد(صباح نیوز)نیب نے نوازشریف، مریم اور کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطلی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد محمد صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر 19 ستمبر کو فیصلہ سناتے ہوئے تینوں کی سزا معطل کردی تھی اور تینوں کی رہائی کا حکم دیا تھا جب کہ نیب کی جانب سے عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ قومی احتساب بیورو(نیب)نے نوازشریف،مریم اور محمد صفدر کی سزا معطلی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا 19 ستمبر کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔نیب کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے مقدمہ کے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا، ہائیکورٹ نے اپیل کے ساتھ سزا معطلی کی درخواستیں سننے کاحکم دیا تھا، ہائیکورٹ نے اپنے ہی حکم نامہ کے برخلاف درخواستوں کی سماعت کی۔نیب کی اپیل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بنچ نےاحتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو رہا کرنے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو 11، مریم کو 8 اور کیپٹن(ر)محمد صفدرکو ایک سال کی سزا سنائی تھی۔نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 13 جولائی کو لندن سے واپسی پر گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔

Scroll To Top